زبان یار من ترکی

حج مبارک کی سعادت 2005ء میں حاصل ہویٗ۔ مدینہ شریف میں حاضری دی۔ مدینہ شریف میں حاضری کے دوران ترکوں کا سامنا ہوا۔ عنبریہ ریلوے سٹیشن دیکھا جہاں ایک قدیم ٹرین صدیوں پرانے کالے انجن کے ساتھ ایک خستہ حال ڈھانچے کی صورت میں موجود ہے۔

عنبریہ ریلوے سٹیشن ایک بڑی اور پتھروں کی بنی خوبصورت عمارت ہے۔ جس کا ایک طویل برآمدہ ہے۔برآمدہ کے اندر ریلو ے سٹیشن کے مختلف دفاتر کی کھڑکیاں ہیں۔ بہت پرانی عمارت ہے۔ ہر طرف وحشت ہے اور عمارت سے ویرانی ٹپک رہی ہے۔ گےٗ دنوں کے مسلمانوں کی عظمت پر نوحہ کناں مناظر ہیں۔اب سارے دفاتر اور برآمدہ کی کھڑکیاں گردآلود ہیں۔ عمارت ویران ہے۔ سواےٗ چند ٹورسٹ کے یہاں کویٗ نہیں ہے۔ حتی کہ ماضی کا کویٗ نوحہ کناں بھی موجود نہیں ہے۔ جس وقت میں اس قدیم برآمدے میں گیا ا س وقت ترکو ں کی ایک جماعت اس عمارت کو محمو حیرت دیکھ رہی تھی۔وہ اپنی زبان میں محمو گفتگو تھے۔ ان میں میں ہی ایک اجنبی تھا۔مگر ان کا ایک بطور مسلمان اپنا تھا۔کیونکہ ہم ایک جسد واحدہ کا حصہ ہیں۔مگر میری زبان ترکی نہیں تھی۔
زبان یار من ترکی وہ من ترکی نمی دانم
میں جب اپنے ہوٹل دارلرادی واقع سڑک باب مجید ی سے نکلا تو ہرٹیکسی والے سے عنبریہ ریلوے سٹیشن کا پوچھ رہاتھا۔میں نے ہاتھوں میں علی حافظ کی کتاب چیپٹر فرام ہسٹری آف مدینہ

اٹھا رکھی تھی۔اس میں سے نقشہ نکال کر سڑک کے کنارے دیکھنے لگا۔تو ایک پاکستانی مہربان نے مشورہ دیا کہ نقشہ سمیٹ لو اور روحانی طاقت کے بل پر رستے ڈھونڈو اس گلستان میں نہیں حد سے گزرنا اچھا
میں باب مجید سے دروازہ کے ساتھ مسجد نبویﷺ کے طویل صحن جوکہ مسجد حرم شریف کے باہر چاروں طرف پھیلے صحں میں سے گذرا۔ میرے ساتھ والدہ صاحبہ،باجی، آپا صدام اور لالہ محمد ربانی تھے۔ انہیں میں نے باب دارلسلام کے باہر مسجد علیؓ کے پاس چھوڑا۔اور خود عنبریہ ریلوے سٹیشن کی تلاش میں مرکزی ہایٗ وے کے ساتھ چلنا شروع کیا۔ تھوڑی دور مجھے ریلوے سٹیشن کی جانی پہچانی عمارت نظر آییٗ۔جس کی تصویریں میں کتاب چیپٹر ز فرام ہسٹری آف مدینہ

میں دیکھ چکا تھا۔ منزل قریب تھی اس لیے تیز تیز قدموں سے چلنا شروع کیا۔سڑک کراس کرتے وقت میر ی تقلید میں ترک بھاییٗ بھی تھے۔وہ بھی اپنے دور کی یادگار عمارت دیکھنے جارہے تھے۔اب ایک قافلہ بن گیا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد ریلوے سٹیشن کے باہر کے احاطے میں داخل ہورہے تھے۔

دور ریلوے سٹیشن کے بہت بڑے پلیٹ فارم پر اپنے دور کی عظیم ٹرین نہایت شکستہ حالت میں کھڑی تھی۔اور اپنے ماضی پہ نوحہ کناں تھی۔ یہ پہلی جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔جب سلطنت عثمانیہ ایک آٹومن ایماپٗر تھی
میری ڈایٗری میں 21 دسمبر 2004ء کے دن کا تذکرہ لکھا ہے جس دن ہم نے عنبریہ ریلوے سٹیشن دیکھا۔اس ڈایٗری کے مطابق مدینہ شریف میں یہ دوسرادن اللہ تعالی کے کرم اور حضور اکرمﷺ کے صدقے دربار رسالتﷺ میں عین گنبد خضری کے سامنے جنت البقیع کی طرف جدید چپس سے بنے مینار کے ساےٗ میں ترکوں کے درمیان بیٹھاہوا ہوں اور ترک اپنی زبان میں محو گفتگو ہیں۔
1992ء میں اپنی والدہ صاحبہ کے ساتھ حاضڑی دینے آیا تھا۔اس وقت جنت البقیع اور روضہ مبارک کے درمیان این نیم پختہ سی سڑک تھی۔اب تو ماشاء اللہ نقشہ ہی بدل گیا ہے۔جنت البقیع تک سب عمارتوں کو گراکرچپس کا نہایت نفیس۔چکنا اور چمکدار فرش ایک صحن کی صورت میں بنا دیا گیا ہے۔
درس کے بعد ہم باب عبد المجید سے باہر نکلے۔تو خواتین مصلے النساء سے آگیٗیں۔پاکستانی ہوٹل سے سری پاےٗ کھانے کے بعد باہر نکل کر ٹیکسی کی تلاش میں تھے کہ مدینہ شریف کی زیارت جاےٗ۔مجھے عنبریہ ریلوے سٹیشن دیکھنے کا شوق تھا۔ڈرایٗیور بات کو سمجھ نہیں رہاتھا۔ ہمت کرکے پیدل چل پڑے۔ ہم پاکستان ہاوٗس والی سڑک پر آگےٗ۔1992ء میں یہاں عام سی سڑک تھی۔جسے آسانی سے عبور کیا جاسکتا تھا۔ اب اس کی جگہ جدید ترین موٹروے بن گیٗ ہے۔دورویہ سڑکوں پر زناٹے سے چلنے والی گاڑیوں کا سلسلہ ہے۔ یہاں دوڑ کر سڑک عبور کرنے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔یہاں مسجد ابوبکر صدیقؓ تھی۔ یہ مسجد مخدوش حالت میں تھی۔
مسجد غمامہ سے ریلوے سٹیشن کی عمارت نظر آرہی تھی۔ میرے اندر کے سیاح والی آگ بھڑک اٹھی۔اور میں بے اختیار ریلوے سٹیشن کی طرف دوڑا۔
ریلوے سٹیشن کی عمارت بڑی گرینڈ ہے۔ بڑے بڑے پتھروں سے بنی بالکل ترکوں کی طرح مضبوط عمارت ہے۔کھڑکیاں ہیں اور طویل برآمدے مگر اندر اب خاک اڑ رہی تھی اور جگہ جگہ گھاس اگ رہی تھی۔
اگ رہاہے درودیوار سے سبزہ غالب ہم بیابان میں ہیں اور گھر میں بہار آیٗ ہے

یہاں ترکوں کی قدیم مسجد، پرانے پتھروں کی بنی خوبصورت ایک کمرے پر مشتمل ہے۔جس کے گیلری نما برآمدے میں اوپر گنبد ہیں جو نہایت مخدوش حالت میں ہیں۔ اندر سے عمارت سیاہ ہے جہاں ترکوں کا جم غفیر جمع تھا۔وہ بھی شاید اپنے شاندار ماضی پہ روتے ہوں گے۔ہم مسلمان روحانی طور پر جڑے ہوےٗ ہیں لیکن سیاسی تقسیم کے ذریعے پر بٹے ہوےٗ ہیں۔ اس کی ایک جھلک اس اجڑے ریلوے سٹیشن پر نظر آیٗ۔
تاریخ مدینہ میں لکھا ہے: ترکوں نے دمشق سے مدینہ منورہ تک ریلوے لایٗن بچھایٗ۔ جس کا باہر کی دنیا خصوصا استنبول سے رابطہ تھا۔ ریلوے لایٗن کی تعمیر 1908ء میں مکمل ہویٗ۔ منصوبہ کے مطابق ریلوے لایٗن کو مکہ۔ مدینہ اور پھر یمن سے ملایا جانا تھا۔نو سال تک اسریلوے لایٗن پر دمشق سے حجاج کرام آتے رہے۔جن میں شام، اردن، فلسطین، عراق اور ترکی کے حجاج کرام شامل تھے۔ترکی کے راستے یورپ سے رابطہ تھا۔مدینہ شریف میں اس وقت تجارت عروج پر تھی۔1917ء کا عرب انقلاب آیا جوکہ پہی جنگ عظیم کے حصہ کے طور پر نمودار ہوا۔اس میں عنبری ریلوے سٹیشن بھی تباہ کردیا گیا۔یہ ریلوے لایٗن دمشق سے مدینہ شریف تک تیرہ سو تیرہ کلومیٹر لمبی تھی۔
مدینہ شریف سے عمان کا فاصلہ آٹھ سو چوالیس کلومیٹر ہے۔ سعودی حکومت اور اردن کی حکومتیں اب دوبارہ چاہتی ہیں کہ ریل لے اس ذریعے کو بحال کیا جاےٗ۔ بہرحال میں اسی ریلوے سٹیشن کی عمارت میں بیٹھا ہوا ترکوں کے درمیان لکھ رہاتھا جوکہ متجسس نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے تھے کہ میں کیا لکھ رہاہوں۔ میں زبان حال سے کہہ رہاتھا کہ میں اپنی داستان لکھ رہاہوں جس میں ہمارا اور تمہارا افسانہ شامل ہے۔ بقول احمد فراز
لاوٗہماری زیست کے بکھرے ہوےٗ ورق
کچھ اپنا، کچھ تمہارا افسانہ رقم کریں
ایک ترک نے ٹوٹی پھوٹی عربی میں مخاطب ہوکہ کہا کہ کیف مشرف؟ کیف مشرف؟(مشرف کا کیا حال ہے؟)
ایک ترک دوسرے کو ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتا رہا تھا کہ اس نے انقرہ میں مشرف کو دیکھا تھا۔
میں ریلوے سٹیشن پی بیٹھا ترک بھایٗیوں کو دیکھ رہاتھا۔اور میرے ذہن کے پردے پر صدیوں پر محیط ترکوں کی تاریخ چل رہی تھی۔یہ سلجوقی ترک تھے جن کی اصل آماجگاہ بحیرہ حزر سے سسلی جزیرے تھی۔ یہ وہ پہلی قوم تھی جس کے خلاف یورپ کے عیسایوٗں نے پہلی صلیبی جنگ کا آغاز کیا تھا۔سمرقند میں سلجوقی ترکوں نے سلطنت کی بنیاد رکھی۔ جو یونان اور مصر تک پھیلی ہویٗ تھی۔ایشیاےٗ کوچک ان کے دایٗرہ اثر میں تھا۔حتی کہ سینٹ صوفیاء کے گرجا پر ہلالی پرچم لہرانے لگا۔پہلا ترک سلطان محمود غزنوی تھا۔جو ماورالنسل اور خراسان کا حکمران اور خلیفہ بغداد کا ودفادار تھا۔ان کے بعد ترکوں کے گڈریے بادشاہ کے دور اقتدار کا آغاز ہوا۔ طغرل بیگ جب حکمران تھا تو عراق کی حکومت ایرانیوں کے ہاتھ سے نکل کر ترکوں کے ہاتھ میں آگیٗ۔فارس کی سلطنت سے غزنوی خاندان کو بے دخل کردیا گیا۔ فتوحات پہ فتوحات کرکے رومی سلطنت کے کنارے پہنچ گےٗ۔قسطنطیہ کے حکمران کو اطاعت یا خراج کا پیغام دیا۔طغرل بیگ کی وفات کے بعد اس کا بھایٗ الپ ارسلان نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔اس کے دستوں میں لاتعداد ترک شامل تھے۔وہ آرمینیاا ور جارجیا تک کے فاتح تھے۔
عنبریہ ریلوے سٹیشن پہ جو ترک مجھے نظر آرہے تھے یہ ترکی سے آےٗ تھے۔ان کے قدموں کے نیچے وہ مقدس خاک تھی جس سے عظیم انسان اٹھے اور دنیا پر چھا گےٗ۔ترکی کا ایشیایٗ حصہ جسے اناطولیہ، ایشیاےٗ کوچک یا ارض روم بھی کہتے ہیں۔ حکمرانوں کی وفات کے بعد ان کے جانشینوں کے دور حکومت میں اناطولیہ کا سلطنت روم سے نکلنا ان کے لیے بڑا صدمہ تھا۔سلجوقی ترکوں کی سب سے بڑی فتح یروشلم کی تھی۔ دراصل رومیوں کی شکست کے بعد ترکوں نے فاطمی خلفاء پر حملہ کردیا تھا۔اس کے بعد سلجوقی ترکوں کی فلسطین میں بیس سال تک حکومت رہی۔پہلی صلیبی جنگ کا پہلا صدمہ بھی سلجوق سلطان سلیمان نے سہا۔اس کا دارلحکومت تاراج ہوا تو دارلسلطنت قونیہ میں لے آیا۔
نسیم حجازی قونیہ کے متعلق لکھتے ہیں۔ قدیم شہروں میں سے یہ بھی سلجوقی ترکوں کا دارلحکومت رہا۔مجاہدین کے قافلے قسطنطیہ کی تسخیر کے لیے نکلا کرتے تھے۔ان کے لیے یہ ایک اہم مستقر تھا۔ دوسرے یہاں اسلام کے عظیم ترین مفکر، شاعر اور شاعر مولانا جلاالدین رومی کامزار بھی ہے۔
عنبریہ ریلوے سٹیشن پہ بھی زبان یار من ترکی والا معاملہ تھا۔مگر دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ ہم محبت بھری نگاہوں کے جواب میں صرف لفظ پاکستان دہرا سکتے تھے۔اور ان کے لیے یہی کافی تھا کہ ہم پاکستانی ہیں۔غار حرا کی زیارت کے بعد جب میں اتر رہا تھا تو ترک بھایٗ چڑھ رہے تھے۔ میں نے محبت سے ہاتھ لہرا کر کہا کمال اتاترک تو ترک بھایٗیوں نے نفی میں سر ہلاکر عثمانی ترک کہا اور اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔
ان محبت کرنے والے ہلکے سبز رنگ کے سفاری سوٹ میں ملبوس ترک بھایٗیوں کو دیکھ کر بے اختیار عثمانی ترک یاد آرہے تھے جو کہ ایک عظیم ترین ثقافتی، معاشرتی اور سیاسی ورثہ ہیں۔
عثمانی ترکوں کو ایک دلچسب واقعہ کے بعد زمام اختیار ملا۔ تاریخ کے مطابق اس زمانے میں ہلاخان نے بغداد پہ قبضہ کیا۔ چند سال کے بعد ان کی فوج ایشیاےٗ کوچک پر قبضہ کرتی انقرہ تک پہنچ گیٗ۔قونیہ کے سلطان نے مقابلہ کیا۔ دونوں میں لڑانیٗ ہورہی تھی کہ خانہ بدوش ترکوں کی جماعت گزری۔ جن کے پاس ۴۴۴ سوار تھے۔ انہوں نے طاقتور فوج پر حملہ کردیا۔ اور اسے بھا گنےپر مجبور کردیا۔ جیتنے والے سلجوق حکمران نے خوش ہوکر انہیں جاگیر دے دی۔1288میں عثمان اسی جاگیر کا وارث بنا۔ جس سے عثمانی ریاست کی بنیاد رکھی گیٗ۔
پھر ترکوں کی سیاست کا اہم دور سلطان سلیم اول کے دور میں شروع ہوتا ہے۔ سلیم نے 1512ء میں یورپ کے بجاےٗ ایشیاء کا رخ کیا۔ایران کے بادشاہ اسمعیل صفوی کو شکست دی۔ اور مصر میں مملوکوں کو شکست سے دوچار کیا۔مملوک بھی زبردست قوم تھے۔جن کی سیادت شام، فلسطین اور حجاز تک تھی۔ان کے عظیم بادشاہ ملک اظاہر بیرس اور ملک اشرف قایٗت بایٗ کے دور میں مسجد نبویﷺ او ر حرم شریف کی خصوصی تعمیر ہویٗ۔
میں عنبریہ ریلوے سٹیشن پہ ان سفاری سوٹ میں ملبوس ترکوں کے چہروں میں سلطان محمد، سلیمان، مراد اور سلطان محمود جیسی ہستیاں ڈھونڈ رہاتھا۔مجھے بے اختیار ترک سلطان یاد آرہے تھے جنہوں نے خوبصور ت مسجد نبویﷺ تعمیر کی۔ جن کے دور میں گنبد خضری کو سبز رنگ سے مزین کیا گیا۔مجھے ترکی کے سلطان عبدالمجید بھی یاد آرہے تھے جنہوں نے مسجد نبویﷺ کی بھرپور تزیٗین و آرایٗش کی۔مدینہ شریف میں انہوں نے ایک قلعے اور حفاظتی دیواریں بنوایٗیں تھیں۔انہوں نے مدینہ شریف کے گرد حفاظتی دیوار بنای ٗ جس کے اندر ایک اور حفاظتی دیوار تھی۔ جس کے ایک کونے پر قلعہ بھی تھا جس کا ایک بڑا برج تھا۔1992کے حج کے دوران وہ تمام نشانیاں توسیع کی زد میں تھیں۔ وقت جیسے چلتا چلتا عنبریہ ریلو ے سٹیشن پہ رک سا گیا تھا۔
میں بے اختیار اٹھ کر اپنے ترک بھایٗیوں سے ملنا شروع ہوگیا۔میرے دل میں صدیوں کی شمع جھلملا رہی تھی۔جس کی روشنی میں صدیوں کے رواں دواں نظر آرہے تھے۔شاید ہم بھی اس بچھڑے قافلے کے فرد تھے۔ ہم اب اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔جہاں اب ترکی کے لیے یورپی یونین کی ممبری سب سے بڑا مسٗلہ بنی ہویٗ ہے۔

خوشی اور دل گرفتگی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ میرے قدم بے اختیار مسجد نبویﷺ کی طرف اٹھ رہے تھے۔رستے میں والدہ صاحبہ، باجی، آپاں صدام اور لالہ ربانی میرے منتظر تھے۔میں صدیوں کا سفر طے کرنے کے بعد واپس آیا تھا۔اب اپنے آقا دو جہاں ﷺ کی بارگاہ میں حاضری دینے کے لیے جارہا تھا۔

fatehjangcity-com_3fd78198-0b88-4ea8-9bc3-05a891723c9224201616729_medium

fatehjangcity-com_5ac8a391-4efc-4823-b78c-5a21e00e753e24201616731_medium

fatehjangcity-com_6deebea6-bcc1-42c4-a6c5-dcf7fcd9290924201616730_medium

fatehjangcity-com_33c523e1-1182-4ecf-bf93-746eed05e49224201616728_medium

fatehjangcity-com_735b1c29-fee0-4189-a785-be7c40b0308e24201616731_medium

fatehjangcity-com_abcb686c-4f25-4c91-bf7c-e5c119ae792824201616725_medium

fatehjangcity-com_c220e69e-cba9-4cbb-9ead-e1254b2cf10824201616727_medium

fatehjangcity-com_d2c891b1-a641-4a14-81fb-654e5f55660224201616732_medium

fatehjangcity-com_f6e2c1c5-4c56-4c03-ad66-aaf23db50e8724201616726_medium

fatehjangcity-com_7908c69c-3108-417a-b091-7f13270c5c1b222016152516_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں