بیت المقدس

غاصب صیہونی ریاست نے 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں فوجی طاقت کے ذریعے تسلط جمایا۔یہ قبضہ انتہاپسندیہودیوں کادیرینہ خواب تھا کیونکہ مسجداقصیٰ اورپورے بیت المقدس پہ قبضے کے ذریعے وہ اپنے ناپاک منصوبوں یعنی ہیکل سلیمانی جیسے منصوبوں کوعملی جامہ پہناسکیں۔
قبلہ اول پہ قبضے کے ساتھ ہی مسلمانوں کے اس مقدس مقام پر صہیونی ریاست کی جانب سے پابندیوں کا نفاذبھی شروع کردیاگیا۔وقت کے ساتھ ساتھ پابندیوں میں مزیداضافہ ہوا۔آج وہ دن بھی آگیاہے جب اسرائیلی حکومت نے مسجداقصیٰ میں مسلمانوں کو نمازادا کرنے پہ پابندی لگادی ہے۔
اگرچہ30اکتوبر کوقبلہ اول میں مسلمانوں کے داخلے پرپابندی کے لیے ایک انتہاپسند یہودی ربی’’یہود اگلیک‘‘ پرقاتلانہ حملے کوجواز بنایاگیا لیکن واقعے کے ساتھ ہی یہودیوں میں اس نقطے پربحث شروع ہوگئی کہ مسجد اقصیٰ کے مشرقی حصے کو یہودیوں کے لیے ہروقت عبادت کے لیے کھول دیں تاکہ وہ عبادت کے ساتھ ساتھ اس جگہ ہیکل سلیمانی کی تسمیہ کے لیے بھی کھلاکام کرسکیں۔
یہودیوں کی جانب سے مسجداقصیٰ کی مشرقی سمت میں جس جگہ کو عبادت کے لیے مختص کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے،وہ مسجدالقبلی کے نام سے مشہورہے اورمسجد اقصیٰ کاقدیم ترین حصہ ہے۔
یہ مطالبہ صرف عام مقتدر یہودی حلقوں کانہیں ہے بلکہ اس کو پارلیمنٹ میں قانونی شکل دینے کی بھی تیاری کی جارہی ہے ۔چندہفتے قبل حکمران جماعت لیکوڈ کے رسن’’مری ویگیو‘‘نے ’’یہودی قیادت‘‘ نامی جماعت کاتیار کردہ مسودہ قانون اسرائیلی پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیا۔اس کامقصد یہ ظاہرکیاگیا ہے کہ ہم مسجد اقصیٰ پرقبضہ نہیں کرناچاہتے بلکہ ہم اپنی عبادت کے لیے مخصوص جگہ مانگ رہے ہیں۔اس قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب شخص کو چھ ماہ قید اور پچاس ہزار ڈالر کی سزا سنائی جائے۔
اسرائیلی پارلیمنٹ میں جمع کردہ یہ مسودہ قانون ابھی زیربحث ہے،اس پرکوئی رائے شماری نہیں کی گئی ہے۔ تاہم یہودی حکومت نے پارلیمنٹ کافیصلہ آنے سے قبل ہی مسجداقصیٰ یہودیوں کے لیے کھول دیاہے۔
جبکہ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیاہے کہ قبلہ اول کی نگرانی ان سے واپس لے۔مسجد اقصیٰ کو اسرائیلی ریاست کے حوالے کیے جانے سے متعلق صیہونی پارلیمنٹ میں جاری بحث پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔ حماس نے خبردار کیا ہے کہ قبلہ اول پر یہودی بالادستی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور تمام مجرمانہ کارروائیوں کی نوعیت کی ذمہ داراسرائیلی حکومت ہوگی۔
صہیونی انتہاپسند فلسطینیوں کی تحریک کے لیے جلتی پر تیل چھڑکنے کاکام کررہی ہے۔
اسرائیل کی جارحیت کے خلاف غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں یورپ ، لندن، جنوبی افریقہ میں بڑے بڑے مظاہرے کیے گئے ہیں۔
صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ کارروائیوں کے بارے میں فلسطین کے ممتازعالم دین اورفلسطین اسلامی احقاف کونسل کے چیئرمین نے کہاہے کہ قبلہ اول کی زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کی سازشیں ،روزمرہ کی بنیادپر قبلہ اول پریہودی یلغاریں، نمازیوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کرنے جیسے واقعات قبلہ اول کے حوالے سے اسرائیل کے سنگین جرائم ہیں۔ لیکن اب صیہونی ریاست نے ایک ایسی جسارت بھی کرڈالی ہے جس کاارتکاب 1961ء کے بعد اسرائیل کوئی حکومت نہیں کرسکی۔وہ جسارت قبلہ اول کو فلسطینی نمازیوں کے لیے بند کیے جانے کاواقعہ ہے جسے فلسطینیوں سمیت پورا عالم اسلام فراموش نہیں کرسکا۔یہ اقدام 1967ء میں قبلہ اول پر اسرائیلی قبضے کے بعد صہیونی تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ ہے
مزیدقبلہ اوّل کو بندکیے جانے کے واقعے کے ایک ہفتے بعداسرائیلی فوجیوں نے صلاح الدین ایوبی منبر پرقبضہ کرنے کے بعدمسلمانوں کو مسجدالقبلی(مسجد اقصیٰ کا مشرقی سمت والاحصہ)میں داخلے سے روک دیا۔ وہاں پر نمازکے لیے پہنچنے والے فلسطینیوں پہ گولیاں چلائی گئیں اور ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کی گئی۔
یہ واقعہ بھی سالہاسال کی سازشوں کے جلومیں پہلی بار پیش آیا کہ یہودی فوج نے فلسطینیوں کو مسجد القبلی میں داخلے سے روک دیا۔
یہ معاملہ امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ یہودیوں کے قدم سرزمین قدس پرقبضے کی جانب بڑھتے جارہے ہیں جبکہ مسلم ممالک بالخصوص حکمرانوں کی جانب سے خاموشی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ضرورت تواس بات کی ہے کہ اسلامی حکومتیں اپنے علاقائی مسائل اور کفارکی سازشوں کاشکارہوکر باہمی چپقلش کی صورت حال سے نکلیں اور امت مسلمہ بالخصوص قبلہ اوّل کے تحفظ کے لیے ہم آواز ہوں۔وہ عالمی برادری بالخصوص امریکہ اوراس کے اتحادیوں پردباؤبڑھائیں اوراوآئی سی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال کراسے فعال بنائیں اور اہل فلسطین کو صہیونی سازشوں سے نجات دلائیں۔ اسی میں اس امت کی سرخروئی کاراز پوشیدہ ہے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں