ضلع اٹک میں بولی جانے والی زبانیں

ضلع اٹک میں بولی جانے والی زبانوں میں سے دو بڑی زبانوں میں پنجابی اور پشتو شامل ہیں۔ پشتو ایک طرف تو مکھڈ کے علاقے میں بولی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف اٹک کے نواحی علاقہ چچھ میں بولی جاتی ہے۔ ان دونوں علاقوں میں پرانے رہایٗش پذیر مقامی افراد یہ بولی بولتے تھے۔ اب جبکہ موجودہ حالات میں کثیر تعداد میں سرحدی علاقوں اور افغانستان سے مہاجرین کے آنے کی صورت میں صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔اب ضلع اٹک کا کوییٗ ہی علاقہ ہوگا جہاں پشتو بولنے والے موجود نہ ہوں۔ خیر، دریاےٗ اٹک کے بعض دیہات کی مادری زبان ہی پشتو ہے۔ ان میں خیر آباد اور دریاےٗ سندھ کنارے آباد کچھ دیہات شامل ہیں۔ جبکہ باقی تمام ضلع میں پنجابی ہی بولی جاتی ہے۔  جس میں ہر دس میل کے بعد لہجے اور الفاظ کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ تبدیلی آتی جاتی ہے۔
علاقہ چچھ میں بولی جانے والی پنجابی زبان ضلع کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے۔اسی طرح بسال کی اور رنگ آباد کی پنجابی میں نمایاں فرق ہے۔پنڈی گھیب اور تلہ گنگ کی پنجابی بولی بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
مثلا بسال کے علاقے میں مٹی کے بنے پیالے کو بٹھل جبکہ رنگ آباد میں بٹْھل  اور لاوے کے اردگرد کے علاقوں میں بٹھل (زیر کے ساتھ) کہا جاتا ہے۔
اسی طرح دیگر علاقوں میں بولی جانے والی پنجابی میں بھی لفظوں کی ادایٗیگی اور ان کو کہنے کا انداز بھی علیحدہ ہے۔
مثلا اردو کے لفظ   کہاں جارہے ہو؟ کو ضلع اٹک کے مختلف علاقوں کی بولی کے مطابق اس طرح کہا جاتا ہے۔

 (بسال کے علاقے میں۔ کتھے  ویناں پیاں (کتھے پر زبر کے ساتھ
گڑھی کے علاقے میں۔ کتھے جْلے او
میانوالی اور تلہ گنگ کی سرحد والے علاقوں میں۔ کڈے ویناں پیاں
(چچھ کے علاقے میں۔ کتھے ویناں پیاں (کتھے پر زیر کے ساتھ

لفظوں کی ادایٗگی اور لہجے کے اختلافات کے باوجود ہر علاقے کی بولی ہر جگہ پر اسی طرح سمجھی جاتی ہے۔
ہر علاقے میں ان کی الگ الفاظ کی ڈکشنری بھی ہے۔ ضلع اٹک میں جتنے بھی گھر ہیں،ہر گھر میں ایک دوسرے سے مختلف بولی بولنے والے موجود ہیں کیونکہ یہ ایک قسم کی نوآبادی والا ضلع ہے۔ شہر میں مقیم افراد بھی دیگر دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ضلع اٹک میں پنجاب کے مختلف شہروں  اور پاکستان کے دیگر حصوں سے وکیل، دکاندار حضرات اور دیگر پیشہ کے لوگ آکر آباد ہوےٗ ہیں۔یہ لوگ مختلف بولیاں بولتے ہیں۔جبکہ ان مختلف علاقوں کے افراد کی موجودگی سے ایک مختلف قسم کی بولی وجود میں آرہی ہے جونہ وسطی پنجاب کی زبان ہے اور نہ کسی دیگر پنجاب کے علاقے سے مطابقت رکھتی ہے بلکہ اس کو کیمبلپوری پنجابی کہا جاےٗ تو زیادہ مناسب ہوگا جوکہ ضلع اٹک سے لیکر ترنول کے علاقے تک میں بولی جاتی ہے۔اس علاقے کی بولی کو مغربی پنجاب کی بولی کہنا بھی زیادہ مناسب ہوگا۔
انگریز لکھاریوں ایورینڈ بمفورڈ  نے اس علاقے کی پنجابی کی صرف و نحو جبکہ ڈاکٹر لیوک نے اسکی ایک ڈکشنری تیار کی جو 1898ء میں  مسٹر جے ولسن  آیٗ ایس پی  ڈپٹی کمشنر  شاہپور نے ضلع شاہ پور اور اردگرد کے نواحی علاقوں کی ایک لغت تیار کی اس میں اس ڈکشنری کو  استعمال کیا

fatehjangcity-com_9114451f-5a8b-46dd-814e-f13bc5583fc1222016152515_medium

fatehjangcity-com_b3a6c8ac-3565-4547-8dd7-24dbfcdedb0f24201616717_medium

fatehjangcity-com_539b3b00-069d-44bd-a5d4-412b244237f424201616718_medium

fatehjangcity-com_28dd6342-b7d5-450a-bf11-d23fd35ef57e24201616719_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں