ہم عوام ہیں

آج کل نہ جانے کیوں لہو ہے کہ بار بار گرم ہو کر فشارِ خون کو بڑھائے دے رہا ہے،ہر جگہ سے عجیب و غریب وعدوں وعیدوں کی صدائیں گونج رہی ہیں ،یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے یہ ہو جا ئے گا ،وہ ہو جائے گا ، جن کو کبھی اپنے درمیان نہ دیکھا اُن کو اب دیکھا اورایسا دیکھا کہ بار بار دیکھا ، عاشق اپنے محبوب کے آنے پر کہتا ہے کہ ”بہاروں کا موسم آیا ہو جیسے”اِن لوگوں کو دیکھ کر ہم عوام پھولے ہی نہیں سما رہے ہیں کیونکہ یہ عاشق ووٹ مانگنے ہم عوام یعنی اپنے محبوب کے گھرکے جو چکر کاٹ رہے ہیں ۔
یہ الیکشن کا موسم بھی کیسا موسم ہے؟ پانچ سال بعد آئے یا دو سال بعد لو جی! عوام کی اہمیت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ ہمیں بار بار خواہ مخواہ ہی اپنے آپ پر غرور ہونے لگتا ہے۔وہ للیاتی ہوئی آوازیں کہ ”پلیز ہمیں ہی ووٹ دیجیئے گا “جی چاہتا ہے کہ ٹیپ کر کے رکھ لیں اور بعد میں بار بار سُنیں ،وہ گاڑیوں میں آکر پولنگ اسٹیشن تک لے جانا ، پھر بھلے ووٹ دے کر واپس آؤ تو وہ گاڑی جس میں ایسی شان سے بیٹھ کر آئے تھے گویا اپنی ہی ہو کہیں دور دور تک نظر نہیں آتی ، دھڑا دھڑ صاف ہوتی گلیاں ، جہاں پڑے کچرے کا تعفن گھروں میں ڈیرا ڈالے رکھتا تھا ، گٹر صاف کرنے والے جمعداروں کی بار بار آمد ،واہ بھئی واہ! ایسے وارے نیارے کہ مزہ آ جائے۔یہ دیکھ دیکھ کر تو ہم عوام کا دل چاہتا ہے کہ الیکشن کا موسم بہاروں کے موسم کی طرح کبھی نہ جائے۔
لیکن صاحب! ہم عوام بھی اس قدر پیارے اور معصوم ہیں کہ بار بار ایک ہی جگہ سے ڈسے جاتے ہیں ، اور ہر بار جان بوجھ کر اپنا ہاتھ اُسی بِل میں دوبارہ ڈال دیتے ہیں ، کہ لو جی ڈ س لو !! لو جی ہمارا ووٹ لے لو اور ہمارے درمیان سے ایسے غائب ہو جاؤ کہ جیسے گدھے کے سر سے سینگ ، ہم ساس ،نندوں، بھائیوں ، بہنوں اور رشتہ داروں پر کبھی بھروسہ نہیں کریں گے لیکن یقین مانیں آپ پر بار بار کریں گے ، آپ اپنے وعدوں سے مُکر جائیں پھر بھی کریں گے ، آپ برسوں شکل نہ دکھائیں پھر بھی کریں گے ، کام نہ کریں پھر بھی کریں گے،گھر والوں کی نہیں سُنیں گے لیکن آپ کی ہر بات سُنیں گے ،جھوٹ سچ کچھ بھی کہیں گے دِل و جان سے سُنیں گے ، خواہ ما خواہ ہر جگہ اپنی پسندیدہ پارٹی کی تعریفیں کریں گے، جیت پر بھنگڑے ڈالیں گے ، مٹھائیاں بانٹیں گے ، اگر آپ ہار جائیں گے تو توڑ پھوڑ کریں گے مُخالف پارٹی پر دھاندلی کے الزامات لگائیں گے ،اور غم سے جھا ر جھار روئیں گے ۔
اور پھر آپ جیت کر غائب ہو جائیں گے تو تھوڑابہت شکوہ کریں گے ، اور پھر جب آپ ووٹ مانگنے آئیں گے اور ہم کو سُنہرے خواب دکھائیں گے ، دِلاسے دیں گے تو ہم پھر ”ہر گھڑی تیار کامران ہیں ہم”کی صورت بنے آپ کے لئے دیدۂ دِل فرشِ راہ کریں گے
کیونکہ ہم عوام ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں