حیات مبارکہ پیر سید محمد علی شاہؒ بخاری

تحریر:صداقت محمود مٹھو
بحوالہ:سید مشتاق حسین شاہ
حیات مبارکہ پیر سید محمد علی شاہؒ بخاری
حضرت پیر سید محمد علی شاہ خاندان سادات کے چشم و چراغ ہونے کی حیثیت سے بچپن سے ہی نیکی اور پارسائی کی طرف مائل تھے۔ ان کے والد بزرگوار حضرت سید میاں گل شاہ بھی اپنے وقت کے ایک نیک پرہیز گار اور درویش انسان تھے۔ اُس زمانے میں حج کی سعادت حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا اور بہت کم لوگ اس سعادت عظیم سے فیض یاب ہوا کرتے تھے۔ سفر کی صعوبتیں زادراہ کی کی قلت اور سفر میں مال و متاع کے لٹ جانے، حتٰی کہ جان کی بازی ہار جانے کے خطرات تک موجود ہوتے تھے۔ مگر حضرت میاں گل شاہ نے اس دور میں یہ سعادت حاصل کر کے اپنے آپ کو اللہ کی اُن چند برگزیدہ ہستیوں میں شامل کر والیا جن کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
یَاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّۃُ0ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃًمَّرْ ضِیَّۃً0فَادْ خُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ0وَادْ خُلِیْ جَنَّتِیْ۔
ترجمہ:اے نفس مطمئن چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔ القران سورۃ الفجر
پیر سید محمد علی شاہ نے بچپن او رجوانی میں جس طرح اپنے والد بزرگوار اور والدہ مرحومہ کی خدمت گزاری کی اُس کی موجودہ دور میں مثال نہیں ملتی۔ ان کی بچپن کے چند واقعات کا ذکر جو آئندہ صفحات میں آئے گا۔ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ طلب ِعلم، اطاعت والدین اور تقویٰ و پرہیز گاری میں ا ٓج کا یہ بچہ اور لڑکا مستقبل میں یقینا اپنے آباء اجداد کے نقشِ قدم پر چل کر ان کانام روشن کرے گا۔ حقیقت یہی ہے کہ پیر سید محمد علی شاہ کی زندگی بچپن سے ہی شریعت و طریقت کے احکامات کی پیرو کار تھی۔
ابتدائی تعلیم:
آپ کی ابتدائی تعلیم کا اگرچہ کوئی خاص ریکارڈ موجود نہیں ہے لیکن اُن کی مجالس کی باتوں سے یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بہت ہی ابتدائی تعلیم _____لکھنا پڑھنا،ناظرہ قرآن وغیرہ اپنے والد گرامی سید میاں گل شاہ سے حاصل کی۔اور اسی دوران اپنے گاؤں لنگر کے قاضی خاندان کے ایک عالم دین قاضی عبدالعلی کے سامنے زانُوئے تلمذ تہہ کیا اور اُس وقت کے مروجہ ابتدائی علوم قرآن،حدیث، فقہ اور ریاضی وغیرہ میں تعلیم حاصل کی۔ قاضی عبدالعلی بعد ازاں راولپنڈی کے قصبہ چوہڑ ہڑپال منتقل ہو گئے۔ اُن کے فرزند مرحوم قاضی افضل کا شمار سلسلہ تبلیغ کے معتبر اکابرین میں ہوتا ہے۔ برادرم سید عنایت حسین شاہ اپنے والد محترم (پیر صاحب) کی زبانی روایت کرتے ہیں کہ اُنکے اُستاد قاضی عبد العلی مرحوم نے انہیں وصیت کی تھی کہ ان کے وصال کے بعد ان کی میت کو واپس لنگر لا کر کفن و دفن کی ذمہ داری آپ کی ہے چنانچہ آپ نے اپنے استاد کی وصیت کو بعد از وصال پورا کیا اور وہ آج بھی موضع لنگر میں محوِ استراحت ہیں۔
قاضی عبدالعلی مرحوم سے ابتدائی تعلیم کے بعد پہلے آپ ایک قریبی گاؤں موضع بٹھو ضلع اٹک میں اُس وقت کے ایک جید عالم مُلا حبیب کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ پیر صاحب بٹھومیں دوران تعلیم اور وہاں کے اساتذہ کا ذکر اکثر اچھی یادوں کے لحاظ سے کرتے تھے۔ حضرت مُلا حبیب کے تین بیٹے تھے محمد طیب، غلام فریداور سلطان محمود۔ محمد طیب اور غلام فرید تو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اور سلطان محمود بقید حیات ہیں بٹھو میں ہی سکونت پزیر ہیں اور اس وقت ضیعف العمر ہیں۔ ان ہی مُلا حبیب کے نواسے محمد زاہد ہائی سکول باہتر ضلع اٹک میں میرے کلاس اور ڈیسک فیلو تھے جو بعدازاں جواں عمری میں ہی فوت ہو گئے تھے۔
اس کے بعد پیر صاحب ضلع اٹک کے مشہور قصبے بسال (ضلع اٹک) تشریف لے گئے اور وہاں کی ایک روحانی شخصیت اور جید عالم خواجہ میر احمد کے مدرسے میں داخل اور ان کے بھتیجے ہو گئے اور تعلیم کے اگلے مدارج کے حصول میں لگ گئے۔ راقم الحروف کی کیمبلپور(اٹک)کالج کے دوران ِتعلیم ایک مرتبہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کا ذکر ہو گیا۔ تو پیر صاحب نے ازرہ تفنن کہا کہ ڈاکٹر مرحوم بچپن میں بہت شرارتی واقع ہوئے تھے میں نے قدرے حیرانی سے پوچھا کہ آپ ان کو بچپن سے کیسے جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا تعلق بھی موضع بسال گاؤں سے تھا اور یہ بھی بچپن میں ایک دینی مدرسے کے طالب علم تھے۔ اب راقم الحروف کی یاداشت میں یہ بات یقینی محفوظ نہیں ہے کہ پیر صاحب مرحوم نے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کا ذکر بحیثیت ہم مکتب کیا تھا یا اُسی علاقے کے کسی مدرسے میں ہم عصر طالب علم تھے۔ تاہم ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے بعد ازاں عصری تعلیم کے حصول میں کامیابی حاصل کی وہ ایک متبحر عالم، سکالر اور بے شمار کتب کے مصنف ہیں۔ جن میں ”دو قرآن“، ”دو اسلام“ اور”من کی دنیا“ مشہور ہیں۔
کتاب ”من کی دنیا“ کا ذکر پیر صاحب کی زبانی یا کسی اور ذریعے سے پیر صاحب کے ایک قریبی معتقد جناب میر باز خان مرحوم تک پہنچا تو انہوں نے اس کے مطالعہ کی خواہش میں برادرم قربان حسین شاہ کے ذریعے مجھ سے کتاب مہیا کرنے کی فرمائش کر دی۔ چنانچہ راقم الحروف نے گورنمنٹ کالج اٹک کی لائبریری سے اپنے نام سے جاری کرواکر مرحوم میر باز خان کو بھجوائی۔ کتاب”من کی دنیا“میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے رُوح اور اُس کی حقیقت کو سائنسی اور عقلی دلائل کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
پیر صاحب بسال سے تعلیم مکمل کر کے واپس گھر آگئے تو کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اُن کے والد مرحوم نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے قدرے سختی سے تاکید کی چنانچہ آپ ایک مرتبہ پھر اپنی کتابیں اور زادراہ لے کر منزل کاتعین کیے بغیر گھر سے روانہ ہو گئے۔ پیر صاحب مرحوم کی زبانی برادرم سید عنائت حسین شاہ روایت کرتے ہیں کہ بسال شریف سے واپس آنے کے بعد جب وہ دوسری مرتبہ گھر سے حصول تعلیم کے لیے نکلے تو ضلع ہری پور کی اُس وقت کی ریاست امب(دربند) کے ایک مشہور مدرسے پہنچ گئے۔ آمدورفت اور خط و کتابت کی سہولیات کم ہونے کی وجہ سے عدم رابطہ کی بنا پر والدہ مرحومہ اپنے اکلوتے بیٹے کے فراق میں پریشان ہو گئیں اور اپنی پریشانی کا اظہار اُن کے والد محترم سے کیا تو انہوں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ”فکر نہ کرو تمھارا بیٹا حصو ل تعلیم کے راستے میں نکلا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ کامیاب ہو کر ہی لوٹے گا“۔
امب میں تعلیم کے حصول کے بعد آپ حضرو (ضلع اٹک) سے ملحقہ ایک گاؤں موضع بھنگی آگئے اور وہاں پر اُس وقت کے ایک جید عالم دین حضرت مولاناعبدالحق کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ مولانا عبدالحق (آف حضرو) وہ شخصیت ہیں جنہوں نے مشہور عالم مفسر اور محدث حضرت مولانا عبدالحق حقانی دہلوی (مصنف تفیسرِ حقانی) کی مشکوٰۃ شریف کی شرح کی مشہور کتا ب”ا شتعہ اللمحات“پر حاشیہ بھی لکھا اور اس کا ذکر مختلف دینی کتب میں موجود ہے (تفسیرِ حقانی مکمل چھ جلد اور مولانا عبدالحق حقانی کی کئی مشہور کتب پیر صاحب کی لائبریری میں آج تک موجود ہیں)۔
آباو اجداد:
پیر صاحب کے والد محترم موضع پیر سباک ضلع نوشہرہ سے ہجرت کر کے موضع لنگر ضلع کیمبلپور (اٹک) آئے تھے۔
پیر صاحب سید محمد علی شاہ ؒ کے خاندان کے جیدا کابرین کا تفصیلی ذکر کرنے سے پہلے بہتر سمجھتا ہوں کہ اُن کا خاندانی شجرہ مختصراً درج کر دوں تا کہ قارئین کو اُن اکابرین کی ترتیبِ زمانہ سمجھنے میں مدد مل سکے۔ یہاں پر پیر سید محمد علی شاہ کے والد بزرگوار حاجی الحرمین سید میاں گل شاہ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے (قلمی) شجرے سے نقل شدہ شجرہ جو ہمارے برادر بزرگ سید محمد حسین شاہ مرحوم اور ہمارے برادر نسبتی سید محمد جُنید شاہ نے 31اگست1968؁ء کو مرتب کیا ہے، سے نقل کیا جارہا ہے۔
الحاج پیرسید محمد علی شاہ ؒبن الحاج سید میاں گل شاہ ؒ بن سید امیرؒ بن محمد علی شاہ ؒ بن سید میر عصمت شاہ ؒ بن سید لطف اللہ شاہ ؒ بن پیر سید محمد علی شاہ: بن گنج علوم بانی بیت الغریب شریف پیر سید زین الدینؒ بن پیر سید فرید الدینؒ بن حضرت سید نا صر الدین محمود شاہ المعروف پیر سباکؒ بن سید ابابکرؒبن حضر ت شاہ اسماعیلؒ بن حضرت میر سید علیؒ بن سید قلندر کریم ؒ بن ولی اللہ ؒ بن سید سلمان شاہؒ بن سید میر قطب الدینؒ بن سید علی کبیرؒ بن سید طارض ؒبن سید یعقوب شاہ ؒ بن سید بہاء الدین ؒ ملقب بہ (شاہ قطب عالم) بن سید جلال الدینؒ (ملقب بہ مخدوم جہانیاں جہان گشت) بن سید سلطان احمد کبیرؒ بن سید جلال الدین ؒ سرخ بخاری اُچ شریف بن سید علی اولیٰ بن سید جعفرؒ بن سید محمد ؒ بن سید محمود ؒ بن سید احمد ؒ بن سید عبداللہ ؒ بن سید جعفر ثانیؒ بن امام علی نقی ؑ بن امام علی محمدتقی ؑ بن امام علی موسیٰ رضا ؑ (مشہد شریف) بن امام موسی کاظمؑ بن امام جعفر صادق ؑ بن امام محمد با قر ؑ بن امام علی زین العابدین ؑ بن سید الشہدا امام حسینؑ بن امام برحق حضرت علی ؑ ابن ابی طالب ؓ۔خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہراؓ بنت خاتم النبین حضرت محمد رسول ﷺ۔
سلسلہ ارادت:
جس طرحمیں نے پہلے ذکر کیا کہ پیر صاحب مرحوم ابتدائی عمر سے ہی تقویٰ تصوف اور روحانیت کی طرف مائل تھے۔ پیر صاحب کے والدمرحوم سید میاں گل شاہ
میر اشریف ضلع اٹک کے حضرت خواجہ میر احمد بسالوی ؒکے مرید تھے۔ میرا شریف کی حاضری کے دوران آپ کو خواب میں ایک بزرگ کی زیارت نصیب ہوئی۔ جو خواب کے دوران لوگوں میں لنگر بانٹ رہے ہیں اور ایک ہجوم آپ سے دعائیں کرو ارہا ہے۔ آپ نے وہاں پر اس شبیہہ کے بزرگ کو تلاش کیا مگر میرا شریف میں نہ ملا چنانچہ اس بزرگ کی تلاش میں گندگر (ہزارہ) کے پہاڑی علاقے کی ایک خانقاہ باغدرہ شریف پہنچے۔
خانقاہ باغدر ہ شریف:
باغدرہ شریف میں آپ کی ملاقات جن بزرگ سے ہوئی ان کی شبیہہ خواب میں دیکھے ہوئے بزرگ سے ملتی تھی۔ چنانچہ آپ کو خواب میں دیئے گئے اشارے کی حقانیت پر یقین آگیا۔ باغدرہ شریف کے یہ بزرگ حضرت خواجہ عبدالرحیم باغدوری ؒ تھے۔ چنانچہ آپ بزرگ کی توجہ کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ کافی دیر بعد جب بزرگ کی توجہ آپ کی طرف ہوئی اور آپ سے پوچھا کہ آپ کو کیا تکلیف ہے تو آپ نے فرمایا کہ حضور دل کی تکلیف ہے،سکون قلب کا خواہشمند ہوں اور ساتھ ہی اپنے تین معصوم بیٹوں کی وفات کا بھی ذکر کیا تو حضرت باغدرویؒ نے ذکر اللہ کا ایک نسخہ تجویز کیا او ر فرمایا کہ اسے آز ماؤ اور فرق نہ آئے تو دوبارہ آنا۔ آپ نے دیئے گئے نسخے پر عمل کیا اورواپس جا کر بتایا کہ حضور بہت آرام ہے اور پھر اسی لمحے آپ نے حضرت خواجہ عبدالرحیم باغدوریؒ کے دست حق پرست پر بیعت کر لی اور یہاں سے اس خانقاہ کے ساتھ محبت، عقیدت اور عشق کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ وہ زندگی کی آخری سانس تک برقرار رہا۔
خانقاہ باغدوری سالک آباد شریف:
خانقاہ ھذا کے بانی حضرت خواجہ قادر بخشؒ ہیں جن کا شجرہ نسب خاندان مغلیہ سے ملتا ہے۔ آپ اجی صاحب کے نام سے معروف تھے۔ آپؒ کوہ مری کے علاقے مسیاری سے نقل مکانی کر کے باغدرہ شریف میں آباد ہوئے۔ باغدرہ آنے سے پہلے آ پ حضرو میں بھی مختصرعرصے تک قیام پزیر رہے اور یہیں سے ہجرت کر کے آپ گند گر پہاڑ کے ایک پر فضامقام باغدرہ میں رہائش پزیرہوئے۔ چونکہ آپ روحانی شخصیت ہونے کے علاوہ ایک متبحر عالم دین بھی تھے لہذامسیاری حضرو میں آپ بہت شہرت حاصل کر چکے تھے اور دور دراز سے طالبان علم علم کی پیاس بجھانے جوق در جوق آپکے پاس آتے۔ انہی طالبانِ علم میں موہڑہ شریف کے حضرت خواجہ محمد قاسم موہڑوی بھی شامل تھے۔ آپ باغدرہ شریف کی خانقاہ نقشبندیہ کے بانی ہیں۔
پیر صاحب اور خانقاہ سالک آباد شریف:جب خانقاہ سالک آباد شریف کی تعمیر ہو رہی تھی تو آپ ہر چند روز بعد اپنے مریدوں اور عقید مندوں او ر عزیز و اقارب کے ہمراہ سالک آباد شریف جاتے اور دربار عالیہ کی تعمیر نہ صرف اپنی نگرانی میں معماروں اور مزدوروں سے کرواتے بلکہ تعمیر کے کاموں میں بذات خود بھی حصہ لیتے اور اپنی ذات یا انانیت کو کبھی بھی اس کام میں آڑے نہ آنے دیا۔ سالک آباد کے لنگر شریف کے انتظام میں بھی آپ کا معتدبہ حصہ ہوتا اس سلسلے میں عرس مبارک کے موقع پر خواجہ عبدالرحیم ؒ اور خواجہ محمد اعظمؒ کے خطوط و ہدایات بسلسلہ عرس اور لنگر شریف آپ کو پہنچ جاتے اور آپ تن من دھن کے ساتھ ان ضروریات کے مہیا کرنے پر لگ جاتے۔ پیر صاحب خود بھی ولی تھے اور اُن پر اپنے مرشد کی عنائت خاص کی وجہ سے اپنے مریدین کا ایک وسیع حلقہ تھا اس لیے آپ عرس کے مبارک موقع پر باقاعدہ اہتمام کے ساتھ اپنے کثیر تعداد مریدین کے ہمراہ حاضری دیتے اور اس طرح اپنے مرشد خاص سے ہدایت اور درجات کی بلندی پاتے۔
پیر سید محمد علی شاہ ؒ کی اپنے مرشد سے محبت کی بے شمار مثالیں ہیں زندگی کا کوئی لمحہ اپنے مرشد سے ملاقات کے لیے ضائع نہ ہونے دیتے۔ سالک آباد جیسے اُن کا دوسرا گھر تھا۔ حضرت خواجہ باغدروی ؒ کی حیا ت میں اکثر پیدل سفر کرکے سالک آبا شریف پہنچتے اور مرشد بھی اپنے مرید خاص کو اُسی محبت اور عنایت خاص سے نوا ز تے۔ پیر صاحب مرحوم خود اس بات کا اکثر ذکر فرماتے کہ حضرت باغدروی ؒ جب آخری عمر میں بیمار ہوئے تو وہ پشاور کی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ پیر صاحب مرحوم کئی دنوں تک اُنکے ساتھ ہسپتال میں اُن کی عیادت کے لیے ساتھ رہے۔
قدرت کا قانون اٹل ہے۔ اجل لادوا ہے ہسپتال میں مرشد کے وصال کا وقت قریب آپہنچا تو پیر صاحب نے اپنے مرشد کا سر اٹھا کر اپنے زانو پر رکھ لیا۔ مرشد نے اپنے مرید خاص کے چہرے پر آخری نظر ڈالی۔ اس نگاہ ِ آخر میں محبت، شفقت اور دعائیں ہی دعائیں تھیں۔ مرشد کے لب کلمہ طیبہ کے لیے حرکت کر رہے تھے اور مُرید خاص کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگی تھی۔ صاحبزادہ صاحب اور چند اور مُرید ساتھ کھڑے یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ مرشدؒ اور مریدؒ کے عشق کا سفر تمام ہوتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں
عشق کے خورشید سے شام اجل شرمندہ ہے عشق سو ز زندگی ہے،تاابد پائندہ ہے
رخصت محبوب سے مقصد فنا ہوتا اگر جوش الفت بھی دل عاشق سے کر جاتا سفر
عشق کچھ محبوب کے مرنے سے مر جاتا نہیں رُوح میں غم بن کے رہتا ہے مگر جاتا نہیں
ہے بقائے عشق سے پید ابقا محبوب کی زندگانی ہے عدم نا آشنا محبوب کی
حضرت خواجہ محمد اعظم ؒ نقشبندی:
حضرت خواجہ محمد اعظم باغدوری باغدرہ شریف میں 1920ء بمطابق1338؁ھ میں حضرت خواجہ عبدالرحیم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت پر حضرت خواجہ عبدالرحیم انتہائی مسرور تھے کہ انہیں خانقاہ مجددیہ نقشبندیہ کا وارث اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ آپ بھی اپنے والد کی طرح پیدائشی ولی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بچپن سے ہی آپ کی عادات دوسرے بچوں سے مختلف تھیں۔ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد کی زیر نگرانی ہوئی اور اپنے والدؒ کے سلسلے سے ہی آپ کو رشد و ہدایت ملی اورانہی کے دست حق
پر ست سے آپ خانقاہ کے والی اور وارث مقرر ہوئے۔ اور اسی خصوصی تربیت کی وجہ سے روحانیت کے اعلیٰ مدارج پر فائز ہوئے۔ آپ اپنے مرشد اور والد کی زندگی میں ہی اُنکی خصوصی توجہ اور ہدایت کی وجہ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہو چکے تھے۔
31مارچ1947 ؁ء کے دن جب آپ کے والد اور مرشد حقیقی اس دنیا سے رخصت ہو گئے تو آپ چونکہ کم عمرتھے اس لیے آپ کے چچا حضرت خواجہ محمد معصوم المعروف پیر مسکین صاحب اُن کے گدی نشین مقرر ہوئے مگر 1958؁ء میں جب یہ بزرگ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو حضرت خواجہ محمد اعظمؒ مسند رشد و ہدایت پر متمکن ہوئے اور تھوڑے ہی عرصے میں ا پنے روحانی فیوض دور دور تک پہنچا دیئے۔ آپ نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد دور دراز اندرون ملک اور بیرونی ملک کے دورے کیے اورامت مسلمہ میں اتفاق و اتحاد کا جذبہ بیدار کیا اور تیزی سے پھیلتی ہوئی الحاد و گمراہیوں سے لوگوں کو خبر دار کیا۔ آ پ ایک سچے عاشق رسولﷺ تھے اور اپنے پندو نصائح میں حضورﷺ کی محبت سے سر شاری کا درس دیتے۔ اس کے ساتھ ہی اپنے وعظ اور پندو نصائح میں اپنے بزرگوں کی طرح طریقت و شریعت کی پابندی کو لازم قرار دیتے۔
خواجہ محمد اعظم ؒ اور پیر سید محمد علی شاہؒ
جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ پیر صاحب حضرت خواجہ باغدوریؒ کے اولین عُشاق میں سے تھے۔ باغدرہ شریف سے جو تعلق بیعت ِعقیدت شروع ہوا وہ سالک آباد شریف میں اور بڑھ گیا۔ پیر محمد اعظم صاحب پیر صاحب مرحوم کے ہم عصر تھے اور اپنے والد بزرگوار اور پیر صاحب کے قریبی تعلق کے گواہ تھے۔ پیر صاحب فرماتے تھے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں جب ولی زماں خواجہ خواجگاں کا وصال کا وقت قریب آیا تو اُن کا سر پیر صاحب کی گودمیں تھا۔ پیر محمد اعظمؒ ان لمحات کے چشم دید گواہ تھے۔ پیر صاحب زاروقطار رورہے تھے اور جگر گوشۂ مرشد جو خود اپنے والد اور اپنے مرشد کی جدائی کے غم میں نڈھال تھے پیر صاحب کو دلاسہ دے رہے تھے۔ اُن کو بہت دھیمے لہجے اور مختصر الفاظ میں زندگی موت کا فلسفہ بتا رہے تھے۔ صبر کا پہاڑ بن کر کھڑے تھے اور اپنے پیر بھائی کو صبر کی تلقین کر رہے تھے۔
راقم الحروف کو یا دہے کہ پیر محمد اعظم ؒ ہمارے گاؤں بلکہ ہمارے گھر بھی آتے تھے میں اُس وقت عمر میں بہت کم سِن تھا مگر ہمارے گھر کی بیٹھک میں اُن کا ورود اور اُن کی شکل آج تک میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ خواجہ محمد اعظم اور پیر صاحب کی باقاعدہ خط و کتابت ہوتی تقریبات عرس میں آپ کا مشورہ اور مدد باقاعدہ شامل ہوتی۔ اِسی طرح جب پیر صاحب عرس کے موقع پر یاددیگر مواقع پر سالک آباد جاتے تو پیر محمد اعظمؒ مسجد میں انہیں محراب کے اندر اپنے ساتھ بٹھاتے۔ خواجہ صاحب فرماتے تھے کہ پیر سید محمد علی شاہ(جنہیں وہ شاہ صاحب کہہ کر پکارتے تھے)کا تعلق خاندان سادات سے ہے، وہ ایک عالم دین ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ میرے والد، میرے مرشد کے خلیفہ خاص ہیں۔ وہ لوگوں کو بتاتے تھے کہ کس طرح خواجہ عبدالرحیم باغدوریؒ نے آپ کو شمس الخلفاء کا خطاب دیا تھا اور ہمارے دل میں بھی اُن کے لیے وہی قدر اور احترام ہے۔ اور خود پیر صاحب نے بھی خواجہ عبدالرحیمؒ کی وفات کے بعد بھی آپ کے ساتھ تعلقات،احترام اور محبت و عقیدت میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ پیر صاحب کی اپنے مرشد اور اُن کے جانشین کے بارے میں کچھ ایسی کیفیت تھی کہ بقول اقبال
تیر ی لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی مسیح و خضرِ سے اونچا مقام ہے تیرا
نہاں ہے تیری محبت میں رنگِ محبوبی بڑی ہے شان، بڑا احترام ہے تیرا
ایسی ہی شخصیت کے لیے علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے۔
سفینہ برگ گل بنالے گا قافلہ مور ناتواں کا ہزار موجوں کی ہو کشامکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے میں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا
میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو شررفشاں ہو گی آہ میری، نفس میرا شعلہ بار ہو گا
سیرت،اخلاق و عادات:
اگرچہ پیر صاحب مرحوم کے بارے میں لکھی گئی تمام تحاریر میں اُن کی زندگی،سیرت اوراخلاق و عادات کے بارے میں کوئی نہ کوئی جھلک ملتی ہے تاہم یہاں پر اُن کی زندگی کے چند پہلوؤوں کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔
سچے عاشق رسولﷺ: سچے اور سراپا عاشق رسولﷺ تھے۔ خلوت و جلوت میں حضورﷺ کی ذات کا ذکر جس انداز سے کرتے اُس سے ان کے اندرونی جذبات کا اظہار ہوتا تھا۔ جمعتہ المبارک کے خطبے کے دوران وہ حضورﷺ کی کسی شان اور نسبت کا ذکر کرتے ہوئے اکثر آبدیدہ ہو جاتے اس سلسلے میں وہ مولانا رومؒاور شیخ سعدی ؒکی حکایات کا حوالہ دے کر سیرت طیبہ کا ذکر کرتے۔ گستاخی رسولﷺ کا شائبہ تک برداشت نہ کرتے۔ تاہم آپ کی زندگی میں رواداری بے انتہا تھی۔ کبھی کسی فرقے یا مسلک کو برا بھلا نہیں کہا۔ اگراختلاف کا ذکر ہو بھی جاتا تو اس میں کسی کی دل شکنی نہ ہوتی۔ اپنے روز مرہ کے ذکر اذکار میں قرآنی سورتوں کی تلاوت اور اسماء الحسنیٰ کے علاوہ نبی اکرمﷺ پر کثرت سے
دروو صلوٰۃ آپ کے وردِ زبان رہتا۔
مسلک: ان کا مسلک وہی تھاجو اُن کے آباو اجداد اور جو عوام الناس کا تھا۔یعنی راسخ العقیدہ اہل سنت و الجماعت۔۔۔۔۔ صوفیاء میں سے سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق تھا۔ تصوف اور آستانوں کے سلسلوں سے منسلک ہونے کے باوجود دوسرے مسالک سے کبھی بے جا تعرض نہ کیا۔ کبھی کسی کو برا بھلا نہ کہا۔ آپ کی ذہنی فراخدالی کا ثبوت یہ ہے کہ آپ ہر مسلک کی اچھی کتب کا مطالعہ کرتے اور ان سے کوئی بھی اچھی بات مل جاتی تو اُسے قبول کر لیتے ”اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں اور دوسروں کے مسلک کو چھیڑو نہیں کے اصول کی آپ زندہ مثال تھے۔ آپ کا مزاج اور غرض علامہ اقبالؒ کے ان اشعار پر پورا اترتا تھا۔
مدعا تیراگر دنیا میں ہے تعلیم دیں ترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں
وا نہ کرتافرقہ بندی کے لیے اپنی زباں چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں
وصل کے اسباب پید اہوں تیری تحریر سے دیکھ! کوئی دل نہ دکھ جائے تیری تقریر سے
پاک رکھ اپنی زباں، تلمیذِ رحمانی ہے تُو ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو

رزق حلال کی کمائی:عقید تمندوں اور مرید ین کی ایک بڑی تعداد ہونے کے باوجود اپنے لیے رزق حلال اپنے ہاتھوں سے کماتے۔ میری یادسے پہلے یعنی اپنی عین جوانی میں کاروبار بھی کیا۔ میرے لڑکپن میں اپنی زمینوں میں اپنے ہاتھ سے کاشتکاری کرتے رہے۔ معاشی وسیلہ کے طور پر لنگر اور گکھڑ کے درمیان میں نالہ نندنا کے اوپر زمین خرید کر ایک پن چکی تعمیر کی جو بعد ازاں ہمارے خاندان کے معاشی اور رزق کے مسائل حل کرنے میں رحمت خداوندی ثابت ہوئی۔سرکاری نوکری اور کوئی جاب نہ ہونے کے باوجود اس
(پن چکی) اور زمین سے اتنی آمدنی ہو جاتی تھی کہ ہمارے سب بہن بھائیوں کے تعلیمی اخراجات پورے ہونے کے علاوہ غریب غرباء، حاجتمندوں اور مسافروں کی مدد بھی ہو جاتی تھی۔
سخاوت اور دریا دلی:آپ طبعیت میں بہت سخی واقعہ ہوئے تھے۔ جیب میں ہر وقت رقم موجود ہوتی اور کسی بھی حاجتمند کی بوقت ضرورت مدد کر سکتے تھے۔ اکثر شہر جاتے تو اپنے ساتھ دوائیاں خرید لیتے اور بلا تفریق امیر و غریب ہر بیمار کو دوا مفت مہیا فرماتے۔ قرض حسنہ ایسے لوگوں کو بھی دے دیتے تھے جن سے واپسی کی اُمید بھی نہیں ہوتی تھی۔ گاؤں کی مساجد کی ضروریات بھی سب سے پہلے اپنی جیب سے ادا کرتے۔ مہمان نوازی جیسے ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ مہمان کی خدمت اپنی اوقات سے بڑھ کر کرتے تھے۔ گاؤں کی انتہائی غریب عورتیں اپنی حاجات ہماری والدہ کے ذریعے آپ تک پہنچاتیں اور آپ ان کی حاجات کو پورا کرنے میں ایک پل دیر نہکرتے
ہمیں سکول کے سبق میں حوصلہ افزائی کے لیے اکثر انعامات سے نوازا کرتے۔ کسی بھی چھوٹی بڑی کامیابی پر ہمیں نقد رقم یا تحفہ مثلاً پین، کاپی وغیرہ سے نوازتے اور یہ سلسلہ آگے ہمارے بچوں (آپ کے پوتوں) تک جاری رہا۔مسافروں کے ذکر سے یاد آیا۔۔۔۔۔۔ اُس زمانے میں مسافروں کا ٹھکانہ گاؤں کی مساجدمیں ہوتا تھا۔ ہماری مسجد پرانے زمانے کے چُونے سے بنی ہوئی پکی مسجد تھی لیکن چھت کچی اور لکڑی کے ”بالوں“ سے بنی ہوئی تھی۔ اگلے والا کمرہ بڑا ہال تھا اور کچا ہونے کی وجہ سے سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا ہوتا تھا۔ فرش پر ایک خاص قسم کی گھاس بچھائی جاتی جو پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ نرم اور گرم بھی ہوتی تھی اور کئی سال تک اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ باہر سے آنے والے مسافر اکثر پھیری لگانے والے، کپڑا، سرمہ اور سنگھار کا سامان، چٹائیاں، ایلومینیم کے برتن، برتنوں کو مانجھنے اور قلعی کرنے والے ہوتے تھے۔ جو دن کے وقت پھیرے لگا کر اپنا سامان بیچتے تو رات کومسجد میں قیام کرتے۔ اُن میں زیادہ تر پٹھان (غلزئی قبیلے کے لوگ جو آجکل اٹک شہر میں شیر پنجاب کے نام سے بزنس کرتے ہیں اور اُن کا شماراٹک کے بڑے تاجروں میں ہوتا ہے) اور ایک بابا پراچہ نام کا شخص تھا جو اکثر دن کو ہی پھیرا لگا کر چلا جاتا۔ ہمارے والد بزرگوار کی عادت تھی کہ مغرب کی نماز کے بعد جب گھر آتے تو ہماری بے جی (والدہ محترمہ) سے کہہ دیتے کہ ایک دو یا تین مسافروں کا کھانا بھجوادیں۔ بے جی اس اچانک افتادپر گھبرا جاتیں لیکن پھر وہ عادی ہو گئیں اور ہفتے میں ایک دو دن مسافروں کے لیے کھانا بھجوانا ایک روٹین بن گیا۔ اور اُس وقت تک رہا جب تک کہ سائیکلیں اور آمدورفت کے دیگر ذرائع وجود میں آگئے اور یہ لوگ دن کو پھیرا لگا کر شام تک اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتے۔
ہمہ جہت شخصیت:پیر صاحب کو آپ ایک ہمہ جہت شخصیت بھی کہہ سکتے ہیں۔ وہ بیک وقت ایک مذہبی پیشوا، ایک سکالر، سیاستدان، عمائدعلاقہ، تاجر، حکیم اور زمیندار (کاشتکار) کتب اور اخبار بینی کے شوقین اور سیاح بھی تھے۔ خاندان سادات پیر سباک کے ایک معزز رکن ہونے کے علاوہ اٹک، بنوں، لکی مروت میں اُن کے بے شمار عقیدت مند (مریدین) موجود تھے۔ اور خود ایک آستانہ عالیہ سالک آباد شریف کے خلیفہ خاص تھے۔ تاہم آپ نے اپنے زندگی میں کوئی خاص آستانہ اور گدی وغیرہ قائم نہیں کی بلکہ اپنے عقید تمندوں اور مریدوں کے ساتھ تعلق کو دعاؤں اور پندو نصائح تک محدود رکھاتو ہم پرستی، گنڈوں، جادو اور نجومیت وغیرہ جیسے اشغال سے مکمل اجتناب کرتے۔
زاہد شب بیدار:پیر صاحب کا بچپن اپنے زاہد و پرہیزگار حاجی الحرمین والدکی زیر نگرانی پاکیز گی اور ادائیگی نماز و فرائض میں گزرا۔ جوانی کے دور سے اپنے مرشد کی ہدایت پر چلہ کشی کی اور پھر مستقل طور پر ایک تہجدگزار اور زاہد شب بیدار کی زندگی گزاری۔ صبح اندھیرے منہ اٹھنا، باقاعدگی سے تہجد اور مسجد میں صبح کی اذان خود دینا ان کا معمول تھا۔ ہم نے سوائے ان کی آخری عمر کی شدید علالت کے کبھی اُن کے معمولات میں فرق نہیں دیکھا۔ دن کے بیشتر وقت وہ باوضو ہوتے اور کھانے پینے اور آرام کے اوقات میں بھی ذکر ازکار اور قرآن پاک کی مشہور سورتوں کی تلاوت اُن کی زبان پر رہتی اور کبھی کھبی سورۃ مزمل اور سورۃ رحمان کی آیات کی آواز ہمارے کانوں تک بھی پہنچ جاتی۔ ہم اکثر ذکر اذکار کے وقت اُن کے سامنے خاموش بیٹھے ہوتے تھے۔ بہت ہی بچپن میں اگر شرارت پہ دل کرتا تو ہم چپکے سے اُن کے سامنے سے کھسک جاتے مگر اُن کے سامنے کبھی اُونچی آواز سے بولنے اور بے جا شور و غل کی جراء ت نہیں ہوئی۔
لباس و معمولات زندگی۔ آپ لباس کے طور پر عموماً ایک سفید لمبی قمیض اور چوڑی شلوار زیب تن فرماتے۔ سر پر سفید پگڑی اور پگڑی کے اُوپر سفید چادر ہوتی۔ بہت ابتدا میں (جیسا کہ ہم نے بچپن میں ا ُن کو دیکھا) سفید پگڑی کے اُوپر سفید چادر کو اس طرح اوڑھ لیتے کہ راستے میں جاتے ہوئے ان کا چہرہ بہت کم ہی نظر آتا تھا۔ سردیوں میں کمبل یا گرم چادر بھی اوڑھ لیتے تھے اور سیاہ واسکٹ یا کھبی کبھی لمبا کوٹ بھی زیب تن کرتے۔ پاؤں میں سرد ی گرمی میں بوٹ یا گر گابی پہنتے تھے۔ آپ کے دائیں ہاتھ میں دائمی طور پر چاندی کی انگوٹھی ہوتی تھی جس میں فیروزے (پتھر) کا نگینہ ہوتا تھا جو آپ کے جسم پر ایک عجیب قسم کے تقدس کا تاثر پیدا کرتا۔ گھر سے باہر جاتے ہوئے آپ کے ہاتھ میں عصا ضرور ہوتا تھا جس کو آپ کبھی سہارے کے طور پر نہیں بلکہ سنت رسولﷺ کے طور پر سفر میں اپنے ساتھ رکھتے۔ خوبصورت گرم چادریں گاؤں کے جو لا ہے بنتے تھے جو اکثر محبت سے آپ کو تحفتاً بھی پیش کرتے۔
لباس کی وجہ سے آپ کی شخصیت بھاری بھر کم شخص کی لگتی تھی مگر اندر سے ان کے جسم پر گوشت کی مقدار اتنی کم تھی کہ وہ بجا طور پر ایک دبلے پتلے اور جسمانی طور پر نحیف و نزار شخص کہلا سکتے تھے۔ اس بات کا پتہ ہمیں اُس وقت چلتا جب ان کے سفر سے واپس آنے کے بعد ہم ان کے پاؤں اور ٹانگیں دباتے۔ شاید اسی جسمانی توازن کی وجہ سے طویل پیدل سفر ان کا معمول تھا۔ لنگر و گکھڑ کے درمیان 6کلومیٹر فاصلے کا پیدل پہاڑی سفر آپ کا معمول تھااور بسوں اور سڑکوں کی تعمیر سے قبل وہ اس سے بھی طویل سفر آسانی سے طے کر سکتے تھے۔ سفر کے دوران ان کی رفتار اپنے ہمراہیوں سے تیز ہو تی مگر محسوس نہیں ہوتا کہ وہ تیر رفتاری سے چل رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے لڑکپن بلکہ جوانی کے دور میں بھی ہم اُن کے ساتھ پیدل نہیں چل سکتے تھے اور اگر اُن کے ساتھ پیدل سفر کرنا پڑ جاتا تو بچھڑ بچھڑ کر ملتے تھے۔
راقم کو کالا باغ سے موضع تبی سر نزد شکر درہ (کوہاٹ) کا 18میل (تقریباً 28کلومیڑ) کا پیدل سفر یاد ہے راقم اُس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا اور اپنی اکلوتی پھوپھی سے ملنے والد صاحب کے ہمراہ پہلی مرتبہ ان کے گاؤں جا رہا تھا۔ میں کئی بار چلتے چلتے اُن سے بچھڑ جاتا اور وہ دور آگے جا کر رک جاتے اور میرا انتظار کرتے۔ میرے اُن تک پہنچنے پر میرا حوصلہ بڑھانے کے لئے مذاقاً کہتے کہ اچھا اگر آگے کا سفر فلاں جگہ تک رہ گیا ہو تو آپ طے کر سکو گے تو میں ہاں میں جواب دیتا اور اگلا سفر پھر شروع ہو جاتا اور اس طرح کرتے کرتے اٹھارہ میل کا کٹھن سفر ختم ہوا۔ سفر کے خاتمے پر میں نڈھال تھا اور آپ اُسی طرح ہشاش بشاش تھے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں