سولہ دسمبر اور ہماری قومی ذمہ داریاں

سولہ دسمبر 2014ء کا دن ہماری تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے۔ ٹھیک اسی دن یعنی 16دسمبر1971ء کو ہمارے پیارے وطن کے دو ٹکڑے ہو گےٗ۔ اب ایک کا نام بنگلہ دیش ہے اور ایک کا نام پاکستان۔

آج سے ٹھیک ایک سال پہلے دباوٗ کا شکار ہمارے دشمن نے اس قوم کے صبر کو آزمانے کے لیے اور اس کو مورال کم کرنے کے لیے ایک نہایت گھٹیا چال چلی اور۱۳۰ کے قریب معصوم بچوں کو نہایت بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوےٗ شہید کردیا۔

جنگ کے بھی کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جنگ میں بچوں اور عورتوں پر حملہ کیا جاےٗ۔ ہمارے مذہب کے بھی اس کے بارے میں واضع احکامات ہیں۔ اسلام کے شروع کے ادوار میں جتنی بھی جنگیں لڑی گیٗں یا غزوات رونما ہوےٗ، نبی ﷺ نے واضح حکم فرمایا کہ بچوں عورتوں اور بوڑھوں پر ہرگز حملہ نہ کیا جاےٗ یا ان کو کسی بھی قیمت پر نشانہ نہ بنایا جاےٗ۔ ہمارے بچوں پر حملہ کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا دشمن کوئی مسلمان نہیں ہے۔ اس کے پیچھے وہ غیر اسلام طاقتیں موجود ہیں جو کہ کبھی بھی پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتیں۔
اگر ہم ۶۱ دسمبر کے اس واقعے کی کڑیاں 16 دسمبر1971ء سے ملایٗیں تو ہمیں واضح طور پر پتہ چلے گا کہ ہمارا دشمن ایک ہی ہے اور وہ ایک نئیٗ صورت میں ہمیں نشانہ بنا رہا ہے۔ 16دسمبر2014ء کا واقعہ جہاں درد اور کرب کی انتہائی داستان کو جنم دیتا ہے وہیں پر ایک بات اور بھی سامنے آتی ہے کہ دشمن ہمارا کچھ بھی بگاڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اس پریشانی اور الجھن کی وجہ سے وہ ہمارے معصوم بچوں پر حملہ کرتا ہے۔

ہماری پاک فوج بلاشبہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک حالت جنگ میں ہے۔ کبھی وہ بیرونی دشمنوں کے خلاف نبرد آزما ہیں اور کبھی اندرونی اور کبھی ہمارے اندر موجود وہ کالی بھیڑوں کے سامنے جوکہ بیرونی قوتوں کے اشاروں پہ ناچتی ہیں۔ ایک عام فہم آدمی بھی اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ جب دشمن میدان جنگ میں لڑنے سے عاری ہوتا ہے تو وہ یقینا ایسی اوچھی حرکتیں کرتاہے۔

ہمیں اس بات کو دوبارہ سوچنا پڑے گا کہ آخر وہ کونسی کمی ہے جو ہم بارہا ایسے حملوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس کے لیے اس 20 کروڑ عوام کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔ ملک کی حفاظت صرف آرمی کا کام نہیں ہے بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت، اپوزیشن، عدلیہ اور عوام کو ایک نقطے پر کھڑا ہونا بہت ضروری ہے۔ اور ہر فرد کو اپنے حصے کاکردار ادا کرنا ہوگا۔

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ سب سے اہم اقدام جو اس سلسلے میں کیا جانے چاہیے وہ ہے تعلیم۔ تعلیم ایک بنیادی انسانی حق ہے لہذا تعلیم کا حصول بلاامتیاز یقینی بنانا چاہیے۔ اس کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو جنگی بنیادوں پر میدان عمل میں اترنا ہوگا۔ تعلیم انسانوں میں شعور اجاگر کرتی ہے اور انسانیت کا درس دیتی ہے اور ایک مہذب شہری بناتی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کی تعلیم بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر قوم کے بچوں کو تعلیم ملے گی تو وہ اپنے راستے خود بنا لیں گے۔
تعلیم کے علاوہ غربت اور بے روزگاری اس قوم کا بہت بڑا مسٗلہ ہے۔ اس غیور اور خداداد صلاحیتوں کی حامل قوم کو روٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ مواقع کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی روٹی خود پیدا کرسکیں۔ جب تعلیم عام ہوگی تو ہنر مند پیدا ہونگے جو اپنے لیے خود کما سکیں گے۔
میرے ذاتی خیال کے مطابق دہشت گردی کا مسٗلہ بھی تعلیم کی عدم فراہمی اور غربت کی پیداوار ہے۔ اگر یہ دو مسایٗل حل ہوجایٗیں تو دوبارہ کبھی ایسے واقعے رونما نہ ہوں۔

آیٗے ہم سب اکٹھے ہوجایٗیں ایک بند مٹھی کی طرح۔۔۔۔۔۔۔

آیٗے ہم دہشت گردی کے خلاف جہاد شروع کریں اور اس کے لیے پہلا قدم یعنی تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
ہر خاص و عام، امیر و غریب کے لیے تعلیم بلاامتیازہونی چاہیے۔ یہ ذمہ داری صرف گورنمنٹ سیکٹر کی نہیں ہے۔ پرایٗیویٹ سیکٹر کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔غریب اور نادار کے لیے وہ بھی گنجایٗش نکالیں اور ان کا داخلہ مفت کریں اور ان کیلئے تعلیم کے حصول کو یقینی بنائیں۔

آئیں پاکستان کی بقا کے لیے ہم سب اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔۔۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں