جنگ میں استعمال ہونے والے مہنگے ترین طیارے

جنگ کے دوران افواج مختلف اقسام کے طیارے استعمال کرتی ہیں جن میں سے بعض لڑاکا ہوتے ہیں جبکہ کچھ سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں- لیکن یہ حقیقت ہے کہ محاذ کے دوران ہر طیارہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے- یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک یہی کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کی افواج کے پاس ایسے طیارے موجود ہوں جو انتہائی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں بوقتِ ضرورت ان سے زیادہ سے زیادہ فائد حاصل کیا جاسکے- ہم یہاں جنگوں میں استعمال ہونے والے دنیا کے مہنگے ترین طیاروں کا ذکر کرنے جارہے ہیں جن میں مختلف اقسام کے طیارے شامل ہیں- یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے مہنگے ترین طیاروں کی اکثریت امریکہ کے پاس ہے-
59530_03
F/A-18 Hornet
یہ امریکی جنگی طیارہ ہے اور اس کی مالیت 94 ملین ڈالر ہے- اس طیارے نے اپنی خدمات سرانجام دینے کا آغاز 1980 میں کیا- دو انجنوں سے لیس یہ لڑاکا طیارہ زمینی اور فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے- یہ طیارہ کینیڈا٬ آسٹریلیا٬ فن لینڈ٬ کویت٬ ملیشیا٬ اسپین اور سوئٹزر لینڈ کے زیرِ استعمال رہ چکا ہے-

59530_05

EA-18G Growler
یہ طیارہ F/A-18 نامی جنگی طیارے کا ایک اور ورژن ہے جسے الیکٹرونک جنگ کے لیے اپ ڈیٹ کیا گیا تھا- اس طیارے کی مالیت 102 ملین ڈالر ہے اور محدود ہتھیاروں سے لیس ہوتا ہے- اس وقت یہ طیارہ امریکی بحریہ کے پاس ہے- یہ طیارہ شکن ریڈار کو تلاش کرسکتا ہے بلکہ انہیں تباہ بھی کرسکتا ہے- اس کے علاوہ یہ طیارہ دشمن کے مواصلاتی نظام کو جام کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے-

59530_07

V-22 Osprey
اس طیارے میں یہ خصوصیت موجود ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر کی مانند زمین پر اتر یا فضا میں بلند ہوسکتا ہے- اس جنگی طیارے کی مالیت 118 ملین ڈالر ہے- اس طیارے کا استعمال پہلی بار 2007 میں عراق کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں کیا گیا تھا- اس طیارے کے ڈیزائن میں موجود خرابی کے باعث طیارے کی تیاری کے دوران بھی کئی افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں-

59530_09

F-35 Lightning II
یہ سپر سونک لڑاکا طیارہ Lockheed Martin نامی کمپنی نے تیار کیا تھا اور اس طیارے کی تیاری کے حوالے سے 2001 میں ہونے والی ڈیل اپنے وقت کا سب سے بڑا ملٹری کنٹریکٹ تھا- اس وقت اس جنگی طیارے کی مالیت 122 ملین ڈالر ہے- یہ طیارہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک جوائنٹ اسٹرائیک فائٹر پروگرام کے تحت تیار کروایا لیکن اپنے زیادہ وزن اور محدود طاقت کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن گیا-

59530_11

E-2D Advanced Hawkeye
اس جںگی طیارے کی ایجاد کو نگرانی اور تفتیش کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا تھا- اس طیارے میں ایک انتہائی طاقتور ریڈار کا نظام نصب ہے- اس طیارے کی مالیت 232 ملین ڈالر ہے- تاہم یہ طیارہ ابھی تجربات کے مراحل سے گزر رہے اور اس کے دو ٹیسٹ ورژن امریکی بحریہ کے حوالے کیے جاچکے ہیں-

59530_13

VH-71 Kestrel
یہ ایک جدید ہیلی کاپٹر ہے جسے امریکی صدر کے ہیلی کاپٹر سے تبدیل کیا جانا تھا- لیکن باراک اوبامہ کی جانب سے ہیلی کاپٹروں کی تیاری پر آنے والی بےشمار لاگت کے باعث انہیں ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا- تاہم مذکورہ ہیلی کاپٹر کی تیاری کے لیے 485 ملین ڈالر کے فنڈ کی منظوری دے دی گئی- اس وقت اس ہیلی کاپٹر کی مالیت 241 ملین ڈالر ہے-

59530_15

P-8A Poseidon
یہ طیارہ معلومات اکٹھا کرنے اور جنگی ساز و سامان لے جانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے- اس طیارے کی مالیت 290 ملین ڈالر ہے- یہ طیارہ ٹارپیڈوز٬ میزائل اور دیگر اقسام کے جنگی ہتھیار ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے- یہ طیارہ امریکی بحریہ کے زیرِ استعمال ہے-

59530_17

C17A Globemaster III
یہ ایک ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جو کہ فوجی قافلوں کو جنگی مقامات تک پہنچانے٬ میڈیکل اور ریسکیو کے لیے استعمال کیا جاتا ہے- اس طیارے میں چار ٹربو فین انجن نصب ہیں جن کی مدد سے یہ ہوا میں بلند ہوتا ہے جبکہ اس طیارے کی مالیت 328 ملین ڈالر ہے- یہ طیارہ 1993 سے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے-

59530_19

F-22 Raptor
اس جنگی طیارے کی مالیت 350 ملین ڈالر ہے اور یہ ایک مہنگا ترین طیارہ ہے- یہ طیارہ دشمن کے میزائل کو نشانہ بنانے کے علاوہ سپر سونک رفتار کے ساتھ طویل فاصلے تک اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے- اس کے علاوہ یہ طیارہ ہر قسم کے ریڈار سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے-

59530_21

B-2 Spirit
یہ ایک مہنگا ترین طیارہ ہے جس کی مالیت 2.4 بلین ڈالر ہے اور اسی وجہ سے جب یہ طیارے تیار ہو رہے تھے تو کانگریس نے ان کی تعداد 132 سے کم کر کے صرف 21 کر دی تھی اور اب یہ صرف 20 طیارے موجود ہیں کیونکہ ایک طیارہ تباہ ہوچکا ہے- اس طیارے کا تعاقب انتہائی مشکل ہے کیونکہ نہ تو یہ کسی ریڈار میں آتا ہے اور نہ انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کے ذریعے پکڑا جاتا ہے- اس طیارے میں موجود اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اسے آسانی سے اپنے ہدف کا نشانہ بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے-

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں