گاجر کا حلوہ

میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش جی بھر کے گاجر کا حلوہ کھانا ہے‘

جب میں چھوٹا تھا تو ماں جی سے فرمائش کرکے گاجر کا حلوہ بنوایا کرتا لیکن گھر میں غربت کے ڈیرے تھے لہذا اگر کبھی گاجر کا حلوہ بنتا تومجھے اِتنا ہی ملتا کہ مزید کھانے کی خواہش اور بڑھ جاتی۔میں نے زندگی میں طے کرلیا کہ خوب محنت کروں گا اور بہت سارا گاجر کا حلوہ کھاؤں گا۔

میٹرک میں میرے نمبر بہت کم آئے ‘ تھرڈ ڈویثرن کے آس پاس۔۔۔اور مجھے یقین ہوگیا کہ اب نہ ایف ایس سی میں داخلہ ملے گا نہ ڈاکٹر بن پاؤں گا اور نہ بہت سارا گاجر کا حلوہ کھاپاؤں گا۔ ہمارے گھر کے حالات نہایت مخدوش تھے‘ ایک وقت کا سالن دو دن تک اور کبھی کبھی تین دن تک چلتا تھا۔ ہم کباڑیے کو چیزیں دینے کی بجائے اُس سے خریدنے والے لوگ تھے۔ گھر میں مہمانوں کے لیے رکھے جانے والا چھوٹا میز ہم نے کباڑیے سے پانچ روپے میں خریدا تھا‘ اُس وقت اِس کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی جس کی جگہ بعد میں لکڑی کا ایک ٹکڑا کیلوں سے ٹھونک دیا گیا تھا‘ یہ ٹکڑا دیوار والی سائیڈ پر کردیا گیا تھا تاکہ مہمانوں کے سامنے میز کی اچھی شکل پیش کی جاسکے۔

غربت کے اس ماحول میں گاجر کا حلوہ اور وہ بھی پیٹ بھر کے‘ ناممکن !!!میٹرک کے بعد مجھے ایف اے کرنا پڑ گیا حالانکہ میں ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ ابا جی کو جب میں نے بتایا کہ کالج میں میرا داخلہ ہوگیا ہے تو میں نے پہلی بار ان کے چہرے پر ایک خوف دیکھا۔ مجھے پتا تھا کہ وہ میرے سرکاری کالج کی فیس ادا نہیں کر پائیں گے لہذا اُنہیں اطمینان دلا یا کہ میں پارٹ ٹائم کوئی چھوٹا موٹا کام کرلوں گا۔ ابا جی تو مطمئن ہوگئے لیکن مجھے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا کام کروں‘ ہر کام کے لیے کچھ نہ کچھ پیسہ درکار تھا اور میں خالی ہاتھ تھا۔

بالآخر ایک پٹرول پمپ پر رات کی شفٹ میں نوکری مل گئی۔ تنخواہ 9 سو روپے مقرر ہوئی ۔ میں سارے پیسے لاکر ماں جی کے ہاتھ پر رکھ دیتا‘ وہ میری بلائیں لیتیں ‘ پیار کرتیں اوراُس میں سے دو سوروپے مجھے ماہانہ جیب خرچ کے لیے پکڑا دیتیں۔اِنہیں دو سو روپوں سے میں کالج کے اخراجات بھی ادا کرتا اوربس کا کرایہ بھی۔

عام طور پر لوگوں کو گرمیاں پسند نہیں ہوتیں ‘ مجھے بھی نہیں‘ لیکن گرمیوں کے دن جوں جوں گذرتے‘ مجھے نشہ سا ہونے لگتا کہ اب بہت جلد سردیاں شروع ہوجائیں گی ‘ مارکیٹ میں گاجریں آجائیں گی اور پھر گاجر کا حلوہ۔۔۔بے شک تھوڑا ہی ‘ ملے گا تو سہی۔ میں نے کئی بار کوشش کی ‘ اتوار کے دن ڈبل ڈیوٹی کرکے چار پیسے زیادہ کما لیتا کہ اماں سے کہوں گا کافی سارا گاجر کا حلوہ بنائیں لیکن ہر دفعہ جیسے ہی میں اماں کے ہاتھ پر پیسے رکھتا‘ وہ کسی نہ کسی مالی پریشانی کے حل ہونے پر اللہ کاشکر ادا کرتی دکھائی دیتیں اور میری ہمت نہ پڑتی کہ میں انہیں ڈھیر سارا گاجر کا حلوہ بنانے کاکہوں۔اماں کو بھی پتا تھا کہ مجھے گاجر کا حلوہ بہت پسند ہے لہذا وہ کسی نہ کسی طرح سستی گاجریں خرید کر حلوہ بنا ہی لیتیں‘ لیکن گھر کے افراد کی تعداد آٹھ تھی اور کسی کو گاجر کا حلوہ ناپسند نہیں تھا۔

مجھے یاد ہے ہم سب بہن بھائیوں کو گاجر کا حلوہ دیتے وقت اماں ہر دفعہ میرے حق میں تھوڑی سی ڈنڈی مار جاتی تھیں‘ بظاہر وہ گاجر کے حلوے والا پتیلا خالی کرکے ایک طرف رکھ دیتی تھیں لیکن مجھے پتا ہوتا تھا کہ اس کے ایک کونے میں میرے لیے چھ سات چمچ حلوہ اب بھی موجود ہے۔ لہذا جونہی سارے ادھر اُدھر ہوتے‘ اماں مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھتیں اور دیگچی میں سے بچا کھچا تھوڑا سا مزید حلوہ چمچ سے کھرچ کھرچ کر میری پلیٹ میں ڈال دیتیں۔

ایف اے میں بھی میرے کوئی خاص نمبر نہ آسکے تاہم بی اے میں داخلہ ہوگیا۔ میں نے پٹرول پمپ کی نوکری چھوڑ کرایک پلاسٹک کے برتن بنانے والی فیکٹری میں نوکری کرلی۔ یہاں میری تنخواہ12 سوروپے مقرر ہوئی تاہم میرا ’’جیب خرچ‘‘ وہی رہا۔اب کی بار میں نے سوچا کہ ہر مہینے کسی نہ کسی طرح پچاس روپے ضرور جمع کیا کروں گا تاکہ جب سردیاں آئیں تو میرے پاس گاجر کا حلوہ کھانے کے لیے وافر پیسے ہوں۔اِس پچاس روپے کے لیے مجھے دوپہر کے کھانے کی قربانی دینا پڑی‘ میں فیکٹری میں ہاف ٹائم کے وقت ڈھیر سارا پانی پی کر پیٹ بھر لیتا اور بھوک کو زبردستی بھلادیتا۔ کچھ دنوں تک مجھے اس کی عادت ہوگئی ۔

مجھے یاد ہے جب اکتوبر کا مہینہ شروع ہوا تو میرے پاس تین سو روپے جمع ہوچکے تھے۔ میں بہت خوش تھا۔ہر روز فیکٹری جاتے ہوئے میں راستے میں سبزی والے سے گاجروں کا ضرور پوچھتا۔ ایک دن اس نے بتایا کہ گاجریں آگئی ہیں لیکن ابھی کڑوی ہیں ‘ میٹھی گاجریں ایک ماہ تک آئیں گی۔ میں نہال ہوگیا‘ گویا اب میری دلی خواہش پوری ہونے میں صرف ایک ماہ رہ گیا تھا۔

نومبر میں جب مجھے تنخواہ ملی تو میرے پاس جمع کیے ہوئے پیسے ساڑھے تین سو ہوچکے تھے۔ میں نے سوچا اگر ساڑھے تین سو روپے سے گاجر کا حلوہ بنایا جائے تو یقیناًہم سب گھر والے پیٹ بھر کے گاجر کا حلوہ کھا سکتے تھے۔میں نے اماں کو تنخواہ کے پیسے پکڑائے تو ان کے حلق سے ایک آہ نکل گئی۔ میں چونک گیا‘

پہلے تو وہ ہمیشہ تنخواہ کے پیسے دیکھ کر خوش ہوجایا کرتی تھی اب ایسا کیا ہوا تھا؟

پوچھا تو کہنے لگیں‘تمہاری بہن کے رشتے کے لیے جس جگہ بات چل رہی تھی انہوں نے ہاں کر دی ہے لیکن وہ لوگ دسمبر سے پہلے شادی کرنا چاہ رہے ہیں ‘ ہمارے پاس تو کھانے کے پیسے نہیں‘ اتنا سارا انتظام کیسے ہوگا؟؟؟

میں ساری بات سمجھ گیا تھا لہذا اماں کو تسلی دی کہ خدا بہتر کرے گا۔اگلے دن میں نے فیکٹری کے مالک سے ایڈوانس کی بات کی‘ خدا ان کا بھلا کرے‘ وہ مان گئے اورپانچ ہزار روپے عنایت کردیے۔ کچھ پیسے اماں نے بھی جوڑے ہوئے تھے لہذا انتہائی سادگی سے بہن کی شادی ہوگئی۔ میں بی اے سے ایم اے میں آگیا‘ تنخواہ اگرچہ بڑھ گئی تھی لیکن ہر ماہ تین سو روپے ایڈوانس کی مد میں کٹ جاتے تھے۔

اس دوران کئی سردیاں گذر گئیں لیکن پیٹ بھر کرگاجر کا حلوہ کھانے کا خواب ایک خواب ہی رہا۔ایم اے کے بعد مجھے ایک بڑی کمپنی میں مینجر کی نوکری مل گئی۔تنخواہ میرے خواب وخیال سے بھی بڑھ کر دس ہزار مقرر ہوگئی۔ میں نے اسی تنخواہ میں بہنوں کی شادیاں کیں‘ بھائیوں کو پڑھایا ‘ اور اپنے لیے موٹر سائیکل خریدا۔ بہت ساراگاجر کا حلوہ کھانے کی خواہش اب بھی میرے اندر موجود تھی لیکن مصروفیت اتنی بڑھ چکی تھی کہ صبح کا گیا رات کو گھر آتا اور سو جاتا۔میں چاہتا تو مٹھائی کی دوکان سے بھی گاجر کا حلوہ خرید کر کھا سکتا تھا لیکن مجھے گھی والا حلوہ پسند نہیں تھا‘ اماں دودھ اور کھویا ڈال کر جو حلوہ بناتی تھیں وہی مجھے پسند تھا۔پھر قسمت نے اپنا دوسرا رخ بھی دکھا دیا‘ اماں ایک دن چارپائی پہ لیٹیں اور اگلے دن قبر کی نذر ہوگئیں۔ابھی اس صدمے کی شدت کم نہیں ہوئی تھی کہ ڈیڑھ سال بعد والد صاحب بھی چل بسے۔آج میرے پاس روپے پیسے کی ریل پیل ہے ‘میری بیوی بالکل میری ماں جیسا گاجر کا حلوہ بناتی ہے‘ میرے بیٹے بیٹیاں بہت شوق سے یہ حلوہ کھاتے ہیں لیکن میں نہیں کھا سکتا‘میں شوگر کا مریض ہوں اور ڈاکٹرز نے مجھے سختی سے میٹھا منع کیا ہواہے۔جب کچھ نہیں تھا تو میں گاجر کا حلوہ کھاسکتا تھا ‘

اب سب کچھ ہے لیکن گاجر کے حلوے کا ایک چمچ بھی میرے لیے زہر ہے‘‘۔۔۔

ملک صاحب نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے ٹشو پیپر نکالا‘اپنی بھیگی پلکیں صاف کرتے ہوئے جیب سے ’’کینڈرل‘‘ کی ڈبی نکالی اور ایک گولی چائے میں ڈال کر چمچ سے ہلانے لگے۔

میں نے ایک جھرجھری سی لی اوراپنی د و چمچ چینی والے چائے کے کپ کو دل سے لگاتے ہوئے ہونٹوں سے لگا لیا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں