فتح جنگ کا سیاسی منظر نامہ

سپریم کوٹ کے مسلسل دباوٗ کے بعدآخرکار کیٗ سالو ں بعد حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو کڑوا گھونٹ پیناپڑا پہلے مرحلے میں انتخابات چونکہ مکمل ہوچکے ہیں اس لیےٗ بقیہ دو مراحل ناگزیر ہوچکے ہیں ضلع اٹک پولنگ کے سوا تمام مرحلے طے ہوگےٗ ہیں اب پولنگ سٹاف کی تربیت جاری ہے

انیس نومبر کو ضلع اٹک کی 17یونین کونسلوں اور چھ میونسپل کمیٹیوں کے انتخابات ہو نگے ضلع اٹک میں کل مرد ووٹرحضرات کی تعداد4,22,652جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد3,51,629 اور کل ووٹ 7,74,281 ہے ۔ چھ میونسپل کمیٹیوں میں مرد ووٹرز 93,511 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد82,850 کل1,76,361ووٹرز اپنا حق راےٗ وہی کریں گے۔

ضلع اٹک کی چھ میونسپل کمیٹیوں میں مردوں کیلےٗ 241 اور خواتین کیلےٗ228 کل469 پولنگ یوتھ بناےٗ گےٗ ہیں جبکہ 71 دیہی یونین کونسلوں کیلے1152مردانہ اور 1029زنانہ پولنگ بوتھ ہونگے۔

فتح جنگ میونسپل کمیٹی کیلےٗکل 22 او ر 24 زنانہ پولنگ بوتھ ہیں جبکہ فتح جنگ شہر میں ووٹرز کی کل تعداد 24,809 جن میں 12,915مرد جبکہ 11,894 خواتین ووٹرز ہیں اسی طرح فتح جنگ تحصیل کی 13یونین کونسلوں میں ووٹرز کی کل تعداد1,64,263 جن میں 89,158مرد اور 75,465 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔میونسپل کمیٹی فتح جنگ کی جنرل کونسلروں کے انتخابات کیلےٗ مسلم لیگ ن11 پی ٹی آی9 پیپلز پارٹی کے4 ق لیگ کے3اور22آزاد امید وار میدان میں ہیں جبکہ تحصیل کی13یونین کونسلوں 13 چیرٗمین اور واسٗ چیرٗمین کی نشستوں کونسلر ز کی78 سیٹوں کیلےٗ مسلم لیگ ن 67 ق لیگ کے51پی ٹی آیٗ کے36پیپلز پارٹی کے31جبکہ جماعت اسلامی کے تین امیدواروں سمیت74 آزادامید دار پنجہ آزمایٗ کریں گے ن لیگ کے پانچ اور دو آزاد امید وار بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

بلدیاتی الیکشن کا جب اعلان ہواتو حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) شدید اندرونی اختلافات کا شکار تھی مگر جوں جوں الیکشن کے تاریخ نزدیک آتی گیٗ یہ راہنماء اپنی رنجشیں بھلا کر اپنی پارٹی کے نامزد امیدواروں کی انتخابی مہم میں جٹ گے عاشورہ محرم کے بعد انتخابی مہم میں تیزی آچکی ہے ق لیگ تو اب قصہ پارینہ بن چکی ہے مگر اس کے دور اقتدار میں مزے لوٹنے والے چوہدری شجاعت کے بردار نسبتی میجر ریٹارٗ طاہر صادق نے پار ٹی کو زوال پذیر ہوتے دیکھ ق لیگ کا نام لینا لکھنا چھوڑ دیا اور میجرطاہر گروپ کے نام سے اپنی شناخت کروانا شروع کر دی۔2013 کے عام انتخابات میں ضلع اٹک کی تمام قومی و صوبایٗ اسمبلی کی نشستوں پر ان کے امیدواروں نے گھڑے کے نشان پر الیکشن لڑا جس کے نتیجے میں وہ صرف اپنے بیٹے زین الہٰی کی نشست حاصل کر سکے انھوں نے بھی ابھی تک اپنی آزادحثیت برقرار رکھی ہویٗ ہے تاہم گزشتہ اڑھایٗ سال سے حلقہ این اے 59کے عوام اپنے ایم این اے کو کم ہی دیکھ پاتے ہیں۔

ضلع بھر میں ان کے چاہنے والوں کی اگر چہ قابل ذکر تعداد موجود ہے لیکن ووٹرز کے خیال میں 2001سے لے کر 2008تک جتنے بھی ترقیاتی کام ہوےٗ ہیں محض بے پناہ اختیارات کی وجہ سے ہوے کیونکہ اگر ذاتی اہلیت کی بنیاد پر ہوتے تو ق لیگ کے عام انتخابات میں اقتدار کے خاتمے کے بعد بطور ضلع ناظم میجر طاہر صادق مزید ایک سال اس عہد ے پر براجمان رہے لیکن اس پورے سال میں ان کی کارگردگی کی صفر رہی۔ اپنی تقاریر میں ان کی کاگردگی کے گن گاتے اور ایک ہی بات کا ذکر کرتے ہیں کہ بے شمار ترقیاتی کام کراےٗ ہیں اس لےٗ ووٹ میجر طاہر صادق کے امیدواروں کا حق ہے لیکن ایک بات شایدوہ بھول جاتے ہیں کہ اڑھایٗ سال سے ان کا بیٹا ممبر بنا ہے گزشتہ پانچ اور اب یہ اڑھایٗ سال گزشتہ ساڑھے سات سالوں میں میجر طاہر صادق نے کون سا اہم کارنامہ انجام دیا ہے اور کیا اب عوام باشعور نہیں ہوچکے عوام کو پرانی کہانی سنا کر بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا اگر ان کے چیرمین اور کونسلر جیت بھی جاتے ہیں تو اگر میجر طاہر صادق اقتدار کی چھڑی کے بغیر زیرہ ہے توکیا چیرمین اور کونسلر میجر طاہر صادق سے زیادہ اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ عوام کے کام کرواسکیں گے؟۔

نہیں ایسا نہیں ہے سچ تو یہ ہے کہ سارا کریڈٹ اقتدار کو جاتا ہے۔دوسری جانب حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے سابق وزیر مملکت سردار سلیم حیدر خان،سابق امیدوار صوبایٗ اسمبلی ریاض خان بالڑہ سے اتحاد کیا ہوا ہے اس اتحاد کے مثبت نتاجٗ برامد ہونے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ سردارسلیم حیدرخان کے دور وزارت میں دیگر ترقیاتی کاموں کے علادہ جتنے دیہات کو سویٗی گیس جیسی سہولت فراہم ہویٗی ھے وہ سابق ضلع ناظم جسے سایٗکل گروپ فخر اٹک اور معمار اٹک کا خطاب دیتے ہیں کے اندھے اقتدار کے دور میں اس سے ایک چوتھایٗ دیہاتوں کو یہ فراہم نہ کی جاسکی

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں