قرضہ معافی کے حمام میں سبھی ننگے ہیں

ملکی معیشت کی دگرگوں حالت اور ملکی قرضوں میں خطرناک ترین اضافہ کے باوجود ہمارے ارباب اقتدار کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ سینٹ میں پیش کردہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 25 سالوں میں 1000 کے قریب افراد اور کمپنیوں نے 30 مختلف بنکوں سے حاصل کردہ 4 کھرب 30 ارب روپے کے قرضے معاف کروا رکھے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملکی ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قرضے معاف کروانے والوں پر ہر دور میں آسانیاں پیدا کی جاتی رہی ہیں اور ملکی اشرافیہ، حکومتی اہلکاروں، سیاسی رہنماؤں اور سیکورٹی فورسز سے وابستہ افراد کی ملی بھگت کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف کے دور میں 59 بلین روپے کے قرضے معاف کروائے گئے تھے تو آصف علی زرداری کے دورِ صدارت میں 124 بلین روپے معاف کروائے گئے جبکہ سخاوت اور فیاضی کے لیے مشہور میاں برادران کے دور حکومت میں 280 بلین روپے کے قرضے معاف کروائے گئے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی بھی اسی رفتار سے جاری و ساری ہے کہ 2013 میں معاف کروائے قرضوں کا کل حجم 6 ارب روپے تھا، 2014 میں 4 ارب 40 کروڑ معاف کروائے گئے اور 2015 میں 270 روپے کے قرضے معاف کروائے گئے ہیں۔ پیش کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق قرضے معاف کروانے والوں میں سیاستدان، کاروباری افراد اور فوجی جنرل تک شامل ہیں۔ یہ شاید ہمارے مجموعی قومی رجحان اورسوچ کی غمازی کرنے کے لیے کافی ہے کہ ہماری اشرافیہ کے پیشِ نظر صرف اور صرف اپنا مفاد ہی ہوتا ہے اور ان سب کا گٹھ جوڑ ہماری معشیت کی جڑیں دیمک کی طرح کھوکھلی کرنے سے کبھی بھی نہیں چوکتا ہے۔

قرضے معاف کروانے والوں اور کرنے والوں میں سب سے اہم کردار ہمارے سیاستدانوں کا ہے جو کہ جمہوریت کے نام پر نہ صرف ہمارے اوپر خاندانی آمریت مسلط کیے ہوئے ہیں بلکہ بیوروکریسی اور کاروباری افراد اور فوج کے کچھ لوگوں کے اکٹھ سے ہمارے خون پسینے اور محنت کی کمائی پر آئے روز شب خون بھی مارتے رہتے ہیں۔ اور اس تمام تر استحصال کے باوجود ہر بار “عوامی طاقت” کی بدولت برسر اقتدار بھی آجاتے ہیں اور آئے روز سر شام ٹی وی سکرینوں پر براجمان ہوکر ہمیں قانون کی حکمرانی، جمہوری روایات اور اپنی نام جہاد خاندانی قربانیوں کے قصے بھی جھوم جھوم کے سنایا کرتے ہیں۔ اور ہم عوام اپنی فاقہ مستی میں اس قدر مگن ہیں کہ ہم بھی ان ہی کی پیش کردہ دھن پر تن من دھن قربان کرنے چل پڑتے ہیں۔

ذکر تھا قرضوں کی معافی کا تو یہ بھی سن لیں کہ وطن عزیز کے آئین کی شقN 63(1) کے مطابق 20 لاکھ روپے سے زائد کا قرضہ معاف کروانے والا اور اس کے افراد خانہ رکن اسمبلی منتخب نہیں ہوسکتے۔ اس واضح پابندی کے باوجود جانے ہمارے سیاستدانوں کے پاس وہ کون سی گیڈر سنگھی ہے جس کی دلفریب مہک کا اثرنہ تو ان کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پرکھ کرنے والے ریٹرنگ افسران پر ہوتا ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن کی سکرونٹی انہیں قرضہ معاف کروانے کی بنا پر نااہلی کا آئینہ دکھا پاتی ہے۔

شاید یہی وجہ سے کہ ہمارے امیرترین یعنی جہانگیر ترین، جعفر لغاری، شیریں مزاری، عبدالقادر بلوچ، عبدالستار بچانی، پرویز ملک اور شائستہ پرویز ملک، دیوان عاشق بخاری، عاصمہ عالمگیر، علی چوہان اور جام کمال جیسے سیاستدان 20 لاکھ سے زائد کا قرضہ معاف کروانے اور آئین کے مطابق نااہلی کے حقدار ہونے کے باجود ہر بار اسمبلی ممبر منتخب ہوکر ہم ایسوں کی قسمت کے فیصلے اور نئے قوانین بنانے کی عوامی خدمت میں جت جاتے ہیں۔

سینٹ میں پیش کردہ اعدادوشمار پڑھ کر انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ ایک ایسا ملک جو ہرسال اپنی ضرورت کے لیے عالمی اداروں کے سامنے دامن پھیلائے نظر آتا ہے اور مہنگے ترین قرضے حاصل کرنے کی تگ و دو کرتا رہتا ہے وہی ملک اپنے ان غریب ترین امیروں کو کس قدر فیاضی سے اتنے بڑے حجم کے قرضے بیک جنبش قلم معاف کرنے کے حکم صادر فرما دیتا ہے۔ خیال رہے کہ قرضے معاف کروانے والوں میں صرف سیاستدان ہی استاد ثابت نہیں ہوئے بلکہ سرکاری لسٹ کے مطابق بڑے بڑے کاروباری نام، سیٹھ اور صنعتکار بھی اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر بڑے بڑے قرضے معاف کروانے میں پیچھے نہیں ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر ہارون اختر کی تاندلیانوالا شوگر ملز کے کروڑوں معاف کیے گئے تو دوسری طرف تحریک انصاف سے وابستہ انہی کے کزن جہانگیر خان ترین کی ملز بھی کروڑوں معاف کروانے میں کامیاب رہی ہیں۔ احتساب کمیشن کے سابقہ مشہور سربراہ سیف الرحمان نے 1 ارب 16 کروڑ کا قرضہ معاف کروایا ہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری کی صادق آباد ملز بھی قرضہ معاف کروانے والوں میں شامل ہے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا بھی اپنی حکومت کے دور میں اپنی ملز کے ذمہ کروڑوں معاف کروا چکی ہیں۔ ظہور ٹیکسٹائل ملز بھی 14 کروڑ معاف کرواچکی ہے اور خود میاں برادران نے بھی کروڑوں کا قرضہ کافی عرصہ بعد گزشتہ چند سالوں ہی میں ادا کیا ہے۔

انصاف کے دیوتا یعنی سابق چیف جسٹس چوہدری افتخار کے ہونہار بیٹے ارسلان افتخار بھی قرضے معاف کروانے والوں میں شامل ہیں تو دوسری طرف بیوروکریٹ بھی کسی سے کم نہیں رہے کہ آخر یہ ملک ان کا بھی تو ہے۔ تو جناب حصہ بقدر جثہ کے مصداق سابق چئیرمین سی ڈی اے امتیاز عنایت الہی نے 30 کروڑ کا قرضہ معاف کروا رکھا ہے۔ قرضے معاف کروانے والے بڑے بڑے کاروباری ناموں میں ایسے نام بھی ہیں جنہوں نے ایک طرف تو کروڑوں بلکہ اربوں کا قرضہ معاف کروایا ہے تو دوسری طرف نئے نام سے کاروبار بھی شروع کر رکھے ہیں اور ان کا طرز زندگی بھی ویسے کا ویسے ہی شاہانہ ہے جو کہیں سے بھی یہ ظاہر نہیں کرتا ہے کہ یہ لوگ قرضے معاف کروانے کے اہل تھے۔ ان بڑے ناموں میں عارف سہگل، آصف سہگل اور دیگر نے 1 ارب 12 کروڑ کے قرضے معاف کروائے ہیں۔ آغا تجمل حسین، آغا بابر حسین نے 1 ارب 16 کروڑ، یورو گلف کے خواجہ یوسف چھاگلہ نے 5 ارب 34 کروڑ روپے، ایم ایس سی ٹیکسٹائل کے مشتاق علی چیمہ نے 1 ارب 40 کروڑمعاف کروائے۔ بڑے کاروباری نام عبداللہ طارق نے 154 ارب روپے معاف کروائے جبکہ اظہر علی نامی کاروباری نے 153 ارب روپے معاف کروا رکھے ہیں۔

قارئین یہ تو تھا ہمارے سیاستدانوں اور کاروباری افراد کا قصہ اور اب ذرا فوجی دھن پر بھی اپنا سر دھن لیں کہ نیب کے سابق سربراہ جنرل امجد، گندھارا انسان لمیٹیڈ نامی کمپنی کے جنرل علی قلی خان، میجر جنرل میاں عبدالقیوم اور برگیڈئیر حفیظ بھی کروڑوں کے قرضے معاف کروانے کے کار خیر میں برابر کے شریک ہیں۔

قرضہ معاف کروانے والوں کی یہ لمبی فہرست پڑھتا جا شرماتا جا کے مصداق ہمیں بطور قوم شرمندہ کردینے کے لیے کافی ہے کہ مزید قرضہ مانگنے کس منہ سے جائیں گے جبکہ خود اپنے لوگ ہی ہمارے معاشی ڈھانچے سے پلتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہمارے لیے آئینہ کی حیثیت رکھتے ہیں کہ جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ طاقتور حلقہ کس طرح باہمی طور پر شیروشکر ہوکر ہمارا خون چوستا ہے اور ان کے اکٹھ میں کسی سیاسی پارٹی اور کاروباری افراد کی بھی شاید کوئی تمیز نہیں ہے اور سب بلا تفریق بنکوں میں موجود ہمارے ہی سرمائے کو اپنی ضرورتوں اور سہولتوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ہمیں اپنی ایک چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کے لیے بھی ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ یہ مافیا چن چن کر ایسے لوگوں کو اہم پوزیشن پر لاتا ہے جو انہی کے مفادات کی وکالت اور نگہبانی انہی کی خواہشات کے مطابق کرسکیں۔ خیال رہے معاف کروایا گیا پیسہ بنکوں کا نہیں ہوتا بلکہ کھاتہ داروں کا ہوتا ہے جو اپنی محنت کی کمائی کے جائز منافع سے بھی محروم کردیے جاتے ہیں۔ اس آئینہ سے ہمیں ہمارے اس فرسودہ، استحصال اور اقربا پروری پر مبنی نظام کی حقیقی شبیہہ صاف دکھائی دے سکتی ہے بشرطیکہ کہ ہم صاحب نظر ہوں؟

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں