نفاذِ اردو میں دشواری کیا ہے؟

نفازِ اردو کا فیصلہ کیا آیا، ثقہ اہل قلم اپنے قلم کو برہان تصور کرتے ہوئے اردو اور نفاذِ اردو کے حامیان پر چڑھ دوڑے۔ ایسے ایسے کالم نگار جو خود بھی اردو زبان کے فروغ کے لیے کوشاں رہے ہیں وہ بھی حسبِ مقدور اس میں اپنا حصہ ڈالنے لگے۔
اردو کے نفاز میں جو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دی جا رہی ہے وہ انگریزی زبان کے دخیل الفاظ کا مستعمل ہونا بتایا جا رہا ہے۔ فرماتے ہیں بسکٹ تو انگریزی کا لفظ ہے، اچھا کار کو کیا بولیں گے؟ پھر بینک جس میں اپنا پیسہ جمع کرواتے ہیں اس بینک کو پہلے اسلامی کرنے میں اتنے جتن کیے، اب اردو میں کیسے داخل کرو گے؟
بظاہر تو انگریزی اور اردو کی بات ہے مگر پسِ پردہ یہ بھی غیر محسوس طریقے سے باور کروایا جا رہا ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ پھر نکتہ چیں اپنے پھیلائے ہوئے نکتوں میں رس بھرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں تعلیم اگر اردو میں دی جائے گی تو ہم کیسے ترقی کریں گے؟ جدید علوم تو سب کے سب انگریزی زبان میں ہیں۔ ہمیں دنیا میں اگر ترقی کرنی ہے تو انگریزی کے بغیر یہ ترقی ممکن ہی نہیں۔
مزید براں کچھ انگریزی زبان کے عاشق فرماتے ہیں ساری عمر تو انگریزی میں ہی تعلیم حاصل کی اب اتنے دقیق اور ثقیل الفاظ کیونکر منہ سے ادا کر پائیں گے۔ بھلا فائل کو مِسل بولتے وقت جو زبان پر خفیف سی لہر بنتی ہے وہ ان کو گوارا نہیں۔ ہاں انگریزی زبان کے مشکل الفاظ جیسے Pseudo liberal بولتے وقت وہ خفیف لہر انہیں گوارا ہے۔
خیر جناب صرف موجودہ دور کے دانشور ہی نہیں بلکہ ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ایسی کئی امثال موجود ہیں۔ کبھی اردو رسم الخط کو نشانہ بنایا گیا تو کبھی کہا گیا کہ صاحب آپ کے تو قومی ترانے میں ایک لفظ بھی اردو کا نہیں۔ بات تو سچ ہے مگر ذرا یہیں رک جائیں۔ قومی ترانے میں کئی الفاظ فارسی، اور عربی کے علاوہ پرکراتی کے بھی ہیں جو اردو کی اصل ہے۔ پھر جتنے بھی فارسی سنسکرت اور عربی کے لفظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اب اردو کا ہی اثاثہ ہیں۔
اس حوالے سے میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں کہ غیر زبان کا کوئی بھی لفظ جب اردو زبان میں داخل ہوتا ہے تو اردو اس کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اس پر اپنے قواعد لاگو کرتی ہے، اس کی تذکیر و تانیث پر نظر کی جاتی ہے، اس کا املا اور تلفظ بناتی ہے، اور وہ لفظ مکمل طور پر اردو کا بن جاتا ہے۔ لفظ کی اصل یا ماخذ چاہے انگریزی زبان ہو، فارسی ہو، عربی ہو یا ترکی، اب وہ لفظ اردو کا ہے۔

ڈاکٹر فرمان فتح پوری صاحب کی پیش کردہ چند امثال دیکھیں۔ فرماتے ہیں “اردو اپنے لب و لجہ، رکھ رکھاؤ، روز مرہ محاوروں، اندازِ بیان، موضوع و مواد اور مختلف الفاظ کے استعمال اور ایجاد کے لحاظ سے ایک مکمل زبان ہے۔ اس نے اپنی ساخت، مرکبات کے اصول اور قواعد میں ہر زبان سے فائدہ اٹھایا ہے لیکن بحیثیت مجموعی وہ کسی کی پابند نہیں ہوئی، بلکہ اس نے اپنی لغت، اپنا اسلوب، صرفی و نحوی قاعدے واحد جمع، تذکیر و تانیث کے اصول الگ بنا لیے ہیں اور انہی کی پابندی اردو کی فصاحت و بلاغت اور حسن کا معیار متعین کرتی ہے۔
“اردو نے غیر زبانوں کے دخیل الفاظ کے سامنے اپنا سر نہیں جھکایا بلکہ پوری آزادی کے ساتھ دیکھا بھالا، جانچا پرکھا ہے۔ جو اس کے مزاج کے موافق تھے انہیں ویسے ہی رہنے دیا اور جو مزاج کے خلاف پڑے، انہیں بے دھڑک کاٹا پیٹا چھانٹا گھسا گھسایا اور چھیل چھال کر اپنی پسند کا بنا لیا۔
“مثلاً مزدور (میم پر پیش ہے) فارسی زبان کا لفظ ہے، مگر اردو میں آنے کے بعد مَزدور ہو گیا (میم پر زبر) اور اب یہ ہی اس کا اردو تلفظ اور املا ہے۔ تلفظ کی طرح الفاظ کے معنی میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ عربی میں وقت کی جمع اوقات ہے اور اوقات کا لفظ زمانہ اور مدت کے معنی دیتا ہے۔ لیکن اردو والے یوں بھی بولتے ہیں کہ انسان کو اپنی اوقات سے آگے نہ بڑھنا چاہیے۔ یہاں اوقات کے معنیٰ حیثیت کے ہیں۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو اس بات پر نالاں و پریشاں ہیں کہ انگریزی کے متبادل کہاں سے آئیں گے اور انگریزی کے الفاظ کیوں مستعمل ہیں۔
“انگریزی میں ریل کے معنی لوہے کی پٹری کے ہیں، اردو میں ریل کو ٹرین کے معنی پہنا دیے گئے۔ بعد میں ایک سنسکرت کا لفظ گاڑی لگا کر ریل گاڑی بنا لیا۔ ڈاک خانہ، بیرنگ ٹکٹ، بسکٹ انگریزی سے نکل کر اب اردو کے لفظ ہیں اور اب اردو تلفظ کے ساتھ ہی بولے جاتے ہیں۔”
برسبیلِ تذکرہ دخیل الفاظ صرف اردو میں ہی نہیں خود انگریزی زبان میں بھی ہیں۔ کئی ایسے الفاظ ہیں جو لاطینی، اطالوی اور دیگر زبانوں سے ہیں مگر انگریزی میں انگریزی زبان کے اصول کے مطابق استعمال ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ احباب اپنی کم علمی اور کم فہمی کو اردو پر بندوق کی طرح تان کر انگریزی اور اردو کی جنگ نہیں چھیٹریں گے۔ میری درخواست ہے کہ سوشل میڈیا یا قومی ابلاغ کے ذرائع استعمال کرتے وقت ذمہ داری کا ثبوت دیں، لکھنے سے پہلے دیکھ لیں، پڑھ لیں، جان لیں، کیونکہ جس قسم کے سوالات آپ اردو پر اٹھا رہے ہیں ان کے جوابات موجود ہیں، آپ نے ابھی تک حاصل نہیں کیے، تو یہ سراسر آپ کی ناکامی ہے۔
اب کچھ بات کہ دفتری زبان اردو کو بنا دیا مگر دفتری زبان تو ثقیل ہو جائے گی۔ پھر وہ ہی بات۔ ایک صاحب نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اب فدوی بولنا اور لکھنا پڑے گا ہر درخواست کے آخر میں۔ بھائی کوئی قیامت ٹوٹ جائے گی یا آسمان آپ کے سر پر آن گرے گا جو آپ فدوی لکھ اور بول دیں گے؟ مقتدرہ قومی زبان بورڈ نے دفتری، عدالتی نظام میں رائج انگریزی الفاظ کے متبادل پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ اسلوب دفتری زبان، خلاصی نویسی اور بھی کئی ہیں آپ پڑھیں تو سہی، تسلیم ہے کئی جگہ ترجمہ بر محل نہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ متبادل لفظ دقیق ہو۔ مگر محترم یہ بھی تو دیکھیے کہ کام تو ہو رہا ہے نا۔ آپ ان الفاظ کو استعمال تو کیجیے، وقت کے ساتھ بہتری آتی جائے گی اور پھر وقت سے بہتر زبان کی پرورش اور کون کر سکتا ہے؟
اب کچھ بات اس پر کہ کچھ لوگ زبان کو رنگ و نسل کا لبادہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عرض ہے کہ میں اہلِ زبان ہوں مگر اس سے کیا اردو کی شان میں کوئی کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ اردو کو اردو پر کام کرنے والوں نے دوام بخشا ہے۔ اس کے عروج میں اپنا حصہ ڈالنے والوں کا تعلق ہر جگہ سے ہے، چاہے وہ پنجاب ہو سندھ ہو یا ہندوستان۔
اسی طرح کچھ لوگ اردو کو مذہب کا لبادہ پہنانے کی کوششوں میں ہیں۔ ان کے لیے عرض ہے کہ زبان کا مذہب نہیں ہوتا۔ جب دلوں کے دروازے وا ہوتے ہیں، وصل کے در کھلتے ہیں، ایسے میں زبان قوموں اور نسلوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے اور محبت اور یگانگت کے رشتے استوار ہوتے ہیں۔ ہندوستانی تاریخ کے ایسے ہی لمحے میں اردو زبان وجود میں آئی۔ اردو محض ایک زبان نہیں، بلکہ ہماری ایک ہزار برسوں کی تہذیبی کمائی بھی ہے۔
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ صاحب فرماتے ہیں “اپنی زبان کس کو پیاری نہیں لگتی؟ اس بارے میں طرف داری برحق، لیکن سخن فہمی بھی ضروری ہے۔ اردو کی زلف گرہ گیر کے ہم سب اسیر ہیں۔ اردو کے حسن و خوبی کا تذکرہ کون نہیں کرتا۔ اس کے لطف و اثر اور شیرنی اور دل نشینی کی کشش کون محسوس نہیں کرتا، کون نہیں جانتا کہ اردو برِ صغیر کی یا جنوبی ایشیا کی ایسی زبان ہے جس میں اخذ و قبول کا حیرت انگیز ملکہ ہے اور جس کا دامن طرح طرح کے پھولوں سے بھرا ہوا ہے، جس کی جادو اثری میں شکوہ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نطقِ عربی، تینوں کا ہاتھ ہے۔
“کون نہیں جانتا جب نئی تاریخی حقیقتیں ابھرتی ہیں تو نئے سماجی تقاضے پیدا ہوتے ہیں اور نئی سچائیاں وجود میں آتی ہیں۔ اردو ایسی ہی ایک سچائی ہے۔ لسانی، سماجی، اور تہذیبی سچائی جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے صدیوں کے سابقے اور اختلاط و ارتباط سے وجود میں آئی۔ اس وقت اس کا کوئی نام نہیں تھا۔ کوئی بھی سچائی جب جنم لیتی ہے، اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ سچائیوں کو نام تو اس وقت ملتا ہے جب وہ خانہ زاد ہوجاتی ہیں۔ پراکرتوں کی دھرتی سے جب نیا اکھوا پھوٹا اور اس میں عربی، فارسی اور ترکی اثرات کا پیوند لگا تو اس کا کوئی بھی نام نہیں تھا۔ امیر خسرو نے اسے ہندوی بھی کہا اور دہلوی بھی، اسے ریختہ بھی کہا گیا دکنی بھی، کہیں گجری کہلائی پھر کسی نے اردو کہا۔ تاریخ کے ایسے لمحوں میں جب تہذیب کی ہوا میں شراب کی تاثیر اور لطافت اور رس پیدا ہو جاتا ہے، تو مختلف فرقوں، گروہوں اور طبقوں میں ربط پیدا کرنے کے لیے کوئی اردو زبان پیدا ہوتی ہے۔”
مجھے احساس ہے کہ مضمون طوالت اختیار کر گیا ہے ابھی بھی کئی ایسے پہلو ہیں جن پر روشنی ڈالنی ہے۔ کئی ایسے نکتے ہیں جنہیں اٹھانا باقی ہے۔ سر دست جاتے جاتے ایک بار پھر کہوں گا کہ اردو اور انگریزی کو ایک دوسرے کے مقابل مت لائیں۔ انگریزی زبان کی اپنی ایک اہمیت ہے، اردو کی اپنی۔ اردو ہماری قومی زبان ہے اور رابطہ بھی اگر اسی زبان میں رکھا جائے تو اچھا ہے، تعلیم بھی اگر اردو میں دی جائے تو کیا قباحت ہے؟
آپ جدید علوم کی کتابوں کو اردو میں ترجمہ کروائیں۔ بر محل اور آسان ترجمہ۔ اپنی زندگی میں اردو کو شامل کرنے کی کوشش تو کریں، یقین کریں یہ بہت آسان اور حسین ہے، مگر ساتھ ساتھ دیگر زبانوں سے نفرت نہ کریں۔ زبانیں تو سر تا پا پیار ہوتی ہیں اور مختلف قوموں کو نزدیک لاتی ہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں