گوشت کا کاروبار مشکلات سے دوچار

وقت بدلتا گیا اور انسان نے ارتقاء کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کردیں تو قربانی کے لیے انسانی گوشت کی بجائے حیوانی گوشت کو فوقیت دی جانے لگی اور قربان گاہوں کو جانوروں کے خون سے رنگا جانے لگا۔ ان میں حرام حلال کی تمیز نہ تھی کہ بھیڑیئے کی بھی قربانی دی گئی اور بھیڑ کی بھی۔
بعدازاں دیگر جانوروں بہ لحاظ علاقائی رسم و رواج بھیڑ، بکرے، دنبے، گائے، بیل، بچھڑے وغیرہ کی قربانی زیادہ معتبر ٹھہری۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عرب دنیا میں بکرے دنبے اور خصوصاً اونٹ کی قربانی کو تحسین کی نظروں سے دیکھا جانے لگا، جب کہ بنی اسرائیل کے لیے بچھڑے، بیل اور گائے کی قربانی خوش نودی رب کا حصول ٹھہری۔
مقدس کتابوں میں حراحناً جن کا ذکر آیا ہے تشکیک اور امکانات کے بین بین بہت سارے دیگر مذہبی رسومات کی طرح کم و بیش قربانی کا تصور یہی رہا۔ یعنی گوشت کا حصول، لہو بہانا۔ اکثر ادیان میں قربان شدہ جانور کے گوشت کے انسانی استعمال کے ممانعت ٹھہری کہ یہ صرف دیوی دیوتاؤں یا خدا کے لیے مخصوص تھا، مگر دین اسلام نے واضح کردیا کہ قربانی کا گوشت خون اور کھال وغیرہ کی خدا کو کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی یہ اشیاء خدا تک پہنچتی ہیں۔ وہ صرف اخلاص دیکھتا ہے، نیت دیکھتا ہے۔
گوشت لذت کے اعتبار سے ایک بے مثال غذا ہے اور تقریباً دنیا کے ہر ملک میں مختلف النوع جانوروں جن میں حلال و حرام دینوی اور دنیاوی لحاظ سے دونوں موجود ہیں، انہیں گوشت کے حصول کے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یہ رسم و رواج سے بالاتر ہوکر اب ضرورت اور انسانی خوراک کا سب سے بڑ جزو ہے۔
قربانی کا ذکر اس تحریر میں ضمناً ہے، لیکن شرعاً ضروری ہے کہ قربانی گائے، بیل، بچھڑے، دنبے اور اونٹ کی نسل سے دی جائے، پرندوں، مرغی یا مچھلی کی نہیں، جسے سفید گوشت کا نام دیا گیا ہے۔ آج کل تو اتر کے ساتھ وطن عزیز کے مختلف گوشوں، خصوصاً پنجاب سے یہ خبریں مل رہی ہیں کہ حرام اور مردہ جانوروں مثلاً گدھے، کُتے وغیرہ کو کاٹ کر ان کا گوشت بیچا جاتا ہے یا مضر صحت گوشت فروخت کیا جا رہا ہے۔ ب
لاشبہہ یہ ایک انتہائی مکروہ اور قابل نفرت اقدام ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں کچھ اور چیزوں کی جانب بھی توجہ دینا ہوگی۔ جب تک ایسے بدبخت افراد کو جو اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں عبرت ناک اور کڑی سزائیں نہیں دی جاتیں، تب تک ان کا محاسبہ ممکن نہیں، لیکن ایسے بے ضمیر افراد کی تعداد بہت کم ہے
۔ قصابوں کی اکثریت، خاص طور پر وہ لوگ جو کئی نسلوں سے گوشت کی خریدوفروخت کے کاروبار سے منسلک ہیں، ان کے لیے یہ خبریں شدید مشکلات اور فکر کا باعث ہیں۔ اس میں دورائے نہیں کہ مضرصحت اور مُردار گوشت کو تلف کرنا اور ایسے لوگوں کی نشان دہی کرنا اب بہت ضروری ہے۔
اس کاروبار سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے جو کہ قطعاً مبالغہ آرائی نہیں۔ مویشی پالنے والے حضرات سے لے کر مویشیوں کی خوراک تک مویشیوں کی فروخت سے لے کر ان کے چھڑوں سے جوتے، جیکٹ، فٹ بال، پرس، بیگ وغیرہ بنانے تک، کتنے ہی پیشے اس کاروبار کا حصہ ہیں۔ یہ بہت باعزت اور محترم پیشہ ہے جس کو چند ہوس کے ماروں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اصل گوشت کی تصدیق کے کئی پیمانے ہیں اور گوشت خریدنے والے ان کو جانتے ہیں شبہہ وہاں ہوتا ہے جہاں پکا پکایا، بنا بنایا گوشت استعمال ہو، ورنہ گوشت خریدنے والے گوشت کو ایک ہی نظر میں پہچان لیتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ سال ہا سال سے گوشت خریدنے والا گاہک گدھے اور بچھڑے کے گوشت میں تمیز نہ کر سکے؟ کتے اور بکرے کے گوشت کا فرق نہ جان سکے؟
لائیو اسٹاک پاکستان کے 2013؁ء کے سروے کے مطابق ملک بھر میں گائے بیل کی تعداد تقریباً 38.3 ملین، بھینسوں کی تعداد 33.7 ملین، بھیڑوں کی تعداد 28.8 ملین بکری، دنبے کی تعداد 64.9 ملین اور اونٹوں کی تعداد تقریباً 1 ملین کے قریب ہے۔ حلال گوشت کی عالمی منڈی میں پاکستانی مارکیٹ کا تناسب 7 ویں نمبر پر ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کی 2013 / 2014 کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ سال میں پاکستان میں گوشت کی کھپت 779000 ٹن تھی۔ یہ پاکستان میں بکرے / بھیڑ کے گوشت کی سالانہ کھپت کا محتاط اندازہ ہے۔
جس کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔ 1.9 ملین ٹن بڑے گوشت کی کھپت نے اسے دنیا کے گوشت کے صارف ممالک میں آٹھویں نمبر پر لا کھڑا کیا ہے، جب کہ قربانی کے تین دنوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 6 کروڑ کے قریب جانوروں کی ملک بھر میں قربانی دی جاتی ہے، جب کہ پولٹری کے گوشت کی کھپت 8,84000 ٹن ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں اس حوالے سے پاکستان دنیا میں بیسویں نمبر پر ہے۔ ان اعداد و شمار سے لائیو اسٹاک کے کاروبار سے منسلک افراد کا ملکی ذرمبادلہ اور معیشت میں تناسب کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔
مویشیوں سے منسلک دواؤں اور خوراک کے کاروبار، ویٹرنری ڈاکٹرز اور عملہ، دیگر تجارتی وصنعتی شعبے جو اس کاروبار سے منسلک ہیں، مثلاً چمڑے کی صنعت چربی اور ہڈیوں سے بنے والی ادویات اور ان کے استعمال کے حجم پر محیط ایک بہت ہی بڑی صنعت کو غیرمحسوس طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے، جس میں اول اول براہ راست گوشت کی فروخت پر پابندی کا فی الفور حصول ہے۔
لائیو اسٹاک کے کھربوں روپے کے کاروبار کو چند ہاتھوں میں سمیٹنا شاید کلیتاً ممکن نہ ہو، مگر جزواً اس پر بھرپور کام جاری ہے، جس کی ایک مثال کھلے دودھ کی بجائے پیکٹ کے دودھ کو ترجیح دلوانا ہے۔ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت مہم چلا کر کھلے دودھ کی براہ راست فروخت کی حوصلہ شکنی کی گئی اور دودھ نما لیکن دودھ ہر گز نہیں کو باقاعدہ رواج دے کر پروان چڑھایا گیا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اب کھلا دودھ اتنا فروخت نہیں ہو رہا جتنا کہ بند ڈبے کا دودھ جوکہ ملک کے کونے کونے میں ٹیٹرا پیکیجنگ کی صنعت کو بڑھا وا دیتا ہوا ہر خاص و عام کے لیے کم از کم 10 روپے تک کے پیکٹ میں دست یاب ہے، جس سے روایتی ڈیری فارمنگ یا گھریلو سطح پر ڈیری کے حصول کے لیے مویشی پالنے والوں کو شدید کاروباری مندی کا سامنا ہے۔
اس کی مثال آپ پولٹری سے وابستہ بزنس سے لے سکتے ہیں کہ کس طرح چھوٹے چھوٹے پولٹری فارمز کی جگہ اب کنٹرولڈشیڈز نے لے لی ہے اور چھوٹا فارمر ایک طرف ہو کر اب روزی کے متبادل ذرائع اختیار کرنے کے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ وہی پولٹری فارمر ہے جس نے انڈے کا ریٹ پانچ روپے سے کبھی بڑھنے نہیں دیا تھا۔ لیکن اب آپ کنٹرولڈ شیڈز سے تیار شدہ بغیر مرغیوں کے انڈوں کی قیمتیں دیکھیں اور مرغی کی پیداوار اور اس سے منسلک کروڑپتی لوگوں کی اجارہ داری بھی دیکھیں کہ ایک کنٹرولڈ شیڈ کروڑوں کی جگہ ایک سادہ سا پولٹری فارم میں 1000 سے لے کر 3000 تک کے چوزے تیار کیے جاتے ہیں۔
یہ محض چند لاکھ روپے کا کمال تھا جو کہ اب ممکن نہیں رہا۔ اسی طرح آپ عالمی کارپوریٹ سیکٹر کی اجارہ داری ہائبرڈ بیچ وغیرہ اور فرنچائزڈ پیسٹی سائیڈز کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں کہ جن کی پیداوار کسان کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر اس کے حصول کے لیے کسان مکمل طور پر عالمی مناپلی کے حامل اداروں کا محتاج ہے، جو بہت سارے ہاتھوں سے گزر کر کسان تک پہنچتی ہے اور وہ اسے خریدتا ہے۔
ہمارے ملک میں سبزیاں وسیع پیمانے پر کاشت نہیں کی جاتیں بل کہ جانوروں کا چارہ اور موسم وغیرہ کی سختیاں اور بیماریاں کیڑے وغیرہ ان کی پیداوار کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ چھوٹا کسان سبزی کو متبادل روزی کا ذریعہ سمجھتا ہے، لیکن اسے کاشت ضرور کرتا ہے۔
بالائی پنجاب اور اندرون سندھ دریائی علاقوں میں سبزیوں کی کاشت نسبتاً بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ سبزیوں کی بوائی اور ترسیل ایک صبر آزما مرحلہ ہے، جسے اب ٹنل فارمنگ کے ذریعے تیز تیز اور آسان بنالیا گیا ہے۔ ٹنل فارمنگ بھی کارپوریٹ سیکٹر کی ایک ’’ادنیٰ پیش کش‘‘ ہے، جو اب عام اور روایتی طور طریقوں سے ہٹ کر زیادہ منافع کے حصول کا تر بہدف نسخہ ہے۔ بے شک نت نئی زرعی تیکنیکی سہولتوں کا فائدہ کاشت کار کو اٹھانا چاہیے، لیکن یہی کاشت کار اگر ٹنل فارمنگ کے حصول کی مالی حیثیت ہی نہ رکھتا ہو تو وہ اپنی روایتی طریقے سے حاصل کردہ پیداوار اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہوگا، جو کہ ظاہر ہے موسمی پیداوار ہونے کی وجہ سے اوسط قیمت ہی پر فروخت ہوگی۔
کیا سبزیاں یا دالیں، مرغی یا مچھلی بڑے یا چھوٹے گوشت کا نعم البدل ہو سکتی ہیں؟ جس کی حیثیت اور پیداوار کا حجم ان سے کہیں زیادہ ہے۔ مچھلی یا مرغی کی کھال فروخت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ دودھ دے سکتی ہیں اور غذائیت اور لحمیات میں گوشت کا سبزیاں یا دالیں مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
بحیثیت قوم ہم لوگ بہت جلد منفی پراپیگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں اور بجائے اصل سیاق و سباق کے محض بین السطور پر ہی تجزیے کا اختتام کرتے ہیں۔ گوشت کے خلاف مہم کو میڈیا کے ذریعے غیرمحسوس طریقے سے جس طرح چلایا جارہا ہے، اس کے ضمنی اثرات ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ہوٹلنگ کی صنعت اس کی سب سے بڑی مثال ہے کہ جس کو بہت زیادہ منفی پروپیگنڈے کا سامنا ہے۔
ہوٹلوں میں کسٹمرز کی تعداد خوف ناک حد تک کم ہو گئی ہے اور خرچے اسی طرح برقرار ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ مرغی کے گوشت کا صارف کم ہوا ہے، چاہے مُرغی کسی بھی شکل مثلاً گوشت یا پکے کھانے کی صورت میں، اور یہ بھی نہیں ہے کہ تمام ہوٹلز یا اس سے وابستہ دیگر خورونوش کے سینٹرز اپنے ہاں مناسب ٹریٹمنٹ کا خیال نہیں رکھتے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے اور یہ محض کاہلی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
مگر بہرحال اس کا نقصان ہوٹلنگ کے شعبے کو ہو رہا ہے اور نفسیاتی طور پر گاہک گائے اور بکرے کے گوشت سے متنفر سا ہو رہا ہے۔ مٹن اور بیف کے بارے میں گاہک کی حد درجہ تک تشکیک نے ہوٹلنگ کو بہت نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے، جب کہ مرغی اور مچھلی کے صارف ابھی تک اس کیفیت سے نہیں گزر رہے، جس کا خمیازہ مٹن اور بیف کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
ایسے میں ایک سوال یہ بھی پنپ رہا ہے کہ کہیں ہم محض سبزی خور (Vegetarian) تو نہیں بنتے جا رہے؟ جیسا کہ ہمسایہ ملک بھارت میں باقاعدہ گوشت کی حوصلہ شکنی کے لیے بھرپور پروپیگنڈا مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ گائے کی قربانی اور گوشت کی فروخت پر ڈھٹائی کے ساتھ پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔
وہاں مذہب کا نام استعمال کرتے ہوئے گائے کے ذبیحے کو اہم ترین ایشو بنا دیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں بھی بعض نابغے اور خودساختہ دانشور گوشت کے ہفتہ وار ناغے کو دو دن سے چار دن تک بڑھاوا دینے کی تجاویز دے رہے ہیں اور دلیل میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اس طرح مویشیوں کی ختم ہوتی نسل کو بڑھاوا مل سکے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مویشیوں کی تعداد اس نقصان دہ حد تک پہنچ گئی ہے، جس کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے؟
گوشت اور اس سے وابستہ انڈسٹری کو جس کا معاشی حجم بلاشبہہ کھربوں روپے میں ہے، کارپوریٹ سیکٹر کی گود میں ڈال کر کیا ان لاکھوں خاندانوں کو لا تعلق کردیا جائے، جو کہ اس صنعت سے وابستہ ہیں یا پھر خشک دودھ کی طرح خشک گوشت کا بھرپور رواج ڈالا جائے، جس پر حکومتی اجازت نامہ اور تصدیق چسپاں ہو اور وہ سپر سٹور سے دست یاب ہو؟ یا پھر گوشت کی صنعت کی حوصلہ شکنی کرکے کم از کم پولٹری کی صنعت کا گراف اونچا کیا جائے یا دالوں سبزیوں تک محدود کیا جائے؟
بہرحال گوشت کھانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی غیرمحسوس طریقے سے کی جا رہی ہے۔ نفسیاتی طور پر جس پروپیگنڈے کو کام یاب کرنے کی کوشش جاری ہے وہ ایسا کرنے والوں کے اہداف تیزی سے حاصل کر رہا ہے۔ ذہن میں ایک خاص قسم کی کراہت کا بیج بو دیا گیا ہے جس کو تناور درخت کا روپ دھارتے شاید دیر نہ لگے۔ کیا ہم صرف سبزی خوری کی جانب تیزی سے گام زن نہیں؟ کیا ہم محض سفید گوشت کو ترجیح نہیں دے رہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
صرف چند لوگوں کے مکروہ فعل کو پوری کمیونٹی پر چسپاں کردینا ناانصافی ہے۔
اس صورت حال کی وجہ سے قصاب جو پہلے مویشیوں کی قیمتوں میں گرانی کا رونا روتے تھے اب گاہکوں کی کمی سے پریشان ہیں۔ ملک بھر میں پھیلی ہوئی قصاب برادری اس صورت حال سے شدید پریشان دکھائی دیتی ہے۔ صرف گوشت کے کاروبار سے منسلک ان لاکھوں خاندانوں کا واحد ذریعہ معاش گوشت کی فروخت ہے، مگر اب صورت حال یہ ہے کہ وٹرنری ڈاکٹرز کی ثبت شدہ مہر کو بھی گاہک شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ وقت قریب آتا جا رہا ہے کہ قصاب گوشت براہ راست گاہک کو بیچنے کی پوزیشن میں نہ ہوں، کارپوریٹ سیکٹر آگے بڑھ کر ان سے براہ راست فروخت کا حق چھین لے، اور ٹیٹرا پیکیجنگ بیگز اور ڈبوں کا رواج زور پکڑ جائے۔
ہر سال قربانی کے موقع پر ایک محتاط اندازے کے مطابق 6 کروڑ کے قریب مویشی ملک کے طول و عرض میں قربان کیے جاتے ہیں جوکہ اﷲ تعالیٰ کی رضا اور خوش نودی کا ذریعہ ہے۔ یوں ان لوگوں کو بھی گوشت کھانے کا موقع ملتا ہے جوکہ غربت کی وجہ سے سال بھر گوشت نہیں کھا سکتے۔
یہ مویشی ہی ہیں کہ جن کا دودھ اور گوشت اور سواری کا ذکر قرآن حکیم میں انسانی فائدوں کے طور پر ہوا ہے یہ مویشی ہی ہیں کہ جن کا دودھ، گوشت اور کھال انسان کے جسمانی و مالی فائدے کا بہت بڑا ذریعہ ہے پانی کا ملاوٹ شدہ گوشت یا مضر صحت گوشت کی حوصلہ شکنی ضرور کی جائے، مگر اس کی آڑ میں خالص اور حلال گوشت بیچنے والوں کی تضحیک کسی بھی صورت قابل قبول نہیں کہ ہر پیشہ جو رزق حلال فراہم کرتا ہے قابلِ احترام ہے۔
میڈیا کے برقیاتی جال میں نمائش کی طلب میں مبتلا کچھ سرکاری اہل کار راتوں رات شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں جو اس سے قبل ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ لیبارٹریز کی کم یابی غیرتسلی بخش رپورٹنگ اور سمپل چیک کرنے کے آلات کی عدم دست یابی بھی ان متعلقہ اہل کاروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم ضلعی سطح پر فوڈ لیبارٹریز کو فعال کر سکیں۔ جیسے پیسٹی سائیڈز کی لیبارٹریز اور زرعی ادویات کو جانچنے کے پیمانے ہیں۔ مستند اور اعلیٰ درجے کے آلات کا حصول اور بھرپور سمپلنگ فوڈ لیبارٹریز کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ضلعی سطح پر فوڈ لیبارٹریز کو متحرک کیا جائے اور ان کو متعلقہ فوڈ سمپلنگ کی جانچ پڑتال کے لیے تیکنیکی آلات کی فراہم کیے جائیں تو ایسے بہت سارے مسائل سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے اور تذبذب کی اس کیفیت کو ختم کیا جا سکتا ہے کہ گوشت حلال ہے یا حرام مضر صحت ہے یا صحت بخش۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں