ملک محمد کبیر صاحب (سابق ٹیچر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نمبر ۱ فتح جنگ)

تحریر: ڈاکٹر آصف جہانگیر خان
میں 1967؁ء میں چھٹی جماعت میں داخل ہوا تو اُس وقت کے معزز اساتذہ کرام میں ملک محمد کبیر صاحب بھی شامل تھے۔ پر ایک انسان کے لیے لڑکپن کا دور بڑا حسین ہوتا ہے۔میرے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔
اُس وقت پرائمری سکول میں ایک کلاس کو تمام مضامین پڑھانے کے لیے ایک ہی استاد ہوتا تھا۔لیکن جب ہائی سکول میں آےٗ تو یہاں پیریڈ سسٹم تھا جس میں ہر مضمون کے لیے الگ الگ اساتذہ ہوتے تھے۔ یہ ایک بڑا دلچسب تجربہ لگا۔ پرائمری سکول میں 1966؁ء کا سال میرا بڑا خواب ناک اور ساری زندگی کا حاصل دور تھا۔ اور میرے عظیم استاد تاج صاحب سے بھی مستفید ہونے کا سال تھا۔ تاج صاحب نے ہمیں انتہائی محب و لگاوٗ اور محنت سے پڑھایا تھا۔ہائی سکول میں آکر اب ایسے اساتذہ ہی کی تلاش تھی۔ اور یہاں آکر پتہ چلا کہ ہائی سکول میں انگریزی مضمون کا بڑا دور دورہ ہے۔خوش قسمتی سے خان محمد اقبال خان صاحب کی صورت میں عظیم ہستی مل گےٗ۔انہوں نے ہماری کردار سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔اس کے علاوہ اور مضامین میں سائنس، اردو اور حساب شامل تھے۔ افسوس یہ ہوتا تھا کہ انگریزی پر زیادہ توجہ ہونے کے باعث ان مضامین سے انصاف نہیں ہو پاتا تھا۔ معاشرتی علوم کا مضمون بھی توجہ سے محروم تھا۔
میں نے پہلے پہل تو ڈرائنگ کا مضمون پڑھنے کا سوچا مگر عربی کی کتاب مفت مل گیٗ۔اور میں عربی پڑھنے لگا۔تین سال تک عربی پڑھی۔ عربی کے استاد بہت بڑ ے جید عالم تھے مگر بات روح تک اترتی محسوس نہیں ہوتی تھی۔البتہ ابھی نصف صدی بعد بھی عربی گرائمر سیکھنے کے لیے کتاب سینے سے لگاےٗ پھر رہا ہوں۔
اُسی دور کے اساتذہ میں ملک محمد کبیر صاحب بھی شامل تھے۔آٹھویں جماعت تک اُن سے مختلف مضامین پڑھتے رہے۔اُن کے کردار کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ نہایت اعلی درجہ کے منتظم تھے۔ اُسی زمانے میں پرانے ڈاک خانہ(بابو یاسین کے مرحوم والد) کی بلڈنگ میں سکول ہو سٹل تھا۔اور کبیر صاحب اُس ہوسٹل کے منتظم تھے۔اسی زمانہ میں پنجاب سے سلامت شاہ صاحب اور اصغر علی مونا ٹیچر آےٗ تھے۔ان کی کبیر صاحب سے بہت دوستی تھی۔اور یہ ہمیشہ اکٹھے نظر آیا کرتے تھے۔اسی دور میں اُردو کے ٹیچر طالب صاحب بھی تھے۔وہ مین بازار میں فاروق ہوٹل کے اوپر والے چوبارے میں رہاکرتے تھے۔اور جہاں اب حافظ خالق صاحب گڑھی والے کے دکان ہے، اس کے اوپر کے چوبارہ میں مولوی نور محمد صاحب رہا کرتے تھے۔جو فارسی کے عالم تھے۔
یہ اُس دور کے اساتذہ کی کہکشاں تھی۔جوکہ خوب دمک رہی تھی۔
اسی زمانہ میں پروفیسر اسلم صاحب بھی سکول میں انگریزی پڑھایا کرتے تھے۔وہ بھی کبیر صاحب کے دوست تھے۔اور آخری عمر تک ان سے دوستی نبھاتے رہے۔ کبیر صاحب سکول میں ترقی کرتے کرتے سیکنڈ ہیڈماسٹر ہوگےٗ۔ملک مشتاق عاجز صاحب جب 1955؁ٗ؁ء میں ہیڈماسٹر تھے تو ان کے دور میں سکول کا میگزین خورشید شائع ہوا۔ اس میگزین میں کبیر صاحب کا ایک مستقل کالم کیکروں کے ساےٗ میں، شائع ہوا جوکہ پہلے کبھی خان اقبال خان مقصود صاحب لکھا کرتے تھے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں