جامع مسجد کوٹ فتح خان کی تاریخی حیثیت

کوٹ فتح خان کی خوبصورتی کو اس کی مسجد کے مینار چارچاند لگا دیتے ہیں جو کہ 1860ء میں تعمیر کی گیٗ ہے
سردار فتح خان نے جو کہ برطانی دور کے اپنے علاقہ کے سردار تھے،اس مسجد کی بنیاد رکھی جو کہ آج  گاوٗں کی ایک پہچان بن چکی ہے۔
یہ ایک مربع شکل کی ہے جس کے تین گمبد اور دو مینار ہیں مسجد کا طرز تعمیر بادشاہی مسجد سے ملتا جلتا ہے جوکہ مغل بادشاہ اکبر نے تعمیر کی تھی۔
مقامی لوگوں کے مطابق،سردار فتح خان نے اس مسجد کو تعمیر کرنے کے لیے اٹک شہر سے معماروں کو بلایا تھا۔
اس وقت اٹک مقامی  ثقافت اور تہذیب کا ایک مرکز تھا۔اٹک کے معمار اس وقت شاندار طرز تعمیر کے لیے مشہور تھے۔ان کا کام ان کے جدید طرز تعمیر میں اب بھی دکھایٗ دیتا ہے۔
مسجد کا مین جھروکا اس مسجد کے ماتھے کا جھو مر ہے جو کہ خط پوٹھوھار کی کسی اور مسجد میں نہیں ملتا سواےٗ کلرسیداں میں موجود کھیم سنگھ بیدی کی حویلی کے۔
اٹک  کے معماروں کا طرز تعمیر خطے کے دیگر معماروں کے طریقہ کام کو بھی ظاہر کرتا تھا۔ کچھ مندر اور گردوارے جو کہ اٹک کے معماروں نے تعمیر کیے تھے،حضرو،مکھڈ شریف اور کوٹ فتح خان میں موجود ہیں
سردار محمد نواز خان، جوکہ سردار فتح خان کی اولاد میں سے تھے،نے مسجد کے میناروں کو بعد میں دوبارہ تعمیر کرایا  جوکہ 1930ء میں  تباہ ہوگے تھے۔
پوٹھوھار میں تکونی طرز تعمیر کی بہت سی مساجد موجود ہیں۔ ان مساجد میں  مایٗ قمرو کی باغ جوگیاں،اسلام آباد،جامع مسجد راولپنڈی اور واہ گارڈن کی مسجد کافی مشہور ہیں۔
کوٹ فتح خان مسجد کی نمایاں خصوصیت اس کی پینٹنگز ہیں۔اندر سے مسجد خوبصورت رنگوں سے سجایٗ گی ہے۔ مسجد کا مین دروازہ جعروکہ کہ کی طرح طرز تعمیر سے بنایا گیا ہے جوکہ داخلی راستے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔سیڑھیاں مسجد کے مین صحن تک لے جاتی ہیں۔
تین پگڈنڈیاں مسجد کے ہال کی طرف رھنماییٗ کے لے جاتی ہیں۔
فتح جنگ تحصیل سیاحت کے لیے کافی اٹریکشن رکھتی ہے۔ تحصیل میں ٹوارزم کو فروغ دینے کے لیے حکومت وقت کو کوٹ فتح خان جیسے گاوٗں کو این ثقافتی ورثہ قرار دے دینا چاہیے جوکہ سکھ اور مسلمان دونوں کے ادوار کی نمایٗندگی کرتاہے اور اس کے ثبوت وہاں اب بھی موجود عمارتیں ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں