ایئر وائس مارشل اطہر شمس

ایئر وائس مارشل اطہر شمس
ایئر وائس مارشل اطہر شمس اس وقت پشاور میں اے او سی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ ڈاکٹر شمس الدین قریشی (تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال فتح جنگ کے پہلے ایم ایس) کے صاحبزادے ہیں۔ ڈاکٹر شمس الدین قریشی کی عمر کا طویل حصہ فتح جنگ میں گذرا۔انہوں نے پرانی سول ہسپتال اور نئی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں خدمات سرانجام دیں۔
ایئر وائس مارشل اطہر شمس 1968؁ء میں پیدا ہوے۔اُس زمانے میں اُن کے والد فتح جنگ کی پرانی سول ہسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس لیے اُن کی ابتدائی زندگی فتح جنگ شہر میں گذری۔
ابتدائی تعلیم انہوں نے اٹک سٹی سے حاصل کی۔ میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول گوجر خان سے کیا۔ واہ کینٹ سے ایف ایس سی پاس کی اور پاکستان ایئر فورس کے فلائنگ کے شعبہ میں 1986؁ء میں کمیشن حاصل کیا۔
پاکستان اور چائنہ کے تعاون سے تیار کردہ شاندار F-17 تھنڈر جہاز کو اڑانے والے ابتدائی پائلٹس میں ایئر وائس مارشل اطہر شمس بھی شامل تھے۔ ٹریننگ کے سلسلے میں متعدد بار چین بھی گےٗ۔اور چین سے تھنڈر طیارہ اڑانے کی ابتدائی تربیت حاصل کی۔
دوران ملازمت کچھ عرصہ ملائشیا بھی رہے۔کئی مرتبہ تُرکی اور دبئی بھی گےٗ۔
اس کے بعد 2011؁ء میں ڈیفنس اتاشی ہوکر سعودی عرب چلے گے۔وہاں چند سال قیام کیا۔واپسی پر بطور ایئرکموڈور ترقی ہوئی۔اسلام آباد کے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں انسٹرکٹر کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔
ڈیفنس یونیورسٹی سے پھر کوئٹہ بیس کمانڈر ہوگے اور وہاں سے عرصہ گذار کر اب اُن کی ترقی بطور ایئر وائس مارشل ترقی ہوگئی۔
ایئرمارشل اطہر شمس کی فتح جنگ شہر میں قریبی عزیز داری ہے۔ان کی زندگی کا بیشتر عرصہ فتح جنگ میں گذرا۔اُن کے خاندان کو فتح جنگ سے خصوصی لگاوٗ ہے۔
ان کے بڑے بھائی بریگیڈئر ڈاکٹر اظہر شمس ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول فتح جنگ سے تعلیم حاصل کی تھی

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں