بابری مسجد

بابری مسجد ١٥٢٧ء میں پہلے مغل بادشاہ ظهیرالدین بابر کے حکم پر اتر پردیش میں اودھیا کے مقام پر تعمیر کی گئی۔

ریاست اتر پردیش کی سب سے بڑی مسجدوں میں شمار ہوتی تھی اور مغل دور کے اعلٰی و ارفع فن تعمیر کا نمونہ تھی۔٦ دسمبر ١٩٩٢کوبابری مسجد کو شہید کر دیا گیا۔
ہندوئوں کا دعوٰی ھے کی بھگوان راما مندر کو گرا کر بابر نے بابری مسجد تعمیر کروائی ۔ ہندوئوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اسی جگہ بھگوان رام کا جنم ہوا تھا۔ جبکہ جین مذہب کے پیروکاروں کا ماننا ھے کہ اس جگہ جین مندر تھا جسے گرا کر بابری مسجد تعمیر کی گئی۔ مگر ان دونوں دعووں کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔

مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان بابری مسجد پر تنازعہ انگریز دور سے چلا آ رہا ہے۔ان تنازعات کو سیاسی رنگ پہلی دفعہ بھارتیا جنتا پارٹی( بی جی پی) نے دیا۔

١٩٨٩ میں جب مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا مطالبہ کیا گیا تب بی جی پی کی پارلیمنٹ میں نمائندگی نا ہونے کے برابار تھی۔ رام مندر کے مطالبہ کے بعد بی جی پی ٨٥ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ھوئی۔ بی چی پی اورآر ایس ایس نے ٦ دسمبر ١٩٩٢ کو تقریباً ١٥٠٠٠٠ افراد پر مشتمل ایک ریلی نکالی بظاہر جسکا مقصد صرف راما مندر کا مطالبہ کرنا تھا جبکہ پس پردہ عزائم کچھ اور تھے۔ بی جی پی راہنمائوں کی اشتعال انگیز تقریروں سے اتنے بڑے ہجوم کو مشتعل کیا گیا ۔ متعصب ہندو بابری مسجد پر چڑھ دوڑے اور اس تاریخی مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھا جسکا پلندہ پہلے ہی تیار کیا جا چکا تھا ۔ جسکا انکشاف انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائیرکٹر ملائے کرشنا نے اپنی کتاب میں کیا۔ منموھن سنگھ لبرھن کی سربراہی میں بنائے گئے لبرھن کمشن نے بھی اپنی رپوٹ میں واضح کیا کہ یہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا بلکہ پہلے سے ھی ترتیب دیا گیا تھا۔
آج کل نام نہاد سیکولر بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ ہندو انتہاپسندی موجودہ دور میں کھل کرسامنے آ چکی ہے جسکی وجہ سے حالیہ دنوں میں مودی سرکار کو کافی رسوائی کا سرمنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارت میں کوئی اقلیت محفوط نھیں خواہ وہ اھل مسجد ھوں، اھل کلیسا یا اھل گردوارا۔ بی جی پی کا انتخابات میں بھاری مینڈیٹ دراصل پوری ہندو قوم کی متعصب ذہنیت کا عکاس ہے۔ بابری مسجد کو لے کر آثار قدیمہ کا کھیل کھیلا جا رھا ہے۔ بابری مسجد کی جگہ بھگوان راما مندر کی تعمیر کی کوششیں تیز کر دی گئی ھیں۔

اب جبکہ ہندو انتہا پسند تنظیموں کی کاروائیاں حکومتی آشیرباد سے زور و شور سے جاری ہیں لہٰذا اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر اسی حکومت کے دور میں شروع کر دی یا کم از کم مسجد کے احاطے کو تقسیم بھی کیا جا سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچے گی۔

79578631-they-can-destroy-babri-masjid-but-they-cant-destroy-our-imaan

063009062853babri-demolition-pic-d-rr

063009063031f229sq2-dvd0044

babri-masjid-2_120512073743

babri-masjid-3

fl08_noorani_babri_1369412g

masjid2bbabri-1

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں