بیرل بم

بیرل بم ایک انتہاییٗ تباہ کن اور مہلک ھتھیار ھے ۔ اسےبیرل بم اس لیے نام دیا گیا ھے کیونکہ تمام دھماکہ خیز مواد،جس میں ٹی ان ٹی , کیمیکل اور لوہے کا مواد شامل ھے، کو ایک دھاتی کنٹینر میں بھر دیا جاتا ھے۔اور اسے جہاز یا ہیلی کاپٹر سے نیچے پھینک دیا جاتا ھے۔

یہ ایک ان گایٗیڈ ڈ بم ھے یعنی اسکا ہدف غیر متعین ہوتا ھے لہذا اس کے ہدف کو نشانہ بنانے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں اور نتیجًہ عام شہریوں اور املاک کو خاطر خواہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔انہی وجوہات کی بنا پر بیرل بم کا استعمال بین الا اقوامی سطح پر غیر قانونی تصور کیا جاتا ھے۔
گو اس مہلک ہتھیار کا استعمال پہلے بھی ہو چکا ھے مگر شام کی حالیہ خانہ جنگی میں شامی حکومت کی طرف سے اس کا استعمال شدت اختیار کر چکا ھے۔اسی وجہ سے بیرل بم بین الا اقوامی توجہ کا مرکز بنا۔٢٠١٢ سے اس بم کا استعمال جاری ھے جسکی وجہ ہزاروں معصوم شامی شہری لقمہ اجل بنے۔ ہسپتالوں اور دیگر طبی سہولیات کو بھی خاطر خواہ نقصان پہنچایا گیا۔

شامی صدر بشار الاسد اس تباہی کے ذمہ دار ہیں جبکہ وہ بیرل بم کے استعمال سے مسلسل انکار کرتے آئے ہیں جبکہ متعتد باتصویر اور وڈیو ثبوت بیرل بم کے کثیر استعمال کو ثابت کر رہے ھیں۔ روس بھی حملوں میں پیش پیش ہے۔ مگر عالمی برادری تو خاموش ھے ہی مگر مسلم ممالک بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ھیں۔ہم کہتے نہیں تھکتے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ھیں مگر یہ صرف کہنے کی باتیں ھیں ۔

اگر مسلم امہ میں ذرا سی بھی وابستگی پائی جاتی تو ہمارے شامی بھائی،بہنیں،بزرگ اور بچے خود کو سمندر کے حوالے نہ کرتے۔اپنے وطن میں ،جوکہ متعدد انبیاء کی سرزمین تھی،کوئی امید کی کرن نہ دیکھتے ہوئے الله کا نام لے کر، اس امید کے ساتھ کہ بحرکے اس طرف زندگی ہماری منتظر ہوگی،حوالہ بحر ہوئے۔ جسکے بعد سے اقوام عالم بالخصوص یورپ میں تہلکہ مچا ھے۔ شامی باشندوں کی پناہ کیلےٗ یورپی عوام کی طرف سے اپنی اپنی حکومتوں پر بھرپور زور دیا گیا۔

مگرواقعہ یہ ھے کہ کسی اسلامی ملک ماسوائے ترکی کو یہ شرف حاصل نہ ہوا کہ وہ اپنے بھائیوں کی دادرسی کے لیے مالی و سیاسی ہر طور پر مدد کرے۔ دوسرے مسلم ممالک عراق، لبنان اور اردن میں جانے والے شامی پناہ گزین انتہاییٗ کسمپرسی کی حالت میں ہیں ۔ ان کی مدد کے لیے اقوام متحدہ ، یو این ایچ سی آر اور مقامی لوگوں کے علاوہ کوییٗ امداد کرنے والا نہیں۔ صرف سعودی عرب میں ان شامی باشندوں کو پناہ گزین کے بجاےٗ ایک عارضی شہری کا درجہ دیا گیا ہے جس میں وہ ملازمت بھی اختیار کرسکتے ہیں اور ایک سعود شہری کی طرح حکومتی سہولیات کو استعمال کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب میں ان شامی شہریوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ کسی مسلم ملک نے ان کو اپنے شہری کا درجہ نہیں دیاحالانکہ بعض اسلامی ممالک بالخصوص قطر، کویت اور یو اے ای کو الله نے بے پناہ مالی وسائل سے نواز رکھا ھے۔ اور عالمی دنیا میں ان کے لیڈران ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں لیکن شام و عراق میں جاری اس جنگ میں دونوں ممالک ماسواےٗ اپنے حریف گروپوں کو بشار الاسد کے خلاف اسلحہ دینے کے اور کچھ نہیں کررہے۔

اگرفرانس میں دہشتگردی سے ١٣٠شہری ہلاک ہو جائیں تو پوری دنیا بشمول پاکستان کے حکمران پیرس میں اظہار یکجہتی کیلے اکٹھے ہو جاتے ھیں اور ہلاک ہونیوالوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا جاتا ھے جبکہ دوسری طرف کشمیر، افغانستان، عراق و شام سے برما تک مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی
ہے۔ گولہ بارود اور بیرل بموں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ حتٰی کہ اقوام متحدہ کو بھی مسلمانوں کی خطائیں تو نظر آتی ہیں مگر مسلمانوں پر ہونیوالے مظالم پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔

تصویر صاف ہے۔غیر مسلم قوتیں مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہیں اور اگر مسلم امہ نے وقت کی آواز پر کان نہ دھرےتو مسلمان ذلت کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے۔ شامی صدر الله کے اس فرمان کو فراموش کر چکے ہیں کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ لہذا بشار الاسد کو سوچنا چاہیے کہ شام کے اندرونی معاملات میں روس اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے پس پردہ عزائم کیا ہیں

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں