بتھوے کا ساگ

بتھوے کا ساگ بتھوا ایک خودرو پودا ہے۔ اس کا آبائی وطن مغربی ایشیا ہے۔ بتھوا فصلوں کے علاوہ بنجراراضی میں پیدا ہوتا ہے ۔

نہروں کے کنارے پر بھی پایا جاتا ہے بتھوا دنیا کے ہر ملک میں پیدا ہوتا ہے کچھ ملکوں میں تو اس کیا باقاعدہ کاشت کی جاتی ہے۔ یہ دیگر ساگوں کی طرح کاشت کیا جاتا ہے۔اس کی پتیاں تنہا یا دوسرے ساگوں مثلاََ سرسوں کا ساگ، خرفے کا ساگ یا چولائی کے ساگ کے ساتھ بھی پکائی جاتی ہیں ۔ دیہات میں لوگ اسے ساگ کی طرح کھاتے ہیں اور اپنے مویشیوں کو بھی کھلاتے ہیں۔ اس کی نگہداشت زیادہ محنت طلب نہیں ہوتی۔بتھوے کو انگریزی میں ”پِگ ویڈ“ (Pigweed) یا ”گوزفٹ“ (Goose Foot) کہتے ہیں۔ اس کا تعلق پودوں کے خاندان سے ہے۔بتھوے کا پودالمبائی میں چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کی کونپلیں پک کر پتوں سے زیادہ مزے دار ہوتی ہیں۔ اس کی ایک قسم کیاریوں کے علاوہ بڑے گملوں میں بھی اُگائی جاتی ہے جو دیکھنے میں بڑی خوشنما معلوم ہوتی ہے۔

بعض افراد بتھوے کے ساگ کے بنے ہوئے پراٹھے شوق سے کھاتے ہیں ۔ کاشت کار اسے اپنی فصلوں سے اُکھیڑ دیتے ہیں کیوں کہ بتھوے کے پودے زمین کی زرخیزی پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں اس لئے کسان اس کو برداشت نہیں کرتے ۔ جو افراد بتھوے کا ساگ کھاتے ہیں وہ بہت سے امراض سے بچے رہتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غذائیت کے اعتبار سے بتھوے میں مندرجہ ذیل صحت بخش اجزا ہوتے ہیں۔

حرارے180۔ نشاستہ3ء7 گرام۔ ریشہ2ء4گرام۔ لحمیہ (پروٹین ) 2ء4گرام ۔ حیاتین الف

(وٹامن اے)580یوجی۔ فولیٹ(ب9 )30 یوجی ۔ تھایامن (ب ا) 16 ء۰ ۔رائبو فلاو(ب2 ) 44ء۰ ملی گرام۔ نایاسن (ب 3 ) 2ء1 ملی گرام۔ پینٹو تھینک ایسڈ (ب5 ) 274 ء۰ ملی گرام ۔حیاتین (ب 6 ) 274 ء۰ ملی گرام۔ حیاتین ج(وٹامن سی)80 ملی گرام۔

کیلسئیم 309 ملی گرام۔ فولاد 2 ء1 ملی گرام۔ میگنیزئیم 34 ملی گرام۔ مینگنیز786ء ۰ ملی گرام۔ فاسفورس 72 ملی گرام۔

پوٹاشیئم 456 ملی گرام۔ سوڈئیم43ملی گرام۔

جست (زنک) 44ء۰ ملی گرام۔

بتھوکے کا ساگ بھوک بڑھاتا ہے پیٹ کا درد اور پیٹ کے کیڑوں کو ختم کرتا ہے۔ بتھوے کا ساگ مقویِ معدہ اور قبض کشا ہوتا ہے۔ بخار کو کم کرتا ہے اس کو روزانہ کھانے سے مثانے گردے اور پیشاب کے امراض بھی دور ہو جاتے ہیں بتھوا پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔ گردے کی پتھری کو دور کرتا ہے ۔ بتھوے کے بیجوں اور پتیوں سے بہت سی ادویہ بنائی جاتی ہیں ۔ یہ خون کو صاف کرتا ہے۔

بتھوے کو اگر چقندر کے ساتھ پکایا جائے تو اس کے تمام مضر اثرات بھی کم ہو جاتے ہیں ۔ اگر بتھوے کے ساگ کو دوماہ کھایا جائے تو ” برص“ کے داغ بھی دُور ہو سکتے ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں