اسلام میں عورت کا مقام

اسلام سےپہلے دنیا کی مختلف تہذیبوں اورمختلف معاشروں میں عورت کو کیا مقام حاصل تھا؟ تاریخ عالم کا مطالعہ کیاجاۓ تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہےکہ اسلام سے پہلے دنیا کے مختلف ممالک میں عورت اپنے بنیادی حقوق سےبالکل محروم تھی: فرانس میں عورت کےبارے میں یہ تصور تھا کہ یہ آدھا انسان ہے اس لیے معاشرے کی تمام خرابیوں کا ذریعہ بنتی ہے: چین میں عورت کےبارے میں یہ تصور تھا کہ اس میں شیطانی روح ہوتی ہے لہذا یہ برائیوں کی طرف انسان کو دعوت دیتی ہے: جاپان میں عورت کے بارے میں یہ تصور تھاکہ یہ ناپاک پیدا کی گی ہے، اس لیے عبادت گاہوں سے اس کو دور رکھا جاتا تھا

ہندو ازم میں جس عورت کا خاوند مرجاتا تھا اس کو معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل نہیں سمجھاجاتا تھا اس لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے خاوند کی نعش کے ساتھ زندہ جل کر اپنے آپ کوختم کرلے، اگر وہ اس طرح نہ کرتی تو اسکو معاشرہ میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھاجاتا تھا: عیسائی دنیا میں عورت کو معرفت الہی کے راستے میں رکاوٹ سمجھا جاتا تھا عورتوں کوتعلیم دی جاتی تھی کہ کنواری رہ کرزندگی گزاریں، جبکہ مرد راہب بن کر رہنا اعزاز سمجھتے تھے: جزیرہ عرب میں بیٹی کا پیدا ہونا عار سمجھا جاتا تھا لہذا ماں باپ خود اپنے ہاتھوں سے بیٹی کو زندہ درگور کردیا کرتے تھےعورت کےحقوق اس قدر پامال کیے جاچکے تھے کہ اگر کوئی آدمی مرجاتا تو جس طرح وراثت کی چیزیں اس کی اولاد میں تقسیم ہوتی تھیں اس طرح بیوی بھی اس کی اولاد کی ملکیت میں آجاتی تھی

اگرکسی عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو مکہ مکرمہ سے باہر ایک کالی کوٹھڑی میں اس عورت کو دوسال کےلیے رکھاجاتا تھا طہارت کےلیے پانی اور دوسری ضروریات زندگی بھی پوری نہ دی جاتی تھی اگردو سال یہ جتن کاٹ کربھی عورت زندہ رہتی تو اس کا منہ کالا کرکےمکہ مکرمہ میں پھرایا جاتا، اس کےبعد اسےگھرمیں رہنے کی اجازت دی جاتی تھی

ایسے ماحول میں جبکہ چاروں طرف عورت کےحقوق کوپامال کیاجارہا تھا اللہ رب العزت نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی نعمت دیکر بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لاۓ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لا کر عورت کےمقام کو نکھارا، بتلایا کہ اۓ لوگو! اگر یہ بیٹی ہے توتمہاری عزت ہے، اگر بہن ہےتو تمہارا ناموس ہے اگر بیوی ہے تو زندگی کی ساتھی ہے،اگرماں ہے تواس کےقدموں میں تمہاری جنت ہے. مگر افسوس صد افسوس جب اس عورت کوعزت، مقام اور وقار ملا تو یہ سب کچھ بھول گئ اورآج دنیاۓ کفر سے زیادہ اسلام پرسب سے زیادہ تنقید کرنے والی آج کی تعلیم یافتہ عورت ہے

بقول کسی شاعرکے

میں نے ہی سیکھایا تھا اسے تیرچلانا

اب میرے سوا اس کا کوئی نشانہ بھی نہیں

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں