صلیبی جنگ، مسلمان اور پاکستان

کچھ بھی لکھنے سے پہلے میں مالکِ کائنات، خدائے برحق و لائقِ عبادت اللہ عزوجل کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردُود سے جو ازل سے ابد تک میرے جدِّ امجد اور میرا کھلادشمن ٹھہرا۔
خون کی نہریں بہہ رہی ہیں، اپنوں کی میتیں اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں، معصومین کی شہادتوں کے سلسلے جاری ہیں اور اس پر افسوس صد افسوس قاتل بھی کلمہ طیبہ کا ورد کر رہا ہے اور مقتول بھی کلمہ طیبہ پڑھ کر دم توڑ رہا ہے۔ ان حالات میں کس کو حق پرستی کا تمغہ دیں اور کس پر کفر کا فتویٰ رقم کریں؟؟؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ جانے انجانے میں ہم قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے عصرِ حاضر کی ضعیف و من گھڑت تعلیمات اور خود ساختہ فلسفوں پر عمل پیرا ہو گئے ہیں اور دین اسلام پر فرقہ واریت کو ترجیح دے بیٹھے ہیں ؟؟؟
بظاہر تو کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ برس ہا برس بیت گئے، ہم مسلمان خدائے یکتا ؤ لاشریک پر ایمان لانے والے ایک بار پھر رنگ ، نسل اور آپسی اختلافات و مفادات میں گھرتے چلے گئے۔ انّا کی رو میں بہتے بہتے آج ہم اس مقامِ ظلم پر جا پہنچے ہیں کہ جہاں محض اپنے قلبی سکون ، جھوٹے مسیحاؤں اور رہنماؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے قتل و غارت گری کا میدان سجائے بیٹھے ہیں۔
موجودہ قتل و غارت گری صرف اور صرف تعلیماتِ اسلامی سے دوری کے باعث ہی رُوپزیر ہوئی۔ ہمارے مسیحا و اساتذہ دنیاوی فوائد کے حصول کی خاطرہمارے صاف و شفاف ذہنوں کو متنازعہ تعلیمات سے نقش کرتے چلے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے فرقہ واریت اور جنگ و جدل عروج پر ہے۔حالانکہ مدتوں پرانی متنازع تاریخ کودوہرانہ اور دورِ حاضرمیں جوں کی توں بیان کرنا ناممکن ہی نہیں بلکہ مشکل ترین کام ہے۔کون ہے جو ربِ عظیم کی قسم اٹھا کر کہے کہ وہ جو بیان کر رہا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ صرف اور صرف سچ پر مبنی ہے حالانکہ یہاں بھی اختلافِ رائے کا حق موجود ہو گا۔
سوچنے کی بات تو یہ ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہود و ہنود ہماری تاریخ کو اختلافات کی شکل میں عرصۂ دراز سے ڈھال رہے ہیں، گویا ایسا بھی ممکن ہے کہ ہمارے مابین اختلافات کے بیج بونے والے یہی اسلام دشمن پیش پیش ہیں۔

نظر ڈالتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ پر پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے زیر نگرانی کثیر تعداد میں شائع ہونے والے رسالے کے اگست 2001ء کے شمارے میں لکھتا ہے کہ

بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ صلیبی جنگیں صرف اور صرف ماضی کا حصہ تھیں لیکن وہ غلط ہیں۔ آخری صلیبی جنگ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، اور یہ جنگ تمام صلیبی جنگوں میں سب سے زیادہ خطرناک اور دردناک ہو گی۔
اگست 2001 ء میں عیسائیوں کی جانب سے آخری صلیبی جنگ کا انکشاف کیا ہوا کہ 11 ستمبر 2001ء کے دن امریکہ کے شہر نیو یارک میں110 منزلہ جڑواں عمارت کو دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا گیا۔اس روز صبح 8 بجکر 46 منٹ پرامریکن ائیر لائنز کی فلائٹ11 شمالی ٹاور میں جا ٹکرائی جس کے صرف 20 منٹ بعد ہی 9 بجکر 3 منٹ پر یونائیٹڈ ائیرلائنز کی فلائٹ 175 اس کے جنوبی ٹاور سے جا ٹکرائی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے لگ بھگ 50 منٹ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر زمین بوس ہو گیا اس حملے کی وجہ سے نہ صرف ملحقہ عمارات کوبے تحاشہ نقصان پہنچا بلکہ اردگرد کا علاقہ بھی ملبے کا ڈھیر بن گیاجسے صاف کرنے میں تقریباً ساڑھے آٹھ ماہ لگ گئے جبکہ دھواں اور دھول مٹی 99 دنوں تک مین ہٹن پر چھائی رہی، اس حملے میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2749 لوگ ہلاک اور ان گنت زخمی ہوئے ۔
امریکی ذرائع کے جانب سے اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ نامی مسلم تنظیم کے سر ڈال دی گئی اور اس وقت کے امریکی صدر جارج بُش نے 9/11 کو جواز بنا کر دہشتگردی کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ اس جنگ کا پہلا نشانہ افغانستان اور اس کے بعد عراق بنا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کی شروعات میں امریکی صدر جارج بُش نے اس جنگ کو صلیبی جنگ کا نام دیا اگرچہ بعد میں اس لفظ کا استعمال نہیں کیا گیابلکہ یہ باور کروایا گیا کہ یہ جنگ دو تہذیبوں کے درمیان نہیں بلکہ پوری دنیا سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئیے لڑی جارہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف بہتوں مسلم ممالک اس جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں بلکہ پاکستان کے تباہ کن حالات بھی اسی جنگ کا نتیجہ ہیں اور بد قسمتی سے ہم مسلمان یہودیوں کے بچھائے ہوئے جال میں بہت بری طرح پھنس چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج بھائی بھائی پہ نہ صرف بندوق تانے کھڑا ہے بلکہ ایک دوسرے کو مرتد کے القابات سے بھی نوازا جا رہا ہے اگر اس کٹھن وقت میں جوش کی بجائے ہوش سے کام لیا جائے اور تعلیمِ ربانی کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں ان مشکل حالات سے نکلنے میں بہت ہی آسان راستہ مل سکتا ہے۔
جیسا کہ ارشادِربانی ہے
اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔ اور اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ، اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔

( 3:103 )
یہی وہ واحد راستہ ہے جو ایک طرف اہلِ ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے ۔ اس آیت سے بہت واضع ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت ’’ دین ‘‘ کی ہو، اسی سے ہم کو دلچسپی ہو ، اسی کی اقامت میں ہم کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیئے آپس میں تعاون کرتے رہیں ۔ اس آیت کی تلاوت کے بعد ہم پر فرض ہو جاتا ہے کہ ہم مسلمان فرضی اور اختلافات پر مبنی تعلیمات کو بھلا کر آپس میں بھائی چارگی کی فضاء قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اسلام دشمن عناصر کے بچھائے ہوئے جال کو کاٹ ڈالیں اور ماضی میں جانے انجانے میں بہائے گئے خون اور ظلم و ستم پر اظہارِ ندامت کریں اور اپنے مسلمان بھائیوں سے معافی کے درخواست گزار ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عہد کریں کہ زمانہ مستقبل میں ہم ایک دوسرے کو کسی بھی قسم کا ایضا نہ پہنچائیں گے، تاکہ رب تعالیٰ ایک بار پھر ہمارے دل جوڑ دے اور اسی کے فضل و کرم سے ہم بھائی بھائی بن جائیں۔جیسا کہ مدتوں پہلے اوس اور خزرج کے وہ قبیلے جو سالہا سال سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ،لیکن اللہ کے فضل سے باہم مل کر شیر و شکر ہو چکے تھے اور یہ دونوں قبیلے مکہ سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کے ساتھ ایسے بے نظیر ایثار و محبت کا برتاؤ کر رہے تھے جو ایک خاندان کے لوگ بھی آپس میں نہیں کر پاتے۔۔۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں