ان بیان ایبل از گل نوخیز اختر

ہماری ایک معروف افسانہ نگارکی شادی کی عمر گذرتی جارہی تھی، موصوفہ تقریباًکسی سے بھی شادی کرنے پر راضی تھیں لیکن دوسری طرف سے کوئی بھی قانونی اقرارکرنے کو تیار نہیں تھا۔ بالآخر 35 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی۔ انہوں نے شادی میں کسی کو انوائٹ نہیں کیا، ایک دن ایک تقریب میں مل گئیں تو میں نے شکوہ کیا کہ آپ نے چپکے سے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں۔ خوشی سے شرمندہ ہوکر بولیں ’’اصل میں سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ کئی رشتہ داروں کو بھی نہیں بلاسکی‘‘۔ میں نے پوچھا’’ماشاء اللہ دولہا بھائی کرتے کیا ہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی اٹھلا کر بولیں’’ان کی روٹیوں کی فیکٹری ہے‘‘ میری آنکھیں پھیل گئیں، بعد میں پتا چلا کہ دولہا بھائی کا ذاتی تنور ہے۔
ہمارے ہاں اپنی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا رواج اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر کرنا بھی اپنی توہین سمجھنے لگے ہیں۔اوپر سے اللہ بھلا کرے انگریزی کا جس نے بہت سے کاموں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی تو سب نے پوچھا کہ سُسر صاحب کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے’’بزنس مین ہیں اور بائیو گیس کے لیے رامیٹریل فراہم کرتے ہیں‘‘۔ ہم سب بے حد متاثر ہوئے کیونکہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کچھ عرصے بعد ایک آرٹیکل پڑھتے ہوئے بائیو گیس اور اس کے ’’میٹریل‘‘ کے بارے میں پڑھا اور تب سمجھ میں آیا کہ اگر انگلش ایک سائیڈ پر رکھ دی جائے تو اس کا ترجمہ ’’گوبر‘‘ بنتا ہے۔
کچھ لوگ بڑے آرام سے ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ جب تک تفصیل کا نہ پتا چلے یہ جھوٹ بالکل سچ معلوم ہوتاہے۔ مثلاً میری ایک ’’سگی کلاس فیلو‘‘ کی منگنی ہوئی تو اس کی سادہ اور معصوم سی والدہ نے بتایا کہ لڑکا پہلے سٹیٹ بینک میں لگا تھا ، اب پان سگریٹ کا کھوکھا لگاتاہے۔میں نے اپنے کان کھجائے’’سٹیٹ بینک اور پان سگریٹ کے کھوکھے‘‘ کا تقابلی جائزہ لیااور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔کلاس فیلو سے پوچھا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ بالآخر لڑکے والوں سے پوچھا گیاکہ لڑکا کب سٹیٹ بینک میں لگا تھا۔ جواب ملا’’پچیس اگست 1998ء کو رات پونے ایک بجے‘‘۔ یہ سنتے ہی لڑکی والے بوکھلا گئے کہ رات پونے ایک بجے سٹیٹ بینک میں کون سی جوائننگ ہوتی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ لڑکے والوں نے جھوٹ نہیں بولا تھا، لڑکا اصل میں پہلے رکشہ چلا تا تھا، پچیس اگست کو اس کے رکشے کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ سیدھا ’’سٹیٹ بینک میں جالگا‘‘۔
اصل میں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے بارے میں کچھ سچ بولا تو لوگ ہمیں کم تر سمجھیں گے، یہی خوف ہم سے پے درپے جھوٹ بلواتا چلا جاتا ہے اور بالآخر بیڑا غرق کروا کے چھوڑتاہے۔کیا حرج ہے اگر ہم بتادیں کہ ہمیں کافی کا ٹیسٹ پسند نہیں، کوئی زبردستی تو ہمارے حلق میں کافی نہیں انڈیل دے گا۔اپنی مثال اس لیے نہیں دوں گا کیونکہ مجھے کافی بہت پسند ہے بلکہ اب تو مجھے Cappuccino کے سپیلنگ بھی یاد ہوگئے ہیں ، میں جب بھی کافی منگواتا ہوں سب سے پہلے ختم کرتا ہوں، میرے دوستوں کو یقین ہے کہ میں کافی کا دیوانہ ہوں، یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ چائے اور کافی میں وہی فرق ہے جو تاش اور شطرنج میں ہے۔ لیکن میراکافی پینے کا اپنا ہی سٹائل ہے۔۔۔میں صرف ایسی جگہ پر کافی پینا پسند کرتا ہوں جہاں واش بیسن قریب ہو۔
ہول آتا ہے یہ سوچ کر کہ اب گھروں میں مسی روٹیاں نہیں بنتیں،سوجی کی پنجیری نہیں تیار کی جاتی۔۔۔اپنے ایمان سے بتائیے گا کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو السی اور چاول کی پنیاں کھائے ہوئے؟ سونف اور گری باداموں والاگڑ کب کھایا تھا؟ گنے کے رس کی کھیر کب حلق میں اتاری تھی؟ گھی میں بنائی ہوئی مونگ اور چنے کی دال کا ’’دابڑا‘‘ کب چکھا تھا؟ بھینس کی ’’بوہلی‘‘ کھائے کتنا عرصہ بیت گیا ہے؟ پتا نہیں قارئین میں سے کتنے لوگ ’’بوہلی‘‘ کے نام سے واقف ہیں؟ یہ اُس بھینس کا پہلے دو تین دن کا دودھ ہوتاہے جو تازہ تازہ ماں بنتی ہے۔ یہ غذائیں ہمیں اس لیے بھی یاد نہیں کہ ان کے ذکر سے ہی پینڈو پن جھلکتا ہے۔ شہری لگنے کے لیے پیزا، برگر، شوارما، سینڈوچ، سلائس، اورنگٹس کھانا اور ان کے نام آنا بہت ضروری ہے۔
پرانی چیزوں پر بھی انگریزی کا رنگ روغن اشد ضروری ہوگیا ہے، اب چوکیدار نہیں واچ مین ہوتاہے۔ منشی اب اکاؤنٹنٹ کہلاتاہے، پہرے دار کے لیے سیکورٹی گارڈ کا لفظ استعمال ہوتاہے، البتہ ایک’’وٹنری ڈاکٹر‘‘ ایسا نام ہے جسے بیرونی دنیا میں تو بہت عزت حاصل ہے لیکن ہمارے ہاں ابھی تک اس کے لیے ’’وہی ‘‘ لفظ استعمال کیا جاتاہے۔۔انگلش کی ہی بدولت اب کم پڑھا لکھا مریض بھی ڈاکٹر کو اپنے مرض کی تفصیلات شریفانہ انداز میں بتانے کے قابل ہوگیا ہے ورنہ جب تک انگلش کے الفاظ مقبول نہیں ہوئے تھے مریض ڈاکٹر کے سامنے اپنی جملہ تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے ایسے ایسے ’ ’ان بیان ایبل‘‘ الفاظ استعمال کیا کرتا تھا جنہیں اب دہرایا جائے تو باقاعدہ بیہودگی کے زمرے میں آتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت دوسرے کو متاثر کرنے کا جنون ہوگیا ہے اور یہی جنون ہم سے اصل زندگی چھینتا چلا جارہا ہے۔کیامونگ مسور کی تڑکے والی دال کے آگے ’’پران‘‘ کی کوئی حیثیت ہے؟ کیا کوئی پیزا آلو کے پراٹھوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ کیا چلی ساس، پودینے کی چٹنی سے بہتر ہے؟گڑ کی ڈلی سے بہتر کس کینڈی کا ذائقہ ہے؟ مٹی کی ہانڈی میں پکے کھانے کا سواد کس فائیو سٹار ہوٹل کے شیف کے ہاتھ میں ہے؟سرسوں کے تیل سے زیادہ دماغ کو سکون کون سا لوشن دے سکتا ہے؟ کیا چاٹی کی لسی اور پینا کلاڈا کا کوئی جوڑ بنتا ہے؟؟؟ مکی کی روٹی اور ساگ کے برابر میں جیم اور سلائس رکھ کر دیکھیں خود ہی فرق معلوم ہوجائے گا۔ لیکن ہمیں یہ چیزیں اس لیے پسند نہیں کیونکہ جن لوگوں میں ہم رہتے ہیں اُنہیں یہ پسند نہیں۔ دوسروں کی پسند کا خیال رکھنے کی دوڑ میں ہمیں ہر وہ چیز بھولتی جارہی ہے جس کے ہم کبھی دیوانے ہوا کرتے تھے۔
اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں اپنا آپ مارنا پڑرہا ہے۔ہم نے کتنی محنت سے اپنے ذائقے تبدیل کر لیے، اپنے حلئے تبدیل کر لیے، اپنے رویے تبدیل کرلیے ۔۔۔اب ہم معمولی سی بات کو تھوڑا سا گھما کر بیان کرتے ہیں ، نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ سچ۔۔۔لیکن معاشرے میں ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔اب بے شک ہماری قمیض کی بغلیں پھٹی ہوئی ہوں، پیروں میں قینچی چپل ہو، بال الجھے ہوئے ہوں لیکن ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہم ’’رائل فیملی‘‘ سے بلانگ کرتے ہیں۔ہر کسی نے اپنے دو چار پڑھے لکھے اور امیر رشتے دار ایسے ضرور سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جن کے نام وہ اکثر استعمال کرتے ہے تاکہ انہیں اپنے اِن رشتہ داروں کے طفیل اس معاشرے کے اہم ترین افراد میں شمار کیا جائے۔خود وہ کیاہیں۔۔۔ یہ اُنہیں بتانے کی ہمت ہے نہ سکت۔۔۔!!!

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں