کیا عالمی برادری کو کشمیر نظر نہیں آتا؟

اگر ازل سے تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے کہ جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات ہے تو یہ بات بھی اٹل حقیقت ہے کہ بندوق کی نوک سے آپ کسی کی زبان تو بند کروا سکتے ہیں لیکن اس کے دل و دماغ میں جنم لینے والے نفرت سے بھرپور خیالات پر پہرہ نہیں لگا سکتے۔ قدرت نے انسان کو جو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ ظلم و جبر اور تشدد کی بدترین کارروائیوں سے بھی کوئی آپ کی سوچ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ گولیوں سے کسی کے دل میں اپنے لیے محبت نہیں بوئی جا سکتی۔ اس کی ایک جھلک جنت نظیر وادی کشمیر میں دیکھی جا سکتی ہے۔

1989 سے بھارت مسلسل انسانی حقوق کی نہ صرف پامالی کر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کی نام نہاد عالمی تنظیموں کے چہرے پر زناٹےدار تھپڑ بھی رسید کر رہا ہے۔ ایک طرف کرہ ارض پر امن کانفرنسیں ہو رہی ہیں اور دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ لڑی جا رہی ہے اور دوسری طرف اسی سرزمین پر انسانیت اپنی بقا کی بھیک مانگ رہی ہے۔

سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں
حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ
کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے
شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ

کشمیر میں تشدد کی حالیہ لہر کی وجہ ایک نوجوان برہان وانی کی شہادت ہے۔ ہندوستانی افواج نے برہان وانی کے بڑے بھائی خالد وانی کو 2010 میں تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد سکول پرنسپل مظفر وانی کے بیٹے برہان نے 15 سال کی عمر میں ہتھیار اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ برہان وانی کو گزشتہ دنوں ایک مقابلے میں شہید کر دیا گیا جس کے بعد کشمیری عوام نے برہان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرے کیے۔ ہندوستانی فوج نے مظاہرین پر تشدد کیا اور وہاں سے پورے کشمیر میں دوبارہ سے مظاہرے پھوٹ پڑے۔ اس وقت تک 100 سے زیادہ افراد کو شہید کیا جاچکا ہے۔ سینکڑوں لوگ زخمی ہیں اور یہ کارروائیاں تادمِ تحریر جاری ہیں۔ کسی امریکہ، کسی یورپ، اقوامِ متحدہ یا کسی عالمی تنظیم کی طرف سے کوئی سخت ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ قابلِ مذمت ہے، دہشتگردی کی ہر کاروائی قابلِ مذمت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ہی آسمان تلے کچھ انسان قیمتی اور کچھ اتنے سستے کیوں ہیں؟ پیرس میں دہشتگردی کی کارروائی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن آج پیرس والوں کو ہمارا کشمیر نظر کیوں نہیں آتا؟ کیسے ممکن ہے کہ دنیا کے ایک خطے میں امن و سکون ہو اور دوسرا خطہ لہولہان ہو؟ کیسے ممکن ہے کہ آپ کسی کی تباہی کو دیکھ کر خاموش رہیں، اپنی عیش و عشرت میں مصروف رہیں اور پھر اس سے یہ توقع کریں کہ وہ آپ کی تباہی پر افسو س کرے؟

نہیں، یہ ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ سال عالمی یومِ انسانی حقوق کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق 1989 سے اب تک کشمیر میں 94290 افراد کو شہید کیا گیا ہے۔ جس سے22806 خواتین بیوہ ہوئیں اور 107545 بچے یتیم ہوئے، 10167 خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور 106050 املاک کو تباہ کیا گیا۔ یہ سب کچھ کسی گمنام ملک کی طرف سے نہیں کیا گیا بلکہ جمہوریت کے عالی چیمپئین بھارت کی طرف سے ہوا۔ آخر اس پر آواز کیوں بلند نہیں کی گئی؟ کیا یہ سب انسان نہیں تھے؟ بھارت کی طرف سے تشدد کی حالیہ کارروائی انتہائی بھیانک ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق بھارتی فوج سٹیل کی ایسی گولیاں استعمال کر رہی ہے جس سے نوجوانوں کی بینائی ضائع کی جا رہی ہے۔ صرف ایک ہفتہ میں ڈاکٹرز نے 150 ایسے آپریشن کیے جس میں نوجوانوں کی آنکھ سے سٹیل کی چھوٹی گولیاں نکالی گئیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق یہ نوجوان زندگی بھر کے لیے بصارت سے محروم رہیں گے۔

یہ وہ ظلم ہے جس کے خلاف کوئی بھی آواز بلند نہیں کر رہا۔ بلکہ اگر کوئی آواز اٹھتی ہے تو اسے دبا دیا جاتا ہے۔ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے پر حمزہ علی عباسی کی فیس بک پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہ کہاں کی آزادئ اظہار رائے ہے؟ پیرس میں دہشت گردوں کی کاروائی کے بعد فیس بک پر فرانس کا جھنڈا لگایا گیا۔ آج کشمیر کے حق میں کوئی ایسی سرگرمی کیوں نظر نہیں آتی؟ میرا سوال پھر وہی ہے کہ کیا یہ سب انسان نہیں ہیں؟ پاکستان کے تمام لبرلز جو انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں آج انہیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ واقعی انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔ آخر کشمیر کے حق میں تمام مظاہرے صرف مذہبی جماعتیں کیوں کرتی ہیں؟ سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظمیں اور روشن خیال، ان سب کو کشمیر نظر کیوں نہیں آتا؟ اگر آپ کے یہ دہرے معیار جاری رہے تو یاد رکھیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک طرف نوجوانوں کو اندھا کیا جارہا ہو اور آپ خاموش رہیں اور دوسری طرف جب آپ پر مصیبت آئے تو کوئی آپ کے حق میں آواز اٹھائے۔ عالمی برادری کو انصاف کے یکساں پیمانے اپنانے ہوں گے ورنہ۔۔۔

تجھے اب کس لیے شکوہ ہے کہ بچے گھر نہیں رہتے
جو پتے زرد ہو جائیں وہ شاخوں پر نہیں رہتے
تو کیوں بے دخل کرتا ہے مکانوں سے مکینوں کو
وہ دہشتگرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رہتے

d95564b81d014bc2b25213f8e5618668_8

a-kashmiri-muslim-girl-during-a-demonstration-displays-a-photograph-of-her-elder-brother-who-was-subjected-to-enforced-disapperance-by-indian-troops-in-srinagarindian-occupied-kashmir

Amid-Isolation-Kashmiri-Take-To-Internet-to-Fight-for-Their-Freedom

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں