سماجی مظاہر کی طبقاتی تقسیم

مفت میں دیکھے جا سکنے والے فیض امن میلے اور ڈیڑھ سے چار ہزار روپے ٹکٹ والے “صوفی گوسپل نائٹ” کے معیار کا فرق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہمارا این جی او زدہ دانشور طبقہ یہ تسلیم کر چکا ہے کہ کچھ چیزیں صرف اشرافیہ اور امراء کے لیے ہیں اور کچھ بچا کچھا استعمال شدہ چھان بورا کلچر “عام آدمی” کو خیرات کیا جا سکتا ہے۔

پارکنگ سے لے کر سرکاری دفتروں تک اور سیرگاہوں سے لے کر شاہراہوں تک ایک ان دیکھی طبقاتی تقسیم رائج ہے جس سے ہم سب واقف بھی ہیں اور شاید اب تسلیم بھی کر چکے ہیں کیوں کہ شاید سہولت اسی میں ہے۔ وہی ثقافت، دستکاریاں، علوم و فنون اور رسم و رواج جو ہمارا عام آدمی صدیوں سے اپنی گزر بسر سے تشکیل دیتا ہے ایک سرمایہ دار کے ہاتھ لگ کر بہت جلد اس کے ہاتھ سے نکل کر منڈی اور پھر منڈی سے ڈرائنگ روموں، تھیٹروں، شاپنگ مالوں اور الحمرا ہالوں میں سینکڑوں اور ہزاروں روپوں میں بکتا ہے۔

فیض اور جالب جس عام آدمی کے حالات پر کڑھتے تھے، جدوجہد کرتے تھے، جیلوں میں جاتے تھے اس بیچارے کو نسخہ ہائے وفا خریدنے اور ٹینا ثانی کی آواز میں”ہم دیکھیں گے” سننے کے لیے اپنی دو تین دیہاڑیاں قربان کرنی پڑیں گی۔ جن کی عمریں پبہاں بھا لنگ گئی ہیں انہیں شاید کوک سٹوڈیو سمجھنے کے لیے اپنی آمدنی میں کم از کم چھ صفروں کا اضافہ کرنا پڑے گا۔

سماجی مظاہر کی طبقاتی تقسیم ہر جگہ ہے اور ہر کوئی اسے قبول کر کے اس سے انحراف کرنے کو بدعت سمجھنے لگا ہے۔ ایک پارکنگ والے کو بھی پتہ ہے کہ گاڑی والے سے تمیز سے بات کرنی ہے اور موٹر سائیکل والا اوئے بھی سن ہی لے گا۔ ایک سیکیورٹی گارڈ کو بھی پتہ ہے کہ موٹر سائیکل والے کی جگہ گاڑی آ بھی جائے تو خیر ہے لیکن موٹر سائیکل والا گاڑی والی جگہ پر اپنی پھٹپھٹیا نہیں لگا سکتا کیوں کہ اگر ایسا ہو گیا تو کائنات کا توازن خراب ہو جائے گا۔ دکاندار کو بھی پتہ ہے کہ کب “جی جناب اور مہربانی” کہنا ہے اور کب “لینا ہے تو لو نہیں لینا تو۔۔۔۔۔ آ جاتے ہیں منہ اٹھا کر” کہنا ہے۔

ہمیں ہر فرد کو اس سے حاصل ہونے والے منافع کی شرح سے تولنے کی عادت پڑ گئی ہے اور ہم اسی پیمانے پر عزت، احترام اور خوش خلقی کا میٹھا کم یا زیادہ کرتے رہتے ہیں۔ میں نے بارہا سموسے والے کے ہاں ان دھلے سٹیل کے گلاس میں محض اس لیے پانی پیا ہے کیوں کہ میں ان دنوں سائیکل پر آیا کرتا تھا اور میری قمیص کا رنگ کالر اور کہنیوں سے اڑا ہوا تھا اور پھر اسی سموسے والے سے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر تقریباً دھلے ہوئے گلاس میں بھی پانی پیا ہے۔ شاید دو چار سال میں میں شیشے کے گلاس میں بھی پانی پیش کیے جانے کا اہل ہو جاوں۔

ہمارے اندر ایک ایسی حس پیدا ہو گئی ہے جو دور سے ہی ہمارے متوقع گاہک کی شکل، صورت، حلیہ اور سواری دیکھ کر ہمیں ہمارے Survival mode میں لے جاتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک پجیرو میں بیٹھ کرگزرنے والے کو ناکے پر کیوں نہیں روکنا اور کرسچن کالونی سے آنے والے میلے کچیلے موٹر سائیکل سواروں کو کیوں لازماًروکنا ہے۔ میڈم جی کے لیے دروازہ کھولتے ہوئے یہ احتیاط کیوں کرنی ہے کہ اس کی نظر میلے ناخنوں پر نہ پڑے اور مائی سے کیوں پوچھنا ہے کہ “کی کم اے؟” جوتے دیکھ کر ہی پتہ چل جاتا ہے کہ آنے والا کس “Range” کا گاہک ہے اور کس “Range” کا سامان دکھانے میں زیادہ سے زیادہ کتنی خوش خلقی اور کتنا وقت صرف کرنا ہے۔ ہمارے اوزان، فیتے اور سانچے طے شدہ ہیں۔

ہم نے درخت صرف وہاں لگانے ہیں جہاں سے کاروں والے نکلتے ہیں اور کوڑا صرف وہاں سے اٹھانا ہے جہاں کے مکین خوشبو لگاتے ہیں۔ کون ہیں جو صاف پانی اور سیوریج کے بغیر بھی صبر کر لیں گے اور کہاں کہاں بلاتعطل رواں دواں ٹریفک کے لیے چنگ چی اور سواری والے رکشے کا داخلہ بند کرنا ہے۔ کس کو کس سے بچانا ہے اور کس کو کس طرح بچانے کے لیے کسی اور کو دھر لینا ہے یہ ہر اچھے منتظم کے علم میں ہے۔ کون ہیں جو محض گنتی میں ایک اور کا اضافہ ہیں اور کون ہیں جن کا نام اور چہرہ وزٹنگ کارڈ کے بغیر بھی یاد رکھنا ہے۔ کس کے لیے سڑک کھولنی ہے اور کن کے لیے بند کرنی ہے۔ہم جیسوں کو تو اچھے ریستوران میں جا کر بھی ناگوار ذمہ داری سمجھا جاتا ہے اور ہمیں احساس دلایا جاتا ہے کہ شاید ہم غلط جگہ آ گئے ہیں کیوں کہ ہمارا حلیہ بتاتا ہے کہ یہاں کی چیزوں کی قیمتیں ہماری پہنچ سے باہر ہیں۔

ہم نے اکثر لوگوں کو اپنی جانب یوں دیکھتے پایا ہے کہ جیسے اشرافیہ کی مخمل میں ہم پرولتاریہ کا واحد پیوند ہیں جسے یہاں ہونا ہی نہیں چاہیئے یا شاید پیدا ہی نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ بھی بارہا سن لیا ہے کہ ہم جاہل اور گنوار ہیں اسی لیے اپنے جیسے بچے پیدا کرتے ہیں اور اپنے جیسے ہی لگتے ہیں اور تبدیلی لانے کے لیے ان کی پسندیدہ جماعت کو ووٹ نہیں ڈالتے۔اگرچہ اب میں سائیکل کی گدی سے اتر کر موٹر سائیکل کی گدی پر بیٹھ گیا ہوں اور اتوار بازار کی سستی کاٹن کی بجائے غیر اتوار بازاری کاٹن کی قمیصیں پہننے لگا ہوں اور اب مجھے ہر سائیکل والا سڑک پر اتنا ہی جاہل اور گنوار اور ٹریفک قوانین سے نابلد لگتا ہے جتنا میں 2 ڈی والوں کو لگتا ہوں، مجھے اب شاید ان سب کپ، گلاس اور پرچوں سے کراہت محسوس ہونے لگی ہے جن میں میں کبھی بڑے آرام سے پشاور سے منگائی چائے کی کھلی پتی کا بدذائقہ مرکب پی لیتا تھا لیکن پھر بھی سوال یہ ہے کہ میرے ہونے اور پہچانے اور گنے جانے کے لیے کیا میرا انسان ہونا کافی نہیں؟ مجھے اپنی اہمیت جتانے کے لیے اپنی Financial Statement ساتھ لیے کیوں گھومنا پڑ رہا ہے؟ اپنے ہی ملک کے ریستورانوں، تھیٹر ہالوں اور سیرگاہوں میں داخلے کے لیے بھی اتنے ہی ویزے اور تگ و دو کیوں ضروری ہے جتنی شاید ولایت جانے کے لیے درکار ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ مجھے تعویذ والی چائے بنانی آ گئی ہے اور پتہ چل گیا ہے کہ اپنا موبائل نمبر انگریزی میں ہی بتانا پڑے گا ورنہ کسی کو شاید ہی سمجھ آئے کیوں کہ یہاں اکثر لوگوں کا پچھتر ہے اور چورنجا۔۔۔۔ یہ بھی مانا کہ مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ جینز استری کر کے نہیں پہنتے، ٹی شرٹ کے نیچے بنیان کا مذاق اڑایا جائے گا اور شلوار قمیص کے ساتھ جوگر پہن کر میں پینڈو ہی لگ سکتا ہوں لیکن پھر بھی میں اپنا ماضی اپنے جسم سے کیسے کھرچ کر پھینک دوں؟ میں کیسے اس بات پر شرمندہ ہونا شروع کر دوں کہ ہمارے کپڑوں سے اب سے کچھ عرصہ پہلے تک بانو سوپ کی ‘بو’ آتی تھی اور میرا سارا بچپن پرچ میں چائے انڈیل کر پیتے گزرا ہے؟

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں