کیکروں کے ساےٗ میں

مصنف: محمد کبیر(سیکنڈ ماسٹر ہائی سکول نمبر ۱ 1971)

کون یقین کرے گا کہ اٹک جیسے قدیم تاریخی ضلع کی ایک قدیم تحصیل کے صدر مقام پر1927ء میں ہائی سکول کا درجہ پانے والے ایک نہایت درخشندہ روایات کے امین سکول کے سینکڑوں طلباء آج بھی انہی کیکروں کی چھدری چھاوٗں میں تعلیم پارہے ہیں۔کن کا ذکر 1966ء میں شائع ہونے والے خورشید کے پہلے شمارے میں بھی ہے اور 1971ء میں چھپنے والے دوسرے شمارے میں بھی۔

خیر ان حالات میں جن کمرہ جماعت پندرہ ہوں اور طالب علم ساڑھے سترہ سو تو کیکروں کے یہ چھلنی جیسے چھدے ہوےٗ سائبان بھی گھنے برگد کی ٹھنڈی چھتری سے کم نہیں۔کہاں ۱۷۹۱ء کا وہ دور کہ جب ایک کمرے میں ستر اسی طلباء کے بیٹھنے پر بھی ’خورشید‘ شکوہ بلب تھا اور کہاں یہ زمانہ کہ جب ایک کمرے میں ایک سو پچیس اور ایک سو تیس طلباء بٹھا رکھے ہیں۔ پھر بھی والدین کو شکایت ہے کہ گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ایک میں داخلہ نہیں ملتا۔پچھلے سال چھٹی جماعت میں دوسو طلباء کے داخلے کی بھی گنجائش نہ تھی۔ مگر والدین کے ذوق و شوق کو دیکھ کر تین سو بچے داخل کرلیے گےٗ۔پھر بھی لوگوں کی ناراضگی کا یہ عالم تھا کہ ایک صحافی بھائی نے اپنے روزنامے میں لکھ مارا کہ داخلے رشوت اور سفارش کے زور پر ہورہے ہیں۔ہماری زبان جلے جو آج تک ان سے اس الزام تراشی کا گلہ تک کیا ہو۔سیدھی سی بات ہے جب وسائل کی ایسی کمی ہوگی تو مسائل کی بھرمار تو ضرور ہوگی،اصرار ہوگا،تکرار ہوگی،انکار ہوگا،دل آزاری ہوگی تو بدگمانیاں اور گِلے توپیدا ہونگے۔

خدا سلامت رکھے حاجی ملک نور زمان صاحب کو اور جزاےٗ خیر دے ان کے انہی جیسے پیش رووٗں کو جو اس درس گاہ کی ایسی ساکھ بناگےٗ کہ ہائی سکول نمبر دو کے قیام کے باوجود لوگ اُدھر کا رُخ ہی نہیں کرتے۔ جسے دیکھو بچے کی انگلی تھامے کسی نہ کسی حیلے وسیلے سے اُسے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۱ میں داخل کرانے چلا آرہا ہے۔
’ ارے بھئی دوسرے سکول میں داخل کرادو، ہمارے ہاں بیٹھنے کو جگہ نہیں ہے‘

جی کوئی بات نہیں کھڑا رہے گا
ارے بزرگوار :آخر مجبوری کیا ہے؟ یہ جو دو ہائی سکول آپ راستے میں چھوڑ کر آگےٗ ہیں وہ بھی تو گورنمنٹ نے اسی لیے کھولے ہیں۔وہاں بھی تو………

بس جناب مہربانی فرمائیں بچہ ضد کرتا ہے کہ سائنس پڑھے گا۔یہاں کی پڑھائی اچھی ہے۔
اب ذرا آپ ہی انصاف فرمایے پڑھائی کیا خا ک اچھی ہوگی اور سائنس کوئی سواہ پڑھاےٗ گا جب بیالوجی کے پیریڈ میں سوبچے بیالوجی روم میں اوپر نیچے ٹھونس کر بھی بیس تیس کھڑے ہونگے اور باقی پچیس تیس باہر برآمدے میں جھک ماررہے ہوں گے۔طلباء کی تعداد ہے کہ روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے اور اساتذہ کی تعداد وہی ستائیس کی ستائیس جو ۵۷۹۱ء میں بھی اتنی ہی تھی۔ قاعدے کلیے کی بات کریں تو ہر تیس طلباء پر ایک استاد ہونا چاہیے۔ ساڑھے سترہ سو طلباء پر کتنے اساتذہ ہونے چاہیں آ پ خود ہی حساب لگا لیں۔چالیس طلباء کے حساب سے تو ۴۴ اساتذہ کی ضرورت ہے۔ دوسرے طرف بسال اور کھوڑ جیسے سکول ہیں جہاں ضرورت سے زیادہ استاد بیٹھے ہیں۔ کاش کچھ حضرات کو آسامی سمیت ہمارے پاس بھیج دیا جاتا یا کچھ اساتذہ مستعار ہی مل جاتے۔
یہ وہ گھمبر مسئلہ ہے جس کی نشاندہی فتح جنگ کی صحافی برادری بار بار اپنے روزناموں اور ماہناموں میں بیان کرچکی ہے۔ دیکھیے کب شنوائی ہو اور کب کوئی مشکل کشا مدد کو آےٗ۔
کمروں کا مسئلہ تو حل ہوتا نظر آ تا ہے۔جناب سردار سکندر حیات خان صوبائی وزیر تعمیرات و مواصلات کی خصوصی مہربانی سے دو کمرے تعمیر ہوچکے ہیں اور مزید دو کمرے منظور ہوچکے ہیں۔ یقین ہے کہ ان کے بس میں ہوا تو اساتذہ کی کمی بھی انشاء اللہ پوری ہوجاےٗ گی۔
یہ جو بڑھتی ہوئی طلباء کی تعداد کا رونا رویا ہے اس کی پتہ ہے کیا ہے؟
ہم بتاتے ہیں سکول کی شہرت، اساتذہ کی نیک نامی، سکول کی روز بروز بڑھتی ہوئی ظاہری خوبصورتی، حسن اہتمام، نظم و ضبط، دلپذیر ہم نصابی سرگرمیوں کا دلچسب انعقاد، اتنی کثیر تعداد کے باوجود طلباء پر انفرادی توجہ، شعبہٗ رہنمائی و مشاورت کی خدمات کا اجراء، سکاوٗٹنگ اور کھیلوں میں نمایاں کار کردگی، سکول بینڈ اور سپیشل پی ٹی گروپ کی اعلی کارکردگی پر تحسین، باغبانی اور شجرکاری کے نتیجے میں ہریالی اور پھولوں کی بہار، کیکروں کی جگہ لیے ہوےٗ پھولدار پودے، اور سب سے بڑھ کر سینہ تان کر اپنے آپ کو گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نمبر ایک فتح جنگ کا طالب علم بتانے کا شوق اور احساس تفاخر –

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں