ریگمال

پیدل پگڈنڈی کی ریت ابھی گرم تھی۔ میرے سامنے کے افق پر پیلے گؤ کے گھی میں تلے گئے انڈے کے جیسے سرخی مائل زرد سورج کو دن بھر کی مسافت دھیرے دھیرے کھائے جا رہی تھی۔ آسمان کی چوٹی پر توے کی سی سیاہی غالب آ رہی تھی، لیکن میرے سامنے کا افق ابھی گہرا جامنی تھا۔ جہاں کوئی آدھے کوس کے فاصلے پر ببول کی جھاڑیوں میں دس بارہ گھروں کا ایک بھانڑ نظر آ رہا تھا۔
اس چھوٹی سی آبادی کے پہلو پر تندور کا دھواں اٹھتا دیکھ کر میری دن بھر کی بھوک کچھ اور بھڑک اٹھی، اور میں تیز تیز چلنے لگا۔ آسمان کے غربی چبوترے پر رات کی پہلی چنگاری سلگ چکی تھی اور میرے آبادی تک پہنچتے پہنچتے سارا آسمان تاروں سے بھر گیا۔

میں سیدھا اس تندور کے قریب پہنچا اور اس کے آس پاس کھڑی عورتوں کے جھرمٹ کو آواز دی؛ “کچھ کھانے کو ملے گا؟” “کہاں کے ہو، کہاں جاتے ہو؟”
تندور پر روٹیاں لگاتی ہوئی بھاری بھرکم عورت نے پوچھا۔ “نورنگے سے ہوں، بھورکوٹ جا رہا ہوں” میں نے ہاتھ سے دو مختلف سمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “آگے آ جاؤ، بیٹھ جاؤ”
موٹی عورت نے مجھے سر تا پا بغور دیکھ کر کہا
۔”میرے لیے آخر پہ پکانا، ہلکے انگاروں پہ۔ میں مُرکڑیں روٹی کھاؤں گا۔ میں انتظار کر لیتا ہوں، تب تک چاند بھی نکل آئے گا” میں یہ کہہ کر وہاں بیٹھے ادھیڑ عمر مرد کے قریب بیٹھ گیا جو ان عورتوں سے کچھ فاصلے پہ بیٹھا ہتھیلی پہ روٹی رکھے خاموشی سے کھا رہا تھا۔ “ایک راہگیر مدھری روٹی مانگتا ہے، دوسرے کو خستہ کی طلب ہے۔ روٹیوں بھری چنگیر راستے پہ دھر دی ہے، فرمائشیں تو آئیں گی ناں۔۔۔”
موٹی عورت لڑکیوں کے جھرمٹ کی طرف منہ پھیر کر بولی تو سبھی لڑکیاں کھلکھلا کے ہنس پڑیں۔ “مرکڑیں روٹی والے کو مہری پکا کے دے گی۔۔۔” بھاری بھرکم عورت نے اپنا قمیص نیچے کو کھینچ کر درست کرتے ہوئے کہا، اور میں پھسپھسی ہنسی ہنستا ہوا لڑکیوں کی ٹولی میں مہری کو پہچاننے لگا۔
“دانت نکالتا ہے، رات بھر پتھر کے پُڑ پہ پڑ گھومتا ہے تو اناج کا آٹا بناتی ہوں، دانتوں والے ہو تو ثابت اناج چبایا کرو ناں۔۔۔”
لڑکیوں کے غول میں سے ایک بظاہر دھان پان سی لیکن تیکھی آواز والی لڑکی مجھے مخاطب کر کے بناں رکے بولنے لگی۔
ریت پر پیر پسارے بات کرتے ہوئے وہ مچل کر پیروں کے بل بیٹھ گئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ببول کی ایک سبز شاخ تھی جسے وہ بولتے ہوئے بات کے تیور کے ساتھ حرکت دیتی تھی۔
“تم مہری ہو؟ (“ہاں”)
میں سفر میں چار پہر کی لمبی آنچ لے کے آیا ہوں، ایک مرکڑیں پکا دو، روٹی تڑخے یا دانت، بھوک مرنے کی آواز تو آئے گی ناں۔۔۔” میں نے فوراً ملتجیانہ لہجہ اختیار کر لیا۔
“کیا ہے مہری؟ تم نے بھی تو اس خریف کے بعد بھورکوٹ ہی جانا ہے، اسی راستے کا بندہ ہے، پکا کے دے دو۔۔۔” ایک اور لڑکی مہری کو چٹکی بھرتے ہوئے کہنے لگی۔ “اگر اسے دو روٹیوں کی بھوک ہوئی تو۔۔؟! دوسری تم پکا دو گی؟” مہری نے جل کر کہا تو سبھی لڑکیاں ایک بار پھر ہنسنے لگیں۔
میں نے اپنی بدحواسی چھپانے کے لیے ساتھ بیٹھے ادھیڑ عمر راہگیر کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی جو اپنا کھانا ختم کر چکا تھا۔ “مجھے چندرے کوٹ جانا ہے، تمہارا آنا بہت اچھا ہو گیا۔ بھورکوٹ تک سنگت ہو جائے گی۔۔۔” اس شخص کی عمر چالیس سے پچاس کے بیچ بیچ ہو گی، لیکن اس کے چوڑے شانے، چھاتی اور بازو کی مچھلیاں ابھی بھی کسی پہلوان کی طرح مضبوط اور توانا تھیں۔
میں لڑکیوں کے غول سے آنکھیں چرا کر اس دوسرے راہگیر سے بات کرنے کے بہانے نکالنے لگا۔
کچھ ہی وقت میں مشرق کے افق پر چاند نکل آیا۔ بھاری بھرکم عورت روٹیاں لگا کر انہیں کپڑے میں لپیٹنے لگی۔ “ہاں مہری، انگارے ہلکے کر دیے ہیں۔ اب جیسی راہگیر کہتا ہے، آ کے لگا دو روٹی۔۔۔” عورت اپنی چنگیر کو اٹھا کر تندور سے ہٹ گئی۔
مہری بناں کچھ کہے اپنی جگہ سے اٹھی اور تندور کے پہلو میں بنے سوراخ کے آگے ایک پتھر دے دیا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں کنگن تھے جو روٹی تھاپتے ہوئے چھن چھن بجتے تھے۔ اس نے دائیں ہاتھ کی کلائی پہ آٹے کی گول چپاتی سی جمائی تو اس پر اس کے کنگن کی دھاریاں سی چھپ آئیں۔ وہ تندور کی گہرائی میں روٹی جمانے کے لیے اس کے دہانے پر جھکی تو انگاروں کی سرخی مائل روشنی میں اس کا چہرہ دہکنے لگا۔ اس کا رنگ سانولا اور کٹورا سی آنکھیں تھیں۔ اس کے لانبے ناک کے ایک نتھنے میں کنگرے دار گول سنہری کوکا اور دوسرے میں نتھلی تھی۔ انگاروں کی آنچ نے اس کے تیکھے نین نقش پر کچھ اور کٹیلا سا تاثر لا دیا تھا۔
میں اس کے چہرے سے نظریں ہٹا نہیں پا رہا تھا اور وہ اپنے بے نیازانہ تیوروں سے مجھے یہ باور کرا رہی تھی کہ وہ میری تاڑ جھانک سے بے خبر ہے۔ “یہ اپنے ہاتھ کا پیسا ہوا آٹا ہے، بہت گاڑھا اور چيڑھا ہے۔ گوندھ کے کھلے میں رکھ دوں تو صحنک میں چونچ مارنے والے کوے چونچ نکال نہیں سکتے، صحنک سے چپک جاتے ہیں۔۔۔”
مہری اپنے دھیان میں روٹیاں پکاتے پکاتے، شاید مجھے مخاطب کر کے آٹے یا روٹی پر ہلکے پھلکے تبصرے کرتی رہی۔ خشک خستہ روٹی عام روٹی کی نسبت پکنے میں کچھ زیادہ وقت لیتی ہے۔
مہری تب تک پیتل کی ایک کٹوری میں اچار کی کچھ ڈلیاں رکھ کے ان پر پیاز کاٹنے لگی۔ رات کی خاموشی کچھ اور بڑھ رہی تھی۔ اس نے روٹی نکال کر اچار اور پیاز میرے سامنے لا رکھے اور تندور کے ساتھ رکھی سیاہ جلے ہوئے سرے والی ایک لٹھ اٹھا کر تندور میں پڑے انگاروں پر ایک بے وجہ ضرب لگائی، یوں تندور کے دہانے سے یکایک بہت سی چنگاریاں نکلیں اور اوپر تاروں بھرے آسمان میں غائب ہو گئیں۔ سبھی عورتیں جا چکی تھیں اور میں چاہتا تھا کہ مہری جانے سے پہلے کچھ کہے۔ میں بھی اسے شکریے کے طور پر کوئی روایتی دعائیہ جملہ نہیں کہہ سکا۔

اس رات مجھے روٹی کھا چکنے میں معمول سے کہیں زیادہ وقت لگا۔ میرے آخری لقمہ چبانے تک دوسرا راہگیر اٹھ کر کپڑوں سے ریت جھاڑ چکا تھا۔ “چاندنی کافی پھیل چکی ہے۔ اب ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔ تم پانی وانی پی لو۔۔۔” راہگیر نے ببول کے تنے کے ساتھ پڑے پانی کے گھڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔میں اور اجنبی راہگیر صحرائی پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے کافی سفر طے کر چکے تھے لیکن اس دوران ہم نے چند ایک رسمی اور تعارفی سی باتیں کی تھیں۔

ہم نے زیادہ تر فاصلہ خاموش رہ کر طے کیا تھا۔ ٹیلوں کے سفر میں سنگت کا مل جانا کچھ تو اس لیے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ اس سے سفر محفوظ تر لگنے لگتا ہے، لیکن سنگت کی ضرورت کچھ اس لیے بھی ہوتی ہے کہ آپس میں باتیں کرتے کرتے، اور ایک دوسرے کو دوہڑے ماہیے اور قصے کہانیاں سناتے سناتے مسافت بالکل سکڑ سی جاتی ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے کافی برے سنگتی ثابت ہو رہے تھے۔ چلتے چلتے میرے سنگتی مسافر نے کہا کہ وہ پیشاب کرنے کے لیے رکنا چاہتا ہے۔
وہ قریب ہی لئی کے ایک چھوٹے سے جھنڈ کے پاس اپنی دھوتی کے نچلے پلو اپنے گھٹنے پر اڑس کر بیٹھ لیا۔ میں نے ایک دقیقہ کھڑے کھڑے اس کے اٹھنے کا انتظار کیا اور پھر پگڈنڈی کے ایک طرف ٹیلے پر بیٹھ کے چاند کو تکنے لگا۔ ساتھی مسافر نے معمول سے کہیں زیادہ وقت لگا دیا تھا۔ وہ کچھ کچھ دیر بعد مڑ کر میری طرف دیکھتا اور پھر لئی کے جھنڈ میں سر نیہوڑا لیتا۔ مجھے کچھ زیادہ جلدی نہیں تھی۔ جبھی میں نے اس شخص کو آواز دینا مناسب نہیں سمجھا۔

کافی دیر کے بعد جب وہ شخص اٹھا تو وہ اتنی دیر لگا چکا تھا کہ اس دورانیے میں ہم نے ایک سوا میل کی مسافت ماپ لی ہوتی۔ “میں نے آج تک کسی شخص کو اتنا لمبا موتتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔” میں ٹیلے سے اٹھتے ہوئے اس شخص سے کہنے لگا۔ “بھائی میاں سچ پوچھتے ہو تو میں صرف اس امید پر بیٹھ گیا تھا کہ تم انتظار کر کر کے اٹھ کر اپنی راہ لو گے، میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا۔۔” اس شخص نے زرا توقف کے بعد کہا۔ “ایسی بھی کیا بات ہے میری سنگت میں۔۔۔” میں نے استفسار کیا۔ “تم لانبے قد کے آدمی ہو، پھر اتنا تیز چلتے ہو کہ مجھے تمہارے ساتھ قدم ملاتے ہوئے بھاگنا پڑتا ہے۔ مجھے کوئی جلدی نہیں۔ تم جاؤ، میں اپنی رفتار سے آؤں گا۔۔۔” اس نے کمر کے پاس سے دھوتی کا پلہ درست کرتے ہوئے کہا۔
“مجھے پہلے کہہ دیا ہوتا، میں آہستہ قدم رکھ لیتا۔ بس میرا آدھا دھیان زرا اس تندور والی لڑکی کی طرف رہ گیا تھا، مجھے خیال نہیں رہا کہ میرے ساتھ کوئی سنگتی بھی ہے۔ میں بس بے دھڑک قدم مارنے لگا تھا۔ ویسے مجھے بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔۔۔” مجھ سے تندور والی لڑکی کا سن کر وہ شخص مسکرانے لگا۔ میں نے پورے چاند کی روشنی میں پہلی بار اس شخص کو ہنستے ہوئے دیکھا۔ اس کے سبھی دانت غائب تھے۔ وہ شخص اتنا بوڑھا نہیں تھا، اس لیے مجھ سے اس کے دانت نہ ہونے پر تعجب کا اظہار کیے بناں نہ بنی۔ “تمہاری عمر کے لوگوں کا شمار بوڑھوں میں نہیں ہوتا۔ تمہاری ڈیل ڈول اب بھی مجھ جیسوں سے بھلی ہے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تمہارے دانت کہاں گئے ہیں۔ کیا کوئی بیماری لگی ہے ان کو؟” میرے اس سوال پر وہ ایک بار پھر مسکرانے لگا۔ “نہیں۔ یہ ایک الگ کہانی ہے۔۔۔” ہم دونوں ساتھ ساتھ ٹہل رہے تھے اور تیز چاندنی میں ہمارے سائے ہمارے قدموں کے نیچے دوپہری دھوپ کی طرح تیکھے اور واضح نظر آ رہے تھے۔

میرے اصرار پر اس شخص نے اپنا قصہ سنانا شروع کیا۔ ابھی بمشکل میری مسیں بھیگی تھیں جب میں نے نقب زنی کا پیشہ اختیار کیا۔ تب میری جند جان اتنی تھی کہ میں چھگی وہڑ یعنی چھ من کی گائے کو کاندھوں پہ رکھ کر قد آدم دیوار پھاند گیا کرتا تھا۔ پھرتی ایسی تھی کہ ناگ کے منہ سے منکا چرا لاتا۔ دریا کے اس پار سے ریگستان کے پھیلاؤ تک، تین چار ضلعوں میں میرا کام چلتا تھا اور میں کبھی پکڑا نہیں گیا۔

ایک بار بیساکھ کی پندرہویں یا شاید سولہویں تھی، میں شیرانے کا میلہ دیکھ کر چندرے کوٹ کی طرف واپس آ رہا تھا۔ راستے میں ایسا ہی ایک بھانڑ پڑ گیا، یہی کوئی چھ سات گھروں کا بھانڑ ہو گا۔ میں پانی پینے کے لیے وہاں رکا تو مجھے ایک گھر میں سرخ کپڑے پہنے ایک جوان عورت نظر آئی جو سر سے پیر تک سونے میں لدی ہوئی تھی۔ اس کے دائیں ہاتھ میں سونے کے تین کنگن تھے اور گلے میں سونے کا بھاری کٹمالا پہنے ہوئے تھی۔ اس کے ناک کی نتھ اور کان کے جھمکے مجھے دور سے چندھیا رہے تھے۔ اس عورت کا ملبوس اور اس کے گھر کی تازہ لیپائی پر بھڑولا مٹی سے بنائے نقش و نگار یہ صاف بتا رہے تھے کہ وہ عورت ابھی ابھی یہاں بیاہ کر آئی ہے۔ اس دور افتاد بستی کے ایک کچے گھر میں یوں سونے سے لدی پھندی عورت دیکھ کر میرے سینے پر سانپ لوٹنے لگے۔ میں نے وہ زیور چرانے کا فیصلہ کر لیا اور قریب کی ایک گھنی جھاڑی میں گھات لگا کر رات چھانے کا انتظار کرنے لگا۔ مجھے اس بات کی ٹوہ تھی کہ سونے سے پہلے وہ عورت زیور کہاں رکھتی ہے، میں شام تک ٹکٹکی باندھ کر اس عورت کو دیکھتا رہا۔ وہ ایک اونچے قد اور گٹھے ہوئے جسم والی عورت تھی۔ وہ اونٹنیوں کو پانی پلانے سے فارغ ہوئی تو آٹھ سیری موہلی سے مرچیں کوٹنے میں مگن ہو گئی، برتن مانجھ چکی تو اندر کوٹھے سے ڈھائی من کی بوری اکیلے اٹھا لائی اور چھانٹنے کے لیے چٹائی پر اناج بچھانے لگی۔ میں کچھ دیر کے لیے اس کے زیوروں کو بھول کر اس کے مضبوط شانوں اور اس کی اٹوٹ کمر کے زیر و بم میں محو ہو کر رہ گیا۔ لیکن مجھے سب سے بھلی یہ بات لگ رہی تھی کہ ایسی انتھک ہڈی کو جب نیند آتی ہے تو موت کی طرح گہری نیند آتی ہے۔ مجھے اپنا کام کافی آسان لگ رہا تھا۔ شام پڑے اس کا شوہر لکڑیوں سے لدی ہوئی اونٹنی اور کچھ چارہ لے کر آن پہنچا۔ تب تک وہ اس کے لیے کھانے کا بندوبست کر چکی تھی۔ اب میرا انتظار کافی سمٹ آیا تھا کیونکہ کھانا کھا چکنے کے کچھ دیر بعد انہیں سونے کی تیاری کرنا تھی۔ وہ اندر کوٹھے سے کھیس اور رنگلے بیل بوٹوں والے سرھانے اٹھا لائی اور اپنی اور اپنے شوہر کی کھاٹ پر بچھا دیے۔

مجھے سب سے بڑھ کر خوشگوار حیرت تب ہوئی جب اس نے اپنے سبھی زیور اتار کر وہیں اپنے سرھانے کے نیچے رکھ دیے اور اپنے شوہر کے ساتھ والے کھاٹ پر لیٹ گئی۔ مجھے توقع تھی کہ شاید وہ یہ سب کچھ کوٹھے میں کسی صندوق کے اندر رکھے گی۔ اب مجھے صندوقوں کے ساتھ جوجنے اور تالے توڑ کر بیجا شور کھڑکا کرنے کا دھڑکا نہیں رہا۔ کچھ ہی دیر میں وہ اور اس کا شوہر گہری نیند میں تھے۔ میں نے اپنی دھوتی کو ٹھیک سے کس کر لنگوٹ کی طرح باندھا اور چپ چاپ جھاڑی کی گھات سے باہر نکل آیا۔ میں دھیمے قدموں سے اس عورت کے سر پر آن پہنچا۔ وہ سرھانے کے ایک کونے پر سر رکھے سو رہی تھی اور سرھانے کے جس کونے کے نیچے زیور رکھے تھے، وہ کونہ بالکل خالی پڑا تھا۔ میں نے اپنی سی پوری صفائی اور احتیاط سے سرھانے کے نیچے ہاتھ ڈال دیا، جہاں وہ زیور ڈھونڈنے کے لیے مجھے بہت زیادہ ٹٹول کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کا کٹمالا میرے ہاتھ میں تھا۔

ایکدم مجھے وہ عورت حرکت کرتی ہوئی محسوس ہوئی اور میں نے اپنا ہاتھ وہیں سرھانے کے نیچے ہی ساکت کر لیا تاکہ وہ کروٹ بدلنے میں سرھانے کے نیچے کی حرکت کو بھانپ نہ لے۔ یکایک اس کا ہاتھ اٹھا اور اس نے آنکھیں تک کھولے بناں میری کلائی پکڑ لی۔ میں نے کلائی کو ایک زوردار جھٹکا دیا لیکن میں اسے چھڑوا نہیں پایا۔ مجھے اس عورت کی قوت کا اندازہ لگانے میں غلطی ہوئی تھی۔ میں نے اپنے تمام جسم کی طاقت کو مجتمع کر کے اپنی کلائی کو کھینچا تو وہ عورت کھاٹ سے گھسٹ کر اپنے تمام تر وزن کے ساتھ میرے ہاتھ کے ساتھ کھنچتی چلی آئی۔ میرے ہاتھ میں لوہے کی ہتھکڑی پڑ چکی تھی اور مجھے یقین ہو گیا کہ میں پکڑا جا چکا ہوں۔ “میں ہار مانتا ہوں، اب میں بھاگنے کا نہیں ہوں۔ میری کلائی چھوڑ دو۔۔۔” میں نے دھیمی آواز میں اس عورت سے کہا اور میری کلائی کے گرد سے اس کے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ جونہی اس نے میرا ہاتھ چھوڑا میرے زرد پڑ چکے ہاتھ میں یکایک خون کی گردش بحال ہوئی اور یوں لگا جیسے میرا ہاتھ اچانک آگ پر پڑ گیا ہو۔ میری کلائی پر اس کی انگلیوں کے نشان اتنے گہرے پڑے ہوئے تھے جیسے کسی آہنی ہاتھ کو آگ میں داغ کر میری کلائی پر ثبت کیا گیا ہو۔ “میرے ساتھ اندر آؤ۔۔” وہ عورت کھاٹ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور دھیمی آواز میں مجھے اپنے ساتھ کمرے میں آنے کا کہا۔

میرے بھاگ نکلنے کی کوئی بھی کوشش اب فضول تھی۔ میں خاموشی سے اس عورت کے پیچھے پیچھے کوٹھے کے اندر آ گیا۔ اس نے ایک نئے رنگلے پیڑھے کی طرف اشارہ کر کے مجھے بیٹھنے کا کہا۔ یہ ولیوے کا کوٹھا تھا جو نئے برتنوں اور ولیوے کی دوسری چیزوں کے جہیز سے بھرا ہوا تھا۔ عورت نے کمرے کی کنس سے چاٹی اور ریڑھکا اٹھا لیا، باہر پڑے مٹکے سے جاگ لگا دودھ لا کر چاٹی میں انڈیلا اور اپنی انتھک بانہوں کے زور سے گھرڑ گھرڑ ریڑھکا گھمانے لگی۔ میں پیڑھے پہ بیٹھا، بت بنا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس نے ریڑھکے سے پاؤ بھر مکھن کا ایک پیڑا کشید کیا، اور پھر چولھے میں آگ جلا کر توا دھر دیا۔ دیسی گھی میں تلی ہوئی ایک بھاری بھرکم چپاتی بنائی، اس پر مکھن کا پیڑا اور شکر دھر کے میری طرف بڑھا دیا۔ میں گہرے استعجاب کی سی کیفیت میں وہ مکھن لگی چپاتی کھانے لگا۔ جب تک میں وہ کھا چکا تب تک اس نے برتن سمیٹ کر دودھ کا ایک مٹکا لا کر میرے ہاتھ میں دے دیا۔

میں نے پوری فرمانبرداری سے وہ مٹکا لے کر پی لیا۔ میں جاننا چاہ رہا تھا کہ میرے بارے میں اس عورت کے ذہن میں کیا بات ہے۔ میں نے گھبرائے ہوئے چہرے کے ساتھ اس کی طرف ایک سوالیہ نظر اٹھائی اور اس عورت نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے کھڑے ہونے کا کہا۔ میں خاموشی سے کھڑا ہو گیا۔ میں نے ایک پل کے لیے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ملانے کی کوشش کی۔ یکایک میرے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ پڑا، جیسے کسی نے کوئی بھاری گرز میرے جبڑوں پر دے مارا ہو۔ میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور کانوں میں سیٹیاں بجنے لگیں۔ “میرا آدمی دن بھر کے کام کاج سے آرام کر رہا ہے۔ پورے تھل کی اونٹنیاں لکڑی ڈھوتے ڈھوتے تھک جاتی ہیں لیکن وہ لکڑیاں کاٹتے اور لادتے نہیں تھکتا۔ یہ میں ہوں جو اس کا زور سہتی ہوں، تم نہیں سہہ سکو گے۔ اس سے پہلے کہ میں اپنے مرد کو جگاؤں، یہاں سے دفعہ ہو جاؤ۔۔۔” مجھے اپنے آگے کے اندھیرے منظر میں اس عورت کی آواز سنائی دی جو میرے کان کی سیٹیوں میں دب رہی تھی۔ میری لنگوٹ ابھی بھی ویسے ہی کسی ہوئی تھی۔

میں نے اس گھر سے نکل کر ٹیلوں میں سرپٹ دوڑنا شروع کر دیا۔ میں کس سمت میں دوڑ رہا تھا، میں کب اور کیسے گھر پہنچا، مجھے کچھ معلوم نہیں۔ میں نے نقب زنی کا پیشہ ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس رات سے آگے دو چار دنوں میں میرے سبھی دانت ایک ایک کر کے جھڑ گئے۔ تب سے میرے گھر میں میرے لیے مدھری روٹی پکتی ہے۔میں اور اجنبی راہگیر کافی سفر طے کر آئے تھے۔ چلتے چلتے ہم پگڈنڈی کے ایک دوشاخہ موڑ پر آ کر رک گئے۔ دائیں ہاتھ کے راستے پر ایک ڈیڑھ کوس پر بھورکوٹ کی آبادی کی جھاڑیاں نظر آ رہی تھیں، راہگیر کو بائیں جانب چندرے کوٹ کی طرف جانا تھا۔

ہم نے کچھ دیر وہیں رک کر باتیں کیں اور زندگی میں سوع اتفاق سے پھر کبھی ملنے کی رسمی خواہش کا اعادہ کیا۔ راہگیر کو خداحافظ کہہ چکنے کے بعد میں نے ببول کی ایک جھاڑی سے ایک سبز شاخ توڑی، اور اس شاخ کو ہاتھ میں لیے اسے گھماتا اور اس سے کھیلتا ہوا مٹکوں مٹکوں بھورکوٹ کی پگڈنڈی پر چل پڑا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں