ہمارا سیاسی ڈھانچہ اور جمہوریت

پاکستان میں عام انتخاب کا طریقہ کار اور زمینی حقائق دنیا کے دوسرے ممالک سے بہت مختلف ہیں کیونکہ پاکستان کا مسئلہ قوانین نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد ہے۔ جو قوانین پہلے سے موجود ہیں اگر انہی پر انحصار کرتے ہوئے مکمل طور پر ادارے اپنا کام آزادانہ طریقے سے کرنا شروع کر دیں تو چند ہی مہینوں میں پاکستان ترقی کی راہ پر چل پڑے گا لیکن افسوس تو اسی بات کا ہے کہ جنہوں نے ان پر عمل کروانا ہے وہی ان قوانین کے مجرم ہیں اور تقریباً تمام بڑے اداروں کے سربراہان کی تقرری بھی یہی لوگ کرتے ہیں۔ یہاں سے خرابی شروع ہوتی ہے کیونکہ اگر ملزم جج کی تقرری کرے گا تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کسی ایماندار شخص کو جج کی کرسی پر بیٹھا دے؟

الیکشن کمیشن کے ممبران یا چیف الیکشن کمیشن کی تقرری کا معاملہ ہو، کیا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو یہ قبول ہو سکتا ہے کہ کسی صاف شفاف اور ایماندار شخص کو لگا دیا جائے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چئیر مین نیب کو ہی دیکھ لیں، جنہوں نے سیاستدانوں سمیت بڑے بڑے مگر مچھوں کو پکڑنا ہوتا ہے، کیونکہ چھوٹی مچھلی کو تو تھانے دار ہی رگڑا لگا دیتا ہے لیکن اصل نقصان تو یہ بابو، فوجی افسران اور سیاستدان کرتے ہیں جنہوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ چئیرمین نیب کی تقر ری اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور وزیر اعظم نواز شریف نے کی۔ خورشید شاہ جس پر خود نیب میں اربوں روپے کے مقدمات ہیں اور نواز شریف اور فیملی جن پر مقدمات کی بھرمار ہے، جب یہ لوگ اپنی مرضی سے کسی کو ملازمت پر رکھیں گے تو آپ خود سوچیں کہ کیا کوئی ملازم اپنے مالک کا احتساب کرنے کی سکت رکھتا ہے؟ نہیں تو پاناما لیکس کے بعد سب تک وزیراعظم اور ان کا خاندان سلاخوں کے پیچھے ہوتا یا پھر لندن یا سعودیہ میں خود ساختہ جلا وطنی کی تیاری کر رہا ہوتا۔

ان  قوانین کو سرے سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو ایسے اختیارات نہیں دینے چاہییں، بے شک کوئی کتنا ہی پاک صاف کیوں نہ ہو۔ تمام بڑے قومی اداروں کی پالیسیاں اور ان کے سربراہان مکمل طور پر آزاد اور بااختیار ہونے چاہییں۔ کوئی وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور کسی صوبے کا وزیر اعلی کسی سرکاری افسر کی تقرری کا اختیار نہ رکھتا ہو۔ نہیں تو انتخابی اصلاحات کی جتنی مرضی  کمیٹیاں بن جائیں کچھ نہیں ہونے والا۔ یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا بلکہ یہاں سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔ اور ہمیں دوسرے مرحلے میں جانا ہے جو کہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ ہے سیاسی ورکر کی تربیت۔ لیکن کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ پورے ملک کے سیاسی کارکنوں کی۔ پاکستان میں کبھی کسی سیاسی جماعت نے اپنے کارکنوں کو جمہوری سوچ سے تیار ہی نہی کیا۔ کارکنوں کو صرف جلسے جلوس اور نعرے بازی تک ہی محدود رکھا۔ کبھی ان کو پتہ ہی نہیں چلنے دیا کہ اصل میں جمہوریت کس بلا کا نام ہے۔ ان کو کبھی بتایا ہی نہی گیا کہ عوام کے حقوق کیا ہیں اور حکمرانوں کی ذمہ داری کیا ہے۔ ہمارے ارکان اسمبلی سڑکیں اور نالیاں بنانے میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے انہوں نے عوام سے ووٹ لینے ہیں حالانکہ یہ ان کا کام بالکل نہیں ہے۔

‎اگر ہمیں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو ہمیں لوگوں کو بتانا ہو گا کہ بلدیاتی الیکشن کیا ہوتے ہیں اور ان کی ذمہ داری کیا ہے اور فوائد کیا ہیں۔ اس کے لیے ہمیں ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے جس میں ہم لوگوں کی جمہوری تربیت کر سکیں۔

‎مثال کے طور پر حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایک ایسا ادارہ قائم کرے کہ جہاں پہ لوگوں کو سیاسی تربیت دی جائے اور جس کسی نے بھی الیکشن میں حصہ لینا ہو وہ اس ادارے سے تربیت کا سرٹیفیکیٹ لے کر آئے۔ اس کے بغیر کوئی بھی وہ شخص جو کبھی پہلے پارلیمنٹ یا کسی بلدیاتی نظام کا ممبر نہ رہا ہو وہ الیکشن میں حصہ نہ لے سکے۔

‎اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک بلدیاتی وہ لوگ جو کسی بھی بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہوں ان کو بلدیاتی نظام کی تربیت  دی جائے کہ اس کا مقصد کیا ہے، ان کی ذمہ داری کیا ہے، ان کے اختیارات کیا ہیں، کام کرنے کا طریقہ کیا ہے، فنڈز کہاں سے لینے ہیں اور کہاں پر لگانے ہیں۔ دوسرا مرحلہ صوبائی اور تیسرا قومی اسمبلی کا ہو۔ یہاں پر لوگو ں کو بتایا جائے کہ صوبائی اسمبلی کا کیا کردار ہوتا ہے، کون سے ایسے محکمے ہیں جو صوبائی حکومت کے نیچے کام کرتے ہیں، صوبائی حکومت میں کون سی اور کتنی وزارتیں ہیں، وزراء کی کیا ذمہ داری ہے؛ کیونکہ بدقسمتی سے ہمارے وزراء بس ایک ہی کام کرتے ہیں کہ بس لوگوں کو نوکریوں پہ لگواتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے سارے ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔

‎وہ لوگ جو پہلی بار اسمبلی میں جاتے ہیں ان کو پارلیمنٹ کے کام کرنے کے طریقہ کار سمجھنے میں ہی چند ماہ لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ لوگ کچھ بھی کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ اس طرح وہ اپنا اور عوام کا پیسہ اور وقت دونوں ضائع کرتے ہیں کیونکہ ان کو تنخواہ تو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ہی دی جاتی ہے۔ ان کو بتایا جائے کہ اسمبلی میں قرارداد کس طرح پیش اور کس طرح پاس ہوتی ہے، قانون سازی کا طریقہ کار کیا ہے، آئین میں ترمیم کس طرح کی جاتی ہے، پارلیمانی کمیٹیاں کون سی ہوتی ہیں، ان کا کام کیا ہوتا ہے، وزیر اعلی اور اپوزیشن لیڈر  کا کیا کردار ہو تا ہے۔

‎اور پھر اسی طرح قومی اسمبلی کے امیدواروں کے لیے الگ سے تربیت ہو نی چاہیے۔ ان کو وزیراعظم، صدر اور اپوزیشن کا کردار سمجھایا جائے۔ وفاقی ادارے کون سے ہیں اور ان کے سربراہان کی تقرری کس طرح ہوتی ہے، پالیسی کون اور کس طرح بناتا ہے، جمہوریت میں فوج کا کیا کردار ہوتا ہے؛ اس کے علاوہ جتنے بھی وہ کام جن کی ذمہ داری کسی بھی طرح ان کی ہو ان کے حوالے سے ان کو مکمل تربیت  دی جائے۔

‎اور سب سے بڑھ کر ان سب  کو جو الیکشن میں امیدوار ہو، ان کو انتخابات  کے دن کی منطق سمجھائی جائے کہ الیکشن کے دن کا طر یقہ کار کیا ہے، ووٹ کس طرح کاسٹ ہوتا ہے اور پھر گنتی کس طرح ہو تی ہے، فارم 14 اور 15 کا کیا مقصد ہوتا ہے، لوگ دھاندلی کس طرح کرتے ہیں، کس طرح اس کو کم کیا جا سکتا ہے، پریزائڈننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کا کیا کردار ہوتا ہے اور یہ لوگ دھاندلی کس طرح سے کر سکتے ہیں اور کس طرح دھاندلی کے خدشے کو کم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سارے عمل کا مقصد ہماری کسی ایک سیاسی جماعت کو مظبوط کرنا یا فائدہ پہنچانا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد اپنے پورے سیاسی ڈھانچے کو مظبوط کرنا ہے۔ کیونکہ اگر سیاسی ڈھانچہ مظبوط ہو گا تو دھاندلی بھی کم ہو گی اور اس سے ہماری جمہوریت بھی مظبوط ہو گی۔ ابھی عام انتخابات میں کافی عرصہ پڑا ہے۔ اسی لیے اس موضوع کا انتخاب کیا۔ ہمیں ابھی سے شروع کرنا ہو گا تب جا کے انتخابات تک بڑی مشکل سے اس نظام کی بنیادیں پوری ہوں گی۔ باقی ڈھانچہ انتخابات کے بعد پورا کرنا ہوگا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں