مظفر نگر کا محمد کبیر مہاجر

انڈیا میں مشرقی پنجاب کے آخری ضلع پونے اب ہریانہ صوبے کا حصہ بن گیا ہے۔ وہ ضلع کرنال ہے۔ اس کے ساتھ ملحقہ یوپی کا ضلع ہے۔ جس کاملحقہ ضلع مظفر نگر ہے۔مظفر نگر بڑی مردم خیز نگری ہے۔جس میں سہارن پور، دیوبند،گنگوہ موجود ہیں۔ جہاں کی خاک میں انتہاییٗ نامور ہستیوں نے جنم لیا۔ ان میں مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا اشرف علی تھانو  ی اور مولانا قاسم نانوتوی شامل ہیں۔ اسی ضلع کے اورتحصیل کے گاوٗں  سوجھڑو میں محمد کبیر نے جنم لیا۔ ذات کے رانگھڑ راجپوت تھے۔جن کے رشتہ دار گنگا کے پار بجنور کے علاقے میں تھے۔میرٹھ کے علاقے میں بھی ان کی رشتہ داریاں موجود تھیں۔ وہ بیل گاڑی میں بیٹھ کر مظفر نگر سے میرٹھ تک جاتے تھے۔ ان کی رشتہ داریاں گوڑ گاوٗں ضلع میں بھی تھیں۔جہاں کے میو راجپوت بہت مشہور تھے۔
محمد کبیر 1945ء میں انڈین آرمی میں بھرتی ہوگےٗ۔اور 1947ء میں ان کا تبادلہ رسالپور ہوگیا۔اس کے بعد وہ ضلع مظفر نگر نہیں گےٗ۔
انہیں فتح جنگ میں اپنے حصہ میں پرانی پانی والی گلی میں مکان الاٹ ہوا۔ الاٹمنٹ کرنے والا افسر رشوت مانگتا تھا۔ جس کو دینے کے لیے محمد کبیر تیار نہیں تھا۔ جس کے نتیجے میں اسے مکان الاٹ نہیں ہوا۔
فوج کی ملازمت کے دوران ہی محمد کبیر ایک فوجی ایکسر سایٗز کے لیے فتح جنگ کے قریب کہیں آےٗ ہوےٗ تھے۔ فوجی کیمپ سے ڈاک اور دوسرا سامان زندگی فتح جنگ سے لانے کے لیے موٹر سایٗیکل پر آتے جاتے تھے۔اور بندوخان کی دوکان سے پان وغیرہ خریداکرتے۔ یہیں محمد کبیر کا چاچے بندوخان سے تعارف ہوا۔
بندوخان کا تعلق بھی میرٹھ سے تھا۔ چاچے بندو کو جب محمد کبیر کے اندرونی دکھ کا معلوم ہواکہ کبیر کے والدین اور بھاییٗ بہن تو انڈیا میں ہی رہ گےٗ ہیں۔ جس کا1 سے بہت دکھ تھا۔ چاچے بندو نے اس کا دکھ کم کرنے کی کوشش کی  اور اپنی بھانجی جوکہ بابا اسحاق کی بیٹی تھی، اس کا رشتہ محمد کبیر کو دے دیا۔
کبیر کی زندگی کو کسی حد تک سہارا مل گیا۔ اسی دوران اس  کی بہن بھایٗیوں سے خط و  کتابت  جاری رہی۔ جب اس کا باپ فوت ہوا تو وہ نہیں جاسکا۔ والدہ فوت ہوییٗ اور بھاییٗ کے فوت ہونے پر بھی محمد کبیر انڈیا نہ جاسکا۔ یہ جداییٗ کے سارے دکھ سینے میں سہتا رہا۔اسی دوران فوج کی نوکری کی مدت پوری ہوگیٗ۔اور 1968ء میں ریٹایرڈ ہوکر فتح جنگ آگیا۔
پہلے کریانہ کی دوکان ڈالی جوکہ ناتجربہ کاری کی نذر ہوگیٗ تو اسی دوکان کے تھڑے پر شامی کباب بناکے بیچنے شروع کردیے۔
۰۷۹۱ء میں جب قراقرم ہایٗ وے بننی شروع ہویٗ تو کسی دوست نے وہاں بھرتی کرادیا۔مزدوری کے دوران عبدالمجید مستری نے ۰۷ روپے دیے جن میں اٹھارہ روپے رکھ کر باقی گھر بھیج دیے۔
عبدالمجید مستری نے کام کے ساتھ ساتھ دال آٹا بھی دینے کا وعدہ کیا۔ مگر محمد کبیر نے اسے لینے سے انکار کردیا۔اس کے بیٹے سکول جانے سے پہلے سبزی منڈی میں سبزی کے ٹوکرے اٹھا کر مزدوری کیا کرتے تھے۔ جس  سے جو مزدور ی حاصل ہوتی  اس سے اپنا چولہا گرم رکھتے۔

محمد کبیر انتیس سال نوکری کرنے کے بعد 1999ء میں  قراقرم  ہایٗ وے سے ر ییٹایرڈ ہوےٗ،اور 1970ء میں جو چارسو روپے کا کھوہ تین مرلے کا لیا تھا اس میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہوگےٗ جہاں ان کی فیملی تاحال مقیم ہے۔
میں اور یوسف بھٹی مہاجروں کی گلی میں محمد کبیر سے ملنے گےٗ ۔ محمد کبیرباہر نکلا تو ہاتھ میں درود شریف کی کتاب اٹھایٗ ہویٗ تھی۔ محمد کبیر کو میں نے مسجد میں نہایت طویل قیام اور سجدے کرتے دیکھا۔
اس کی جسمانی ساخت سیاہی مایٗل رنگ،کرنجی آنکھیں۔ نہایت دھیمی اور مغموم آواز اور چہرے سے سجدوں کا تقدس ٹپک رہاہوتا۔سر پر گاندھی ٹوپی اور اوپر سفید چادریں لیے ہوتے۔میں اور یوسف بھٹی ریاض ہوٹل میں اکٹھی چاےٗ اور پکوڑے کھلانے کے لیے لے گےٗ تو محمد کبیر نے فرمایا

کبیرا!تیری جھونپڑی گل کٹوں (قصاب)کے پاس
جوکر ے گا سو بھرے گا
پگلے تو کیوں ہے اداس

چکی کو چلتا دیکھ کے محمد کبیر بہت رویا
دو پاٹوں کے بیچ میں باقی بچے نہ کو
پر ایک بچیسی جیہڑا کلی نال ریا کھلو

محمد کبیر ویران آنکھوں سے کہہ رہاتھا کہ وطن کے لیے کیا کیا خواب بساےٗ تھے۔پہلے آتے ہی الاٹمنٹ کے لیے رشوت خور کا سامنا۔پھر ماں باپ سے دوری اور پھر ان سب بہن بھایٗیوں کا بچھڑنا  اور پھر ان کا فوت ہوجانا۔ ان کی جب یا د آتی ہے تو ساری دنیا اور اسکی رونقوں سے دل اچاٹ ہوجاتا ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں