غازی علم دین شھیدؒ اور اب غازی ممتاز قادری

شائد تاریخ پھر سے خود کو دھرانا چاہتی ہے کہ نبی ﷺ کے عاشقوں کی شہادتوں والی فہرست میں ایک اور رسولﷺ کے عاشق کا نام شام ہو جائے۔اِسی لیے عدالت عظمیٰٰ نے اپنے فیصلے میں ممتاز قادری کی سزائے موت کی سزا کو بحال رکھا۔ اور دہشت گردی کی دفعات کو بھی دوبارہ بحال کر دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ممتاز قادری اگر نبی پاکﷺ کی محبت سے سرشار ہے تو پھر سزائے موت کے خلاف اُنھوں نے اپیل کیوں کی۔ یہ ہی الزام غازی علم دین شھید ؒ کے اوپر لگایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ غازی علم دینؒ کا عشق اُن کو پھر اپیل کرنے سے کیوں روک نہ سکا۔

در حقیقت بات یہ ہے کہ ممتاز قادری کے چاہنے والوں نے نبی پاکﷺ کی محبت میں سرشار عوام نے ممتاز قادری کواپیل کے لیے بمشکل آماد ہ کیا اِیسی صورتحال ہی غازی علم دین شھید ؒ کے ساتھ محبت کرنے والوں کی تھی۔کہ قائد اعظمؒ جیسا عظیم قانون دان اُن کی جانب سے پیش ہوا تھا۔ممتازی قادری کے معاملے میں ہمیں کچھ سوالات کا جواب چاہیے ہوگا۔

جب ممتاز قادری نے یہ عمل کیا کیاکہ اُس وقت تک ریاست نے اُس شخص کے خلاف کوئی کاروائی کی تھی جو کہ سرعام توہین رسالت کے قانون کا مذاق بنا رہا تھا۔اور اُس خاتون کو پاس بٹھا کر پریس کانفرنس کر رہا تھا کہ یہ کا لا قانون ہے اور جرم کی مُرتکب خاتون آسیہ بی بی بے گناہ ہے۔ کیا سلمان تاثیر عدالت لگائے بیٹھا تھا کہ وہ بطور جج اِس طرح کا فیصلہ سنا رہا تھا۔

اور پھر سلمان تاثیر نے یہاں تک کہا تھا کہ وہ زرداری سے ملاقات کر کے اِس خاتون کو ملنے والی سزا ختم کروادئے گا۔اب اگر ہم بطور مسلمان اپنے عقیدئے کو دیکھیں تو ہمار ا اِس بات پر راسخ ایمان ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ کائنات میں صرف ایک ہستی ایسی ہے کہ جس کی عزت و حرمت اور مقام کے حوالے سے خالق ِ کائنات خود نبی پاکﷺ کی شان کے دُشمنوں کو وعید سناتا ہے۔

اور جس وقت بھی نبی پاکﷺ کی ذات پاک کو ایذا پہنچائی گئی رب پاک نے خود اِس حوالے سے اپنا فرمان جاری کیا۔نبی پاکﷺ کی عزت و حرمت کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور ایسا کرکے مومن مسلمان اپنے رب کی سُنت ادا کر تا ہے۔جو رب یہ کہتا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر میں تمھیں پیدا نہ کرتا تو کچھ بھی پیدا نہ کرتا۔

نبی پاکﷺ کی عزت و حُرمت کی حفاظت کے حوالے سے ایک مسلمہ قانون جس پر تمام مسلمان پر مکمل طور پر متفق ہیں اور وہ اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والوں کے لیے ایک ہی سزا ہے کہ اُن کا سر تن سے جُدا کردیا جائے۔جو رب اپنے پیارئے محبوبﷺ کی شان مبارک کے حوالے سے اِس طرح مخلوق سے مخاطب ہے کہ اپنی آوازیں تک بھی نبی ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو ، کہیں تمھارئے تمام اعمال ضائع نہ کر دئیے جائیں۔

جو رب اپنے محبوبﷺ کو کہتا ہے کہ بے شک تمھارا دُشمن بے نام ونشان رہے گا۔جس طرح کی شخصیت نبی پاکﷺ کی ہے اُس لحاظ سے اُن ﷺکی عزت و تکریم کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اُس شخص کا سر تن سے جدا کردیا جس نے یہ کہا تھا کہ میں نے نبی پاکﷺ سے فیصلہ کروایا ہے جو کہ مجھے پسند نہیں ہے آپؓ میرا فیصلہ فرمادیں۔

عمرفاروقؓ نے ایسے شخص کی جان لے لی جو کہ نبی پاکﷺ کے بطور جج کیے گئے فیصلے کو مان نہیں رہا تھا۔اگر ہم295C تعزیزاتِ پاکستان کی شق کا جائزہ لیں تو یہ بات ظاہر ہے کہ نبیﷺ کی ناموس کے خلاف بولنے والوں کو سزائے موت کا حکم ہے۔پاکستان میں تمام فقہ کے ماننے والے مسلمان اِس بات ہر متفق ہیں کہ سلمان تاثیر کاجو رد عمل تھا اگر تو ریاست اِس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی تو پھر تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔

جس عمل کے حوالے سے حضرت اقبالؒ نے غازی علم دین شھید کے لیے بھر پور تحریک چلائی۔اُس کام کو خلاف دین خلاف قانون کیسے کہا جاسکتا ہے۔ مجلس ملی شرعی جس میں تمام مسالک کے بلند پایہ علماء شامل ہیں نے متفقہ طور پر ممتاز قادری کی حمایت کی ہے۔جو عمل 1929 کو غازی علم دین کی سزا کے حوالے سے درست تھا اُس وقت تو انگریز متحدہ ہندوستان پر براجمان تھا اب وہی موقف غلط کیسے کہ ممتاز قادری کو سزائے موت۔

انگریز جج اور پاکستانی ججوں کے ا وال افعال میں اتنی یکسانیت خدا کہ پناہ جس معاشرئے میں انصاف ملنے سے پہلے مظلوم مرجاتا ہے اُس معاشرئے کے جج صاحبان کو غازی ممتاز کے معاملے میں قانون کی بالا دستی کا خیال کھائے جارہاہے اور اِن بدبختوں کو نبی پاکﷺ کی عزت و توقیر کی کوئی پروا نہیں۔جو عدالتیں ریمنڈ ڈیوس جیسے سفاک قتل کو معاف کر سکتی ہیں اُن کواقعی یہ حق ہے کہ وہ انگریز کی پیروری کرتے ہوئے غازی علم دین شھیدؒ کی طرح ممتاز قادری کو بھی پھانسی کی سزا دیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں