عاشق رسولﷺ کو پھانسی اور سود حلال ؟

عاشق رسولؐ ملک ممتاز حسین قادری کی اپیل خارج ہونے پر ملک بھر سے جید علمائے کرام کا ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کی اپیل مسترد کرکے انسداد دہشت گردی کا فیصلہ بحال رکھا ،تفصیلات کے مطابق جو فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیا تھا اسے کالعدم قرار دے دیا گیا عدالت نے ممتاز قادری کی سزا ئے موت برقرار رکھنے کا حکم دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کا فیصلہ بحال کردیا ۔دوران سماعت وفاق کی طرف سے موقف اپنایا گیا کہ توہین رسالتؐ کا قانون موجود ہے لیکن وہ کسی کو انفرادی طورپر یہ حق نہیں دیتا کہ خود ہی فیصلہ کرے ،اس کا فیصلہ عدالت ہی کرسکتی ہے ۔ممتاز قادری کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل نے توہین رسالتؐ کرنے پر سلمان تاثیر کو قتل کیا ۔ماضی قریب کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں تاریخ ساز فیصلے کئے گئے جس کے باعث قوم کا عدالتوں پر اعتماد بڑھا لیکن اب پے درپے ایسے فیصلے ہورہے ہیں جو سابقہ عدلیہ کے اثر ورسوخ ،بحالیٔ اعتماد میں کمی کا باعث بن رہے ہیں ۔ممتاقادری کا فیصلہ اور سود پر عدلیہ کی کاروائی اس کی زندہ وجاوید کہانیاں ہیں ممتاز قادر ی کا تازہ فیصلہ عدلیہ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنے کے باوجود قوم کو منظور نہیں اسی لئے تو ملک بھر سے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہورہی ہے ۔ یہی علمائے کرام تھے جن کے فتوؤں سے خود کش حملے حرام قراردئیے گئے تھے آج ان علمائے کرام کا ہی کہنا ہے کہ حالیہ فیصلہ غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے۔اب علمائے کرام کے فتوؤں پر عمل کیوں نہیں کیا جارہا ؟کیا پاکستان قرآن وسنت کو سپریم لاء کے طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر آئین پاکستان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟سلمان تاثیر نے جب شاتم رسول کی حمایت اور ناموس رسالتؐ ایکٹ کے خلاف بیانات داغے تو حکومت نے فوری طور پر اس گستاخی کے خلاف ایکشن کیوں نہ لیا؟ ہم سمجھتے ہیں کہ سلمان تاثیر کے قتل کی اصل ذمہ دار اس وقت کی حکومت اور سیاستدان ہیں جنھوں نے سلمان تاثیر کے خلاف عملی اقدام نہ کئے ۔حکومتی ہٹ دھرمی کے باعث ممتاز قادری جیسے لاتعداد عاشقان رسولؐ کی جذبات مجروح ہوئے اور تادیبی کاروائی کا سوچنے لگے اﷲ تعالیٰ نے ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کاکام تب غازی ممتاز حسین قادری سے لیا ۔کیاآج اس امت مسلمہ کے ہیرو ،عاشق رسول کو اس پاکستان میں سزائے موت دی جائے گی جو شمع رسالتؐ کے پروانوں کے خون سے معرض وجود میں آیا؟انگریز دور میں بھی ایسے ہی غیر شرعی فیصلے ہوں اور قیام پاکستان کے بعد بھی تو پاکستان پھر کیوں بنایا تھا؟کیا اس فیصلے کے بعد نظریہ پاکستان دفن نہیں ہو جاتا؟ اس فیصلے پر افسوس ہواعلمائے دین اور دینی جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ ممتازقادری مجرم نہیں عاشق رسول ؐہے ،عاشق رسولؐ کی غیر شرعی سزا پر قوم مضطرب ہے ۔صدر مملکت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ممتازقادری کی سزائے موت ختم کرنے کا اعلان کریں۔کچھ دینی جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ پاکستان میں فیصلے قرآن وسنت کے خلاف ہو رہے ہیں اگر اسلام کا عادلانا نظام خلافت قائم ہوتا تو ممتاز قادری حکومتی سطح پر مسلمانوں کے ہیرو ہوتے مسلمانوں کو ممتاز قادری کی رہائی کیلئے میدان عمل میں اترنا ہوگا ۔اہلیان پاکستان کو ایسے فیصلے کی امید نہ تھی ۔

دوسرا مسٔلہ سود کے خاتمے کی رٹ خارج ہونے کا ہے جو عدالت نے کی ۔اس پر بھی علمائے کرام کا موقف سامنے آچکا کہ سودی لین دین اﷲ ورسولؐ سے کھلی جنگ کے ساتھ ساتھ آئین پاکستان کے بھی منافی ہے ،حکومت اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کرتے ہوئے ملک کو سودی نظام سے پاک کرے ،طویل عرصے سے سودی نظام کے خلاف مقدمہ کا فیصلہ نہ ہونا اور سود جیسے گناہ کو ہلکا لینا افسوس ناک ہی نہیں تباہ کن بھی ہے ۔علمائے کرام کا کہنا ہے کہ شریعت کورٹ اس پر جلد فیصلہ کرے ۔نص قطعی سے سود حرام ہے کسی شکل میں بھی اس کاجائز ہونا ثابت نہیں ۔ہماری معیشت سود پر پل رہی ہے ہر پاکستانی کی جیب میں موجود پیسہ سود سے پاک نہیں کیونکہ وفاقی سطح پر سود کا راج ہے جو درجہ بدرجہ ہر فرد تک جاتا ہے ۔اب قوم شریعت کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہے کیا فیصلہ آتا ہے ؟شریعت کورٹ کو چاہیے کہ اس کا فیصلہ ہفتوں کی بجائے دنوں میں کرے ۔لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک خاص لابی نہیں چاہتی کہ ملک سے سود ختم ہو ۔ان کا موقف ہے کہ سود اس وقت دنیا بھر میں رائج ہے دنیا سے الگ تھلگ رہ کر ہم لین دین نہیں کرسکتے ۔ان کی خدمت میں جواباً گذارش ہے کہ جب مدینہ میں اسلام کا نظام قائم ہوا تو اﷲ کے رسولؐ نے سود کی حرمت کا اعلان کردیا یعنی سود کی حرمت کیلئے عملاً اسلامی سٹیٹ کا ہونا ضروری ہے جو اسلام کی نمائندہ ہو۔پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا مگر بد قسمتی سے آج تک یہاں سیکولر لابی نے اسلام کی راہ میں رکاوٹ ڈالے رکھی ۔اگر اسلام عملاً نافذ ہوتا تو قوم اﷲ ورسول ؐ سے جنگ والی کیفیت میں نہ ہوتی ۔یاد رکھیں جہاں اسلام نافذ ہوتا ہے وہاں توہین رسالتؐ اور سود جیسی بیماریاں حرف غلط کی طرح مٹ جاتی ہیں۔مذہبی قائدین جو سود کے خلاف عملاً پیش پیش ہیں ان سے گذارش ہے کہ پہلے مسنون طریقے سے نفاذ اسلام کے یک نکاتی ایجنڈے پر تو آئیں ،ریاست موجود ہے مگر اسلام نہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟صاف ظاہر ہے اس کے اصل ذمہ دار دینی لوگ ہیں جنھوں نے اسلام کی بجائے مسلک عزم کو فروغ دیا آج نہتے ہو گئے ہیں سرعام اﷲ ورسول ؐسے بغاوتیں ہو رہی ہیں کوئی مثبت اقدام نہیں ،کیونکہ تادیبی کاروائی کرنے والا کوئی نہیں۔۔۔۔ برکیف !ہم حکومت سے گذارش کرتے ہیں کہ خدارا !آپ بھی خودکومسلمان کہلاتے ہو اﷲ ورسولؐ سے کھلی جنگ وبغاوت ہمیں تباہ کردے گی اگر تم حکمرانوں نے خود کش حملوں کے فتوؤں کو دین سمجھ کر قبول کیا تو آج ناموس رسالت ؐ ،ممتاز قادری کیس اور سود پر علمائے کرام کے فتوؤں پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا ؟کیا پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کا ذمہ تم سیاستدانوں،حکمرانوں کا عزم تو نہیں؟ قوم کو سوچنا ہوگا کہ اپنے ،دین، ایمان، پاکستان کی حفاظت کیلئے اسلام کی طرف کیسے آنا ہے ؟ پاکستان کی دینی قیادت کو ان فیصلوں کے بعد نفاذ اسلام کی جدوجہد تیز کرنے کیلئے نئے منصوبے سے کام کا آغاز کرنا ہوگا ۔ پاکستان کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے والے بااثر لوگوں کے چہروں کو بے نقاب کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔آخر میں ہم یہی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ۔جہاں اسلام کے علاوہ جو بھی نظام لایا جائے گا وہ مسلمانوں سے یہی برتاؤ کریگا جو آج کا رائج نظام غیر کر رہا ہے۔ان کے ذریعے پاکستان کو ترقی نہیں مل سکتی ۔اسلامی اقدار ،قوانین سے راہ فرار نظریہ پاکستان سے کھلی بغاوت ہے جو اہلیان پاکستان کو کسی قیمت پر قبول نہیں ۔حکمرانوں،سیاستدانوں کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں