ماڑی مصراں

مندر کے علاوہ فتح جنگ میں ہندوؤں کی ایک اہم رہائشی عمارت تھی جسے ماڑی مصراں کہتے تھے کبھی آباد تھی۔

اس عمارت کا تذکرہ راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ گز ٹیئر 1893ء میں ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ خوبصورت عمارت چھوٹی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی جو اس وقت کے رئیس لالہ رام جی مل نے بنوائی تھی امتداد زمانہ سے عمارت اب گر چکی ہے ہندوؤں میں برہمن ذات کے وہ لوگ جو دنیاداری میں ملوث ہوتے تھے وہ مصر،بخشی،میتے یاد یوان کہلاتے تھے مصر کو پنجابی میں عام طور پر مشر کہا جاتا ہے اسی وجہ سے ماڑی مصراں کو عرف عام میں مشراں دی ماڑی کہا جاتا ہے۔

غا لبا یہ سکھوں کے دور میں بنی (1790 تا 1846) یہ بڑی پرشکوہ عمارت تھی چھوٹی سرخ اینٹوں سے بنی تین منزلہ یہ عمارت چوکور شکل میں تھی شمال دیوار کے دونوں سروں پر مینار نما تین منزلہ کمرے تھے یہ مینار بھی چوکور شکل میں تھے جن کے ہر سمت بوہے اور باریاں تھیں اس مینار نما عمارت کے اندر سیڑھیاں چلتی تھیں جن کے اوپر شہ نشین بنے ہوئے تھے جہاں عمارت کے مکیں شاید بیٹھ کر خوبصورت شامیں گزارتے ہوں گے اندر صحن میں چاروں طرف بر آمد وں میں ستون اور گولائی والے ڈاٹ تھے جہاں کبھی شاید خوبصورت بیلوں کا جھڑمٹ ہوگا مگر اب تو ویرانی ہے عمارت کی مغربی دیوار کے ساتھ بڑے بڑے تاریک کمرے تھے ایک کمرے کے اندر کنواں نما تہہ خانہ تھا
مشرقی دیوار کے ساتھ گلی میں کھلنے والا بہت بڑا صدر دروازہ تھا جس تک پہنچنے کے لئے گلی میں تین اطراف سے سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں بچپن میں جب ہم نے ماڑی کی عمارت دیکھی تو اس وقت ویرانی وہاں ڈیرے لگا ئے ہوئے تھے ڈھلتی دھوپ کا سایہ صحن میں پڑرہا تھا ڈھلتی دھوپ کی مدھم کرنوں میں برآمدے اور بھی اداس لگ رہے تھے بر آمد ے کے دروبام سے جا بجا جنگلی بلییں اگی ہوئی تھیں اور وہ غالب والی صورت حال تھی۔

اگررہا ہے درودیوارپہ سبز ہ غالب

ہم بیایاں میں ہیں،گھر میں بہار آئی ہے

اس ماڑی کے پہلے مکینوں میں رام جی مل اور اس کے بیٹے دھرم چند اور بال مکند اعزازی مجسٹر یٹ اور کیمٹی کے صدر رہے ان کے دو بیٹے شمیرداس اور شمشیر داس کے بیٹے کا نام بخشی کیشوداس تھا جو کہ ریٹا ئر ڈتحصیل دار بندوبست میر پور کشمیر تھے ان کے بیٹے کانام فتح چند تھاجو کہ سری نگر میں نائب تحصیلدار تھے یہ باپ بیٹا دونوں ان آخری مکینوں میں سے تھے جہنوں نے 1947ء میں اسے چھوڑا۔
1951ء میں سید منظور حیدر شاہ نے ماڑی مصراں پر سب سے پہلے نوحہ لکھا جن کے اشعار میں عجب طرح کی بے خودی، اداسی،زمانے کی بے ثباتی کا تذکرہ ہے اور ساتھ ہی ہمارے 1947ء کے بعد کی نفسیاتی اور جذباتی کیفیات کا تجربہ بھی ہے وہ لکھتے ہیں

گم نام سی بستی میں جو ویران پڑی ہو کس سوچ میں ڈوبی ہوئی حیران کھڑی ہو
پوشیدہ تیرے سینے میں ہے کس کی کہانی ہے تیری خموشی میں بھی دریائے معانی
خم آنہ سکا موج حوادث سے کمر میں پیری سے تیرے ہوتی ہے شرمندہ جوانی
یہ صبرو سکوں بھی تیری فطرت کو نہ بھا یا مستانی ہواواؤں نے تجھے چھیڑ جگایا
کرتا ہوں شب تار میں جب تیرا نظارہ روزن پہ تیرے کوئی چمکتا ہوا تارا
کرتا ہے در و بام شکستہ کو چرا غاں کرتاہے تیری ہمت عالی کو گوار
یوں کوہ گراں بن کے تجھے رہنا پڑے گا ہر تیشہ فرہاد زماں سہنا پڑے گا
سیتا کی طرح مر لی کر شنا سے چھنی ہے بت خانے میں دیوی کو فنا نوچ رہی ہے
دیوالی کی شب رام کے گھر میں ہے اندھیرا روشن تھیں جہاں ماہ جبینوں کی جبینیں
اس دور کے روان کا کوئی رام نہیں ہے آج اپنے سپوتوں ہی سے معجوب زمیں ہے

ان کے بعد ہمارے استاد محترم خان محمد اقبال خان مقصود نے مشراں دی ماڑی کے عنوان سے ایک بڑی دلنشین نظم کی جوکہ گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ کے ادبی رسالہ خورشید میں شائع ہوئی اس نظم کو بھی مدتوں یادرکھا جائے گا اب ماڑی مشراں کا نشان بھی مٹ چکا ہے آئندہ آنے والی نسلیں شاید اس عمارت کو صرف افسانوں اور نظموں میں ہی تلاش کر سکیں گی۔

اے اہل بصیرت اس میں تمہارے لئے عبرت کا نشان موجود ہے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں