مختلف خیالات

اگر ہم اپنی ڈیلی روٹین ورک پہ غور کریں تو بہت سے خوشگوارنا خوشگوار واقعات رونماہوتے ہیں،جو ھم پہلے سے ایکسپکٹ کر رہے ہوتے ہیں، نا خوشگوار واقعات کا تعلق ھمارے اندر مجود ڈر سے ہوتا ہے۔
اک مثل مشہور ہے،جیسے انسان بوتا ہے ویساہی کاٹتا ہے۔ اچھا حاصل کرنے کیلیے ضروری ہے انسان اچھا کرے اور اچھا کرنے کے لیے اچھی سو چ کا ہونا بھت ضروری ہے۔

ھمارے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں 90 فیصد ھمارا اپنا ہاتھ ہوتاہے اور 10 فیصد قدرت یا تقدیر کا، جیسا کہ میں نے اوپر تحریر کیا،ھمارے ساتھ اکثر رونما ہونے والے واقعات کو ھم پہلے سے ہی ایکسپکٹ کر رہے ہوتے ہیں، اسے ھم چھٹی حس کانام دیتے۔

ڈر یا خوف جس کو ھم دل سے منسوب کرتے ہیں در حقیقت اس کا تعلق ھمارے دماغ سے ہے اور دماغ کا تعلق ھماری سوچ سے، اگر ھماری سوچ مثبت اور تعمیری ہے تو ھمیں رزلٹ بھی اچھا ملے گا،

یوگا کرنے والے جب پالتھی مار کے بیتٹھتے ہیں تووہ اپنی سانس کو باہر یا اندر کھینچ کہ اک خیال کو یا نقطہ کو اپنی سوچ کو اس پر مرکوز کرلیتے ہیں اسلیے وہ کٗی کیٗ منٹ اپنی سانس روکی رکھتے ہیں۔

یہاں پہ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا پازیٹو سوچنے سے پازیٹو نتائج ملتے ہیں؟

جب کوئی بھی کام پازیٹو ایٹیچیوڈ کے ساتھ اور ناکامی کا خوف دل سے نکال کر کریں تو ھمیں ضرور اچھے نتائج حاصل ہوتے ہیں، اسکے برعکس اگر ھم پہلے ہی دماغ میں یہ بٹھالیں کہ میں انٹرویو میں فیل ہوجاوں گا، میں کبھی بھی کرکٹ کھیلتے ہوئے چھکا نہیں لگا سکتا، میں کبھی بھی کھانا اچھا نہیں بنا سکتی، مرچیں یا نمک تیز نہ ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ یہ تمام سوچیں نیگیٹو ایٹچییوڈ کا باعث بنتی ہیں۔

جب کوئی یہ سوچ کے انٹرویومیں جائے گا کہ اسے جاب نہیں ملنی،تو وہ کیا خاک انٹرویو میں جوابات دے گا؟ اگر کوئی پہلے ہی یہ سوچ رہا ہو کہ بال بہت تیز آ رہی ہے کہیں لگ ہی نہ جائے، تو وہ کیا خاک چھکا لگائے گا؟اگر کوئی پہلے کنفیوژن کا شکار ہو کہ شاہد کھانے میں مرچیں کم ڈالی ہے مما سے ڈانٹ پڑے گی،لو اک چمچ اور ڈال دیتی ہوں،بھائی جب دو مرتبہ مرچیں ڈالی جائیں گی تو کھانا خراب ہی ہونا ہے نا!

ھماریہاں بہت سے لوگ بروقت فیصلہ نہیں کرپاتے، بات ہرگز یہ نہیں کہ ان کے پاس فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں بلکہ وہ شدید عدم اعتمادی کا شکار ہوتے ہیں ان میں خود اعتمادی کی بہت کمی ہوتی ہے اک انجانے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں، ناکامی کا خوف، امی کا خوف، ابو کی ڈانٹ کاخوف، لوگ کیا کہیں گے لوگوں کا خوف، دوستوں کا خوف، جب اتنے سارے لوگوں کا خوف دل میں لیے بیٹھے ہیں توکیسے کوئی فیصلہ کر پائیں گئے۔

خود اعتمادی حاصل کرنے کیلئے پہلے اپنی خوبیاں اور خامیوں کا حساب لگائیں،جن چیزوں میں آپ سمجھتے ہیں کے آپ بہتر ہیں ان پرفوکس کریں اور خامیوں کو آہستہ آہستہ دور کرنے کی کوشش کریں، غلطیوں سے سیکھیں اور یہ بات ذہن میں رھکییں کہ کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اسطرح آپ میں اعتمادکا اضافہ ہوگا۔

آج کل ھمارے ہاں بہت سے لوگ ڈپریشن و نا امیدی کا شکار رہتے ہیں، انکو کسی پل بھی چین نہیں آتا، چین و سکون کی تلاش میں بٹھکتے دکھائی دیتے ہیں اور یہ پرابلم جب بڑھنے لگتی ہے تو ان میں چڑچڑا پن پیدا ہوجاتا ہے، جب ہر طرف سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ بھول جاتے ہیں کہ اک ھستی ایسی بھی ہے جو کبھی اپنے بندے کو مایوس نہیں لوٹاتی۔ اس پاک ذات سے نا امیدی و مایوسی گناہہے۔
جب بھی انسان کو کسی کومدد کی تلاش ہوتو آللہ سے رجوع کرنا چاہیے،
خدا وندعالم کا ارشاد ہے:

 وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ

صبر اور نماز کے ذریعہ مددمانگو۔

صبر اور نماز کے ذریعہ مددمانگنی چائیے بیشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیاور اللہ کی ذات کبھی اپنے بندے کو مایوس نہیں کرتی۔
ھم لوگ سکون کیلیے نیند کی گولیوں،موسیقی اور طرح طرح کی چیزوں پر انحصار کرتے ہیں جبکہ قران پاک میں ارشاد ہے

الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔

آج کل ھمارے ہاں اک اور بیماری، محبت کی بیماری بھت زور پکڑ رہی ہے خیر جسے میں محبت سے زیادہ اڈکشن یا ایفکشن کا نام دوں گا، یہ اک فطری سی بات جب بھی آپ کسی معاملے میں دن رات انوالول ہونگے تو اک سٹیج پہ آپ اس سے اکتا جائیں گے، بس یہ ہی وجہ ہے کہ ھمارے ہاں کی آجکل کی محبتیں بس تھوڑے دنوں کی مہمان ہوتی ہیں۔
اسلام تو ھمیں اجازت دیتا ہے کہ آپ کو اگر کوئی پسند ہو تو اس کو اپنا پرپوزل بھیجا جائے،اگر لڑکی اور اس کے ماں باپ راضی ہوجائیں تو شادی کر لی جائے،نہیں تو آگے دیکھا جائے، ویسے بھی محبت ہوتی وہی ہے جو شادی کے بعد ہوتی ہے۔۔(مطلب اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ)،ویسے بھی شادی سے پہلے نامحرم سے محبت زیادہ تردکھ ہی دیتی ہے۔

آخر میں میرے عشاق دوستوں کے نام فیض صاحب کے چند اشعار

رات یوں دل میں تری بھولی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں