ووٹ ایک قومی امانت ھے

ووٹ ایک قومی امانت ھے
ایک کہاوت ھے کہ بہت عرصہ پہلے ایک ریستوران والوں کی سکیم تھی کہ آپ ان کے ھاں سے جتنا چاھے کھانا کھا سکتے تھے۔ بل آپ کے پوتے کو ادا کرنا ھو گا۔ ایک نوجوان یہ اعلان سن کے بڑی بڑی خوشی خوشی ریستوران میں گیا اور خوب کھانا کھایا۔ وہ دل میں یہ سوچ کر کھانا کھا رھا تھا کہ بل کون سا میں نے دینا ھے۔ جب پوتھ ھوں گے تو وہ بل ادا کر دیں گے۔

نوجوان جب کھانا وغیرہ کھا چکا تو اس کے سامنے ایک لمبا چوڑا بل رکھ دیا گیا ۔ نوجواں کی آنکھیں بل دیکھ کے پھٹی کی پھٹی رہ گیٗیں ۔ اس میں کیٗ ایسی ڈشز بھی شامل تھیں جوکہ اس نے کھاییٗ بھی نہیں تھیں ۔

اس نے جب ریستوران والوں سے اجتجاج کیا تو انہوں نے کہا

یہ آپ کے دادا جان کا بل ھے جو وہ کافی عرصہ پہلے یہاں سے کھانا کھا کر گےٗ تھے یہ سوچ کر کہ بل ان کا پوتا ادا کرے گا”

یہ کہاوت تو محض ایک مثال تھی ورنہ اگر ھم خود اپنے جمہوری سسٹم میں جایٗزہ لیں تو ھم آج تک اپنے باپ دادا کے وقت سے اسی چکر میں گھوم رھے ھیں۔

ھر الیکشن سے پہلے تمام امیدوار بلند و بانگ دعوے کرتے ھیں اور ان کی تکمیل کے لیے ان کے پاس کوییٗ پلان تک موجود نہیں ھوتا۔ اور ووٹرز بھی کسی موھوم سی امید کے نہ ھونے کے باوجود ان وعدوں پہ ھمیشہ کی طرح یقین کر لیتے ھیں۔

ھمارے آباوٗ اجداد ھمیں جن سے نجات حاصل کرنے کی تلقین کر کے اس دنیا سے چلے گےٗ ھم آج تک انہی کے جالوں میں جکڑے ھوےٗ ھیں۔ بس چہرے تبدیل ھوےٗ ھیں باقی حالات وھیں کہ وھیں ھیں۔

ووٹ ور الیکشن الیکشن کا کھیل بہت عرصے سے چلا آرھاھے لیکن حالات ان کی وجہ سے چینج ھوتے نظر نہیں آرھے۔ کیونکہ جو ان میں حصہ لے رھے ھوتے ھیں وہ اس کے اھل ھی نہیں اور جو اھل ھو اس کو چلنے نہیں دیا جاتا۔ ھر ایک کے سامنے اس کی مثالیں موجود ھیں جو کہ ھمارے معاشرے میں ھی موجود ھوتے ھیں ۔

ھر ایک امیدوار کامیابی کی امید لگاےٗ یہ دعوا کرتا نظر آتاھے ھم یہ کردیں گے ھم وہ کر دیں گے ۔ خدمت کے ایک نےٗ دور کا آغاز کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ خدمت کا جزبہ رکھنے والے افراد بغیر کسی صلہ کے مخلوق کی خدمت کررھے ھوتے ھیں ۔ اور سیاست میں خدمت نہیں ھوتی بلکہ یہ منتخب نمایٗندے کے فرایٗض میں شامل ھوتا ھے کہ وہ اپنے ووٹرز کی بھلاییٗ اور ترقی کے لیے کام کرے جس کے لیے وہ منتخب کیا گیا ھے۔ اور یہ کام وہ احسان کے طور پر بھی نہیں جتا سکتا کہ ھم نے فلاں وقت میں آپ کے علاقے کے لے یہ یہ ترقیا تی کام کیے ۔ کیونکہ ھر غریب امیر جو اس ملک کا رھایشی ھے وہ کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس ادا کرتاھے۔ اور اس کے ٹیکسوں سے ھی یہ ترقیاتی کام کیے جاتے ھیں نہ کہ امیدوار اپنے ذاتی اثاثوں سے ان کی تکمیل کرتاھے۔

اب جبکہ ملک میں ایک دفعہ پھر بلدیاتی لیکشن ھونے جارھے ھیں تو اپنے ووٹ کا سوچ سمجھ کر استعمال کیجیے گا کیونکہ اگلے پانچ سالوں تک انہی منتخب امیدواروں نے جو خدمت کرنی ھے وہ آپ سب اچھی ظرح جانتے ھیں اس لیے اس لیے اپنے قیمتی ووٹ کو اس کے لیے استعمال کریں جو آپ کے لیے یا آپ کی آنے والے نسلوں کے لیے کھچھ نہ کھچھ کرے نہ اپنے لیے سب جوڑے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں