لبرلزم کا سلو پوائزن اور دانشور – اویس قرنی

بچپن میں ایک لطیفہ پڑھا تھا:
”آدھی رات کا وقت تھا. کہ ایک آدمی چیخ مار کے نیند سے جاگا اور زور زورسے رونے چلانے لگا. ذرا سی دیر میں گھر والوں کے علاوہ ہمسائے بھی خبرگیری کو جمع ہوگئے. سب نے چپ کرانے کی کوشش کی اور پوچھا کیا ہوا ہے؟
اس نے روتے ہوئے بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا , میرے اوپر سے ایک چوہا دوڑتا ہوا گزر گیا ہے.
حاضرین میں سے کچھ اس کی سادگی اور حماقت پہ ہنس پڑے اور کچھ نے متانت سے سمجھایا کہ اول تو تم نے خواب میں چوہے کو اپنے اوپر سے گزرتے دیکھا. اور دوم یہ کہ چوہا گزر ہی گیا ہے. تمہارے اوپر بیٹھ تو نہیں گیا. اس میں اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. اس نے کہا کیسے پریشان نہ ہوں. آج چوہا گزرا ہے کل کو ہاتھی گزرنے چلا آئے گا. راستہ تو بن گیا ہے ناں..؟“
اس انتہائے دور اندیشی پر حاضرین کی طرح یہ خاکسار بھی بہت ہنسا تھا. اور تب تک یہ لطیفہ دوسروں کو سنا کر ہنساتا رہا جب تک کہ میری گناہگار آنکھوں نے اس لطیفے میں چھپی کڑوی حقیقت کو دیکھ نہیں لیا.

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جوگی نیو پیلس سینما کمالیہ میں پنجابی فلم ”راجو راکٹ“ دیکھ رہا تھا. فلم کے ایک منظر میں کچھ موالی ٹائپ لوگ ایک مکان میں جوا کھیلنے میں مصروف تھے کہ اچانک کھٹاک سے دروازے کی کنڈی ٹوٹی اور چوپٹ کھل گیا. سب نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں لاچے کرتے میں ملبوس ”ریشم“ کھڑی خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی. پھر کیمرہ مین اور موسیقار کی مشترکہ مہربانی سے ریشم نے وہ چند قدم کا فاصلہ مبلغ اڑھائی منٹ میں طے کیا. اور جواریوں کے قریب پہنچ کر بڑے سٹائل سے کمر سے کرتے کا دامن ہٹا کر لاچے میں اڑسا خنجر کھینچ کر نکالا اور للکار کر بولی: ”اوئے غنڈی آں، ٹُنڈی نئیں… میرا حصہ کڈھو بے غیرتو…!“
کیمرہ مین نے خنجر نکالنے والا سین بھی سلوموشن میں دکھایا تھا. اور ریشم کی کمر اور پیٹ کا کچھ حصہ کیمرہ فوکس میں رہا. جتنی دیر یہ منظر سکرین پر رہا، ہال میں موجود ہر ایک کی سانسیں رکی رہیں. اور جونہی ریشم نے وہ بڑھک ماری، اکثریت کی سانسیں سیٹیوں کی صورت ہال میں گونج اٹھیں. میرے سامنے کی سیٹوں پر بیٹھے دو دیہاتیوں نے ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا. اور ایک نے قہقہہ لگا کر دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور بولا : ”ویکھ مُڑ… چس آئی اے کہ نئیں“ (دیکھو پھر مزہ آیا کہ نہیں) دوسرے کے قہقہے اور لہجے سے صاف محسوس ہورہا تھا کہ اس کی رال اب ٹپکی کہ اب ٹپکی: ”بھاؤ آ مڑ پیسے پورے ہو گئے نی“ (یار اس منظر نے تو ٹکٹ کے پیسے پورے کرا دیے ہیں)

دوسری دفعہ کا ذکر ہے جوگی نشاط سینما چیچہ وطنی میں پنجابی فلم ”ارائیں دا کھڑاک“ دیکھنے کی نیت سے ٹکٹ کاؤنٹر کے سامنے کھڑا انتظار کی گھڑیاں گن رہا تھا. فوٹو سیٹ کے سامنے کھڑے دو آدمیوں کو دیکھا کہ جذبات کی شدت سے سرخ چہرہ لیے، تصویر میں موجود ”نرما“ پر فوکس کیے دم بخود کھڑے تھے، جو نیم خمیدہ پوز میں کھلے گریبان سے بجلیاں گرا رہی تھی. ایک نے تھوک نگل کر خشک ہوتے حلق کو تر کیا اور دوسرے سے پوچھا کہ ”فلم اچھی تو ہے ناں؟“ دوسرے نے نرما سے آنکھیں ہٹائے بغیر خشک لبوں پہ زبان پھیری اور کہا: ”فلم کا تو پتا نہیں، مگر نرما کے اس گانے کی وجہ سے آٹھویں بار یہ فلم دیکھ رہا ہوں.“

تیسری دفعہ کا ذکر ہے، جوگی گیریژن سینما بہاولپور کے لان میں بیٹھا دھوپ سیک رہا تھا. دو نوجوان لڑکے کہ عمریں پندرہ سولہ سال سے زیادہ نہ تھیں. ٹکٹ لے کر لان میں آ بیٹھے. ایک نے دوسرے سے پوچھا : ”فلم میں کچھ دکھایا بھی ہے، یا بس پوسٹرز پر ہی..“ اس بات پر میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا جہاں تجسس اس کی آنکھوں سے ہی نہیں سارے جسم سے ٹپکا پڑ رہا تھا. دوسرے نے شاید یہ فلم پہلے بھی دیکھ رکھی تھی. بولا: ”ہاں سب کچھ“ حیرت سے پہلے کی آنکھیں پھٹ گئیں، اور منہ میں پانی کی طغیانی لہجے سے عیاں تھی. ”کیا واقعی، سب کچھ… دکھا دیا؟“ دوسرے نے زبان سے کچھ کہنے کے بجائے ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر اوپر اٹھنے کا اشارہ کیا، اور دونوں تھوک نگلنے میں مصروف ہوگئے.
کچھ دیر بعد فلم شروع ہوئی تو ایک گانا دیکھتے ہوئے اس لڑکے کا وہ اشارہ سمجھ آگیا.

یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ ٹاک شوز میں، سیمینارز میں اور اپنے کالموں، تحریروں میں فصاحت و بلاغت کے دریا بہانے اور دانشوری کے طلسم ہوشربا میں روشن خیالی کے سبز باغ دکھانے سے حقائق اور ان کے اثرات نہیں بدل جاتے. جوگی نے بارہ سال پہلے نیوپیلس سینما میں چوہا گزرتے دیکھا تھا. اور پھر ان بارہ سالوں میں اس سڑک پہ گدھے،گھوڑے، شیر، چیتے گزرتے گزرتے بات ہاتھی گزرنے تک آ پہنچی. 70 اور 80 کی دہائی میں پیدا ہونے والے ذرا اپنے لڑکپن کو یاد کریں. اس زمانے کے ٹی وی پروگراموں، کمرشلز اور ڈراموں کا آج کے ٹی وی پروگرامز، کمرشلز اور ڈراموں سے موازنہ کریں اور سوچیں کہ کیا یہ تبدیلی اچانک آ گئی ہے؟؟
بالکل نہیں..
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی. بلکہ سلو پوائزن کی طرح روشن خیالی کا یہ زہر آہستہ آہستہ ہمارے اجتماعی شعور میں انجیکٹ کیا جاتا رہا. اس زہر کے ہر نئے قطرے پر ہمارا قومی شعور ری ایکٹ کرتا رہا اور گنتی کے چند دانشور اپنی دانشوری کے ہپناٹزم سے تھپکیاں دے دے کر سلاتے رہے کہ سو جاؤ، خواب میں ہی چوہا گزرا ہے ناں. اب یہ حال ہے کہ وہ جو چوہے کے گزرنے سے سڑک بنی تھی، اب اس پر سے ہاتھی بھی گزرنے لگے ہیں، اور مغربی قلموں سے پیوند شدہ دانشور ہمیں بدستور روشن خیالی کی تھپکیاں دینے میں مصروف ہیں.

پرانے فلم بینوں کو یاد ہوگا کہ ایک وہ بھی زمانہ تھا کہ انڈین فلموں میں سب سے بولڈ سین ہیرو اور ہیروئن کا گلے ملنا ہوتا تھا. وہ بھی زمانہ تھا کہ ہیروئن کے کندھے پر برا کی سٹرپ نظر آنا فحش ترین منظر سمجھا جاتا تھا. پھر کچھ دہائیوں بعد روشن خیالی کا وہ بھی زمانہ تھا کہ علامتی طور پر لپس کسنگ کا سین دکھا دیا جاتا تھا. اور اب روشن خیالی کی اس سڑک سے جو جو ہاتھی گزر رہے ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں. اب ہر بڑے بجٹ اور بڑی کاسٹ کی فلم میں اصلی لپس کسنگ سین تو نارمل ترین سمجھا جاتا ہے. بات بارش والے گانے سے گزر کر سوئمنگ پول میں بوس و کنار اور بکنی پر، اور صرف سٹرپ سے آگے بڑھ کر بغیر شرٹ کے صرف منی برا تک پہنچ چکی ہے. خود ہی اندازہ کر لیجیے کہ اس روشن خیالی کے اگلے پڑاؤ پہ منظر کیا ہوگا؟

اب تک ہر صلح جو بندہ یہی کہتا رہا کہ یہ صرف فلموں کی حد تک ہے، یہ صرف افسانوں کی حد تک ہے، لہذا فلمیں نہ دیکھو، افسانے نہ پڑھو… اللہ اللہ خیر صلیٰ…
لیکن پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہوا، اب یہی روشن خیالی نامی ڈائن ہمارے گھروں پہ دستک دینے پہنچ گئی ہے. یاد آیا، ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے. یہ تو ڈائن سے بہت بڑی بلا ہے جو اپنے ہی گھر اپنی ہی بہن پر نظر ڈالنے پر قائل کر رہی ہے.

اس کثیر دھاری وار کی سائنس دیکھیں. میٹرک کا امتحان دینا ہے تو بڑی بہن کے جسمانی خدوخال کا تفصیلی جائزہ لے کر آنا. شرم، حیا یا غیرت کے مارے اگر امتحان ہی نہیں دیتے تو انڈر میٹرک ہی رہ جاؤ تاکہ کل کو یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات ہمیں جاہل ہونے کا طعنہ مار مار کر جتائیں، ارے جاہل تم کیا جانو! ارے جاہل تم کیا جانو!

اس بےغیرتی کے جواز میں لولی لنگڑی منطقیں سنانے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشور صرف کتابی فلسفے اور دانش بگھارتے وقت 2 اگست 2014ء کا وہ واقعہ کیوں ذکر نہیں کرتے جب جہلم کے محمد شریف کے بیٹے اور بیٹی نے شادی کر لی تھی. یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ بے ضرر سوال ہے. اس کے برے اثرات نہیں ہوں گے.؟

شیخ سعدی نے فرمایا تھا: ”سوراخ جب سوئی کے ناکے جتنا ہو وہ میل سے بند کیا جا سکتا ہے، لیکن جب یہ بڑھتے بڑھتے بڑا ہوجائے تو چاہے اس میں ہاتھی کھڑا کردو، یہ بند نہیں ہوگا.“
ابھی صرف بہن کا فگر پوچھا گیا، اور اس کے جواز میں کہا جا رہا ہے کہ فقط چوہا ہی تو گزرا ہے. اوپر دی گئی حقیقی مثالوں سے ان ممکنات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ جب اس سڑک سے ہاتھی گزرے گا تو وہ وقت کیسا ہوگا.؟

ان دانشوروں کی دانش پہ سادہ لوحی سے سر ہلا کر متفق ہونے سے پہلے بدو کے اونٹ کی کہانی بھی سن لیجیے. شاید کہ آپ کے دل میں اتر جائے میری بات…

دورانِ سفر بدو کو صحرا میں رات ہو گئی. اس نے شب بسری کے لیے اپنے لیے خیمہ اور اونٹ باندھنے کو کلہ گاڑا اور سو گیا. تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اونٹ بلبلایا: ”مالک آپ تو جانتے ہیں کہ صحرا میں رات کو کتنی ٹھنڈ پڑتی ہے. اور میری تھوتھنی بہت حساس ہے. ٹھنڈ سے نزلہ زکام ہو سکتا ہے. سرسام ہو سکتا ہے. اس لیے مجھے اجازت دیں کہ کم از کم اپنا سر خیمے کے اندر کر لوں.“
بدو کے لیے یہ بے ضرر بات تھی. اور دوسرا اونٹ کی صحت کا بھی سوال تھا. اس نے اجازت دے دی. اور اونٹ نے آگے بڑھ کر اپنا سر خیمے میں داخل کر لیا.
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اونٹ پھر بلبلایا: ”مالک! سارے دن کے سفر کا تھکا ہوا ہوں. اور کل پھر سفر کرنا ہے. اس پوزیشن میں جھک کر کھڑے کھڑے میری اگلی ٹانگیں سردی سے کانپتے کانپتے اب مجھے سہارنے سے انکاری ہیں. اجازت ہو تو اپنی دونوں اگلی ٹانگیں بھی خیمے میں کر لوں.“
بدو نے سوچا اونٹ کی دو ٹانگیں کون سا زیادہ جگہ گھیر لیں گی، اس نے اجازت دے دی اور کروٹ بدل کر دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگا. اور اونٹ نے اپنی دونوں اگلی ٹانگیں خیمے میں داخل کر لیں.
تھوڑی ہی دیر گزری کہ اونٹ پھر بلبلایا: ”مالک میرے سینے کو ٹھنڈ لگ رہی ہے. مجھے لگتا ہے مجھے میرا دل سردی سے منجمد ہو کر دھڑکنا بند کردے گا اور میری موت واقع ہونے والی ہے. اجازت ہو تو اپنا سینہ خیمے میں داخل کرلوں. تاکہ سردی سے بچا رہے.“
بدو نے ترس کھا کر اجازت دے دی، اور اپنا بستر خیمے کے دوسرے کنارے پر گھسیٹ کے سوگیا. اونٹ نے اپنا سینہ بھی اندر داخل کر لیا.
اسی طرح تھوڑی تھوڑی دیر بعد اونٹ نے اپنی دانشوری سے بدو کی سادہ لوحی پہ اموشنل ہتھیاچار کر کے بالترتیب اپنا پیٹ اور پھر اپنی پچھلی ٹانگیں بھی خیمے میں داخل کر لیں. جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خیمے میں بدو کے بستر کی جگہ نہ رہی. پھر منظر یوں تھا کہ اونٹ خیمے میں بیٹھا تھا اور بدو باہر سردی میں ٹھٹھر رہا تھا.

ایسے لوگوں کی دانش سے بچ کے رہیے. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک نشانی بتائی ہے.

وَإذَا قِيلَ لَھُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الارْضِ قَالُواْ إنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ. (سورۃ البقرہ آیت نمبر 11)

اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں.
(دلیل ڈاٹ پی کے)

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں