ضلع اٹک میں سکھا شاہی کا دور

تحریر: ڈاکٹر آسف جہانگیر خان

ہر عروج کو زوال ہوتا ہے۔سکھوں نے بطور حکمران بھی بڑا عروج دیکھا تھا لیکن ستلج کے پار انگریز بھی اُن کے عروج کو ختم کرنے کے لیے نظریں جماےٗ بیٹھے تھے۔
کنہیا لال پسندی لکھتے ہیں ’ریاست لاہور کی کمال ترقی دیکھ کر صاحبان انگریز بہادر کو خیال پیدا ہوا کہ دونوں ریاستوں کے بیچ تعلقات مضبوط ہونے چاہیں۔اس لیے لارڈ بیٹنگ بہادر گورنر جنرل کشور ہند سے مہاراجہ کی ملاقات ہو۔اس ملاقات کے لیے ستلج پار روپڑ کا مقام ملاقات کے لیے طے پایا۔ مہاراجہ ہاتھی پر اور گورنر جنرل بھی ہاتھی پر ملاقات کے لیے قریب قریب آےٗ۔ ہاتھ میں ہاتھ ملایا۔ مہاراجہ اپنے ہاتھی سے اٹھ کر گورنر جنرل کے ہاتھی پر چلا گیا۔مہر و ماہ گویا ایک بُرج میں آگےٗ۔ مہاراجہ فالج کا مریض ہوا تو اس کا علاج انگریز ڈاکٹر نے کیا-
مہاراجہ کے بعد کھڑک سنگھ حکمران ہوا لیکن وہ بھی جلد ہی مرگیا۔جس دن کھڑک سنگھ مرا اسی دن اگلا حکمران نونہال سنگھ دروازے میں سے گزرتے ہوےٗ پتھر لگنے سے ہلاک ہوگیا۔اُس کے بعد اُس کی رانی راجندر کور حکمران ہوگیٗ۔
بعد مدت سرکار انگریز پنجاب کی سرکار بن گیٗ۔راجہ گلاب سنگھ والیٗ جموں کے ہاتھ کشمیر و کوہستان کا علاقہ بیچ دیا۔بعد میں مہاراجہ کا بیٹا شپورا سنگھ ہاتھ پاوٗں مار کر اٹک قلعہ پر قابض ہوگیا۔
20 فروری 1846 کو نواب۔گورنر اور انگریزی لشکر لاہور میں داخل ہوا۔ہر دروازے پر انگریزی سپاہ کے پہرے قائم کیے گےٗ۔ اس وقت تمام میدانی و پہاڑی علاقے انگریزوں کے قبضے میں آچکے تھے۔
اب سرکار لاہور کے سابق پردھانوں پر انگریز سرکار کی طرف سے ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔جو وہ ادا نہیں کرسکتے تھے۔ جرمانہ کی ادائیگی کے لیے کشمیر کا علاقہ تبت و لداخ فروخت کردیا گیا۔اس رقم کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو یہ علاقے تفویض کردیے گےٗ۔
یوں پنجاب سے سکھا شاہی کا دور ختم ہوگیا لیکن ایک اور تاریک دور انگریزوں کے دور کا آغاز ہوگیا۔
آخر میں کنہیا لال لکھتا ہے
اب کس خوشی میں لاہور کے چوراہوں کے نام ان تاریخی لٹیروں کے نام پر رکھے جائیں۔وارث شاہ کا پنجاب تو ان لٹیروں کے ہاتھوں ہی لہولہان ہوا۔

سکھا شاہی دور کے حکمران (کاردار)
1770ء میں سکھوں نے گکھڑوں کے پر مکمل طور پر قبضہ حاصل کیا۔سردار ملکھا سنگھ نے صاحب حیثیت مالکان کو 169 دیہات بطور جاگیر عطا کیے۔ باقی گاوٗں انہوں نے اپنے قبضہ میں رکھے۔ سکھوں کے براہ راست قبضہ میں آنے والے دیہات خالصہ کہلاےٗ۔467 دیہاتوں میں مالیہ نظام تھا۔اور مالیہ کی مد میں کافی رقم وصول کی جاتی تھی۔
1830ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ مقامی اہل کاروں کی چیر ہ دستیوں کی شکایات کے بعد مالیہ کی تشخیص کے لیے جنرل ونٹورا کو بھیجا۔ بعد میں مہاراجہ نے قبیلوں اور گاوٗں کے سربراہو ں کو لاہور طلب کرلیا۔ اور کمال شفقت سے پیش آیا اور اُن سے نرمی برتی۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بھاییٗ دُل سنگھ کو کاردار مقرر کیا جوکہ نرم مزاج تھا اور اُ س نے رعایا سے بھی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔
بعد میں دیوان کُش جوکہ سیالکوٹ کا رہنے والا تھا ،1840ء سے 1846ء تک کاردار رہا۔

اٹک میں سکھ کاردار
بھائی ماہو سنگھ 1833ء میں کاردار مقرر ہوا۔ علاقہ نلہ باہتر کا علاقہ اس کی ذیل میں تھا۔اُس نے کھٹڑ قوم سے اپنے تعلقات خوشگوار رکھے۔
بھائی سرجان سنگھ اور بکی راےٗ نے اٹک کے علاقہ کا مالیہ تشخیص کیا۔
مصر رام کش: یہ شخص 1841 تک اٹک کے علاقے کا کاردار رہا۔
دیوان سُکھ راج: 1842ء میں اِس نے علاقے کے مالیہ کی تشخیص کی۔
بھائی ماہو سنگھ پھر ایک بار اٹک کے علاقہ کا کاردار مقرر ہوا۔ اور پھر دیوان سُکھ راج نے مالیہ کی تشخیص کی۔
انگریز ریجنٹ کے دور میں 1847ء کو بھائی سرجان سنگھ نے دوبارہ مالیہ کی تشخیص کی۔

فتح جنگ علاقہ کوٹ فتح خان کے کاردار
علاقہ کوٹ، گھیب سرکل کا مرکزی مقام ہے۔ 1860ء میں فتح جنگ کی تحصیل بننے سے پہلے یہ علاقہ تحصیل پنڈی گھیب کا حصہ تھے۔تحصیل پنڈی گھیب میں سیل، کھنڈہ، جندال اور مکھڈ وغیرہ کے علاقے شامل تھے۔
سکھ اِ س علاقہ کو نسبتا کم منافع بخش علاقہ سمجھتے تھے۔ اس لیے ان علاقوں کو اپنی تحویل میں لینے سے لیت و لعل سے کام لیتے رہے۔ اس علاقہ کو انہوں نے تین حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔
علاقہ سواں کو سکھوں نے ہمیشہ اپنے قبضہ میں رکھا۔اس علاقہ کے مالیہ میں برابر اضافہ کرتے رہے۔اس مالیاتی تشخص کے نظام کو ضبطِ کنکوت کہتے تھے۔
گھیب کا علاقہ جہلم سمیت 6900 روپے کے مالیہ پر پنڈی گھیب کے ملک امانت خان کو رنجیت سنگھ کے والد میاں سنگھ نے دے دیا۔
ملک اولیاء خان کے بعد علاقہ کا رئیس نواب خان بنا۔ وہ علاقہ سیل کا رئیس تھا جبکہ علاقہ کھنڈہ راےٗ جلال کی تحویل میں دے دیا گیا۔
جوکہ سردار فتح خان گھیبہ کا جدِامجد تھا۔
اِس سارے نظام کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت نواب خان آف پنڈی گھیب نے بلند کیا۔اور بغاوت کے بعد وہ کابل چلا گیا۔ اور وہاں سردار دوست محمد آف کابل سے مل کر سکھوں کے خلاف جنگ کی۔ آخر کار کوہاٹ میں راہی ملکِ عدم ہوا۔
اس کے بعد علاقہ کا ٹھیکہ ملک غلام محمد کو دے دیا گیا۔
اب علاقہ کوٹ کی سیادت ملک راےٗ محمد خان کے سپرد کردی گیٗ تھی۔ملک غلام محمد اور راےٗ محمد خان کو اکٹھا علاقہ کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ جسے وہ پورا نہ کرسکے۔ اس میں انہیں دوبار لاہور طلب کیا گیا۔ واپسی پر جھگڑا ہوا اور راےٗ محمد خان نے ملک غلام محمد کو قتل کردیا۔ لیکن راےٗ محمد خان کے جُرم کو نظر انداز کرکے جرمانہ کیا گیا۔
1833ء میں گھیب کا علاقہ عطر سنگھ کیلیانوالہ کے سپرد کیا گیا۔ لیکن 1834ء میں عطر سنگھ کے ایجنٹ سُلطان کو کھنڈہ کے گھیبوں نے قتل کردیا، بعد ازاں اِس علاقہ کا کاردار مہاراجہ رنجیت سنگھ کا پوتا کنور نونہال سنگھ بنا۔
کنور نونہال سنگھ نے کوٹ فتح خان کے پاس پاگھ کے قلعہ میں راےٗ محمد خان کی دعوت کی۔ جہاں بڈھا خان آف ملال نے راےٗ محمد خان کو قتل کردیا۔ بعد ازاں سردار فتح خان نے جوکہ راےٗ محمد خان کا بیٹا تھا ،نے بڈھا خان آف ملال کو انتقام میں قتل کردیا۔
1845 میں یہ علاقہ سردار فتح خان ٹوانہ کاردارکو دے دیا گیا۔
1846 میں نےٗ کاردار مصر امین چندا نے بہار کی فصل کا تخمینہ لگایا، بعد میں خریف کی فصل کا تخمینہ بھی لگایا ا ور نقد اثاثوں کی صورت میں مالیہ وصول کیا۔
پنڈی گھیب اور فتح جنگ کے علاقوں کی نمایاں وصف علاقے کا چہارم تھا۔ جو مالکان کو بطور انعام دیا جاتاتھا۔
جن مالکان کو انعام دیا جاتا تھا اُن میں
۱۔ سیل علاقہ کے جودھڑے، بالا گھیب کے گھیب، کھوڑ کے مُغل، مکھڈ کے پٹھان، اور کھٹڑ علاقہ کے کھٹڑ شامل تھے۔
علاقہ جندال جغرافیائی طور پر تحصیل پنڈی گھیب کا حصہ ہے۔ سکھوں کے دور میں اِ س علاقہ کو کھٹڑوں کا علاقہ کہا جا تا تھا۔ اس علاقہ کی مالیاتی تاریخ بھی وہی ہے۔ جو کھٹڑ قوم کے دوسرے علاقوں سروالہ، نلہ، ہرو اور فتح جنگ میں ہے۔
اس علاقہ کے مالیہ کی تشخیص بھائی موہو سنگھ نے کی تھی۔ 1845 میں ملک فتح خان ٹوانہ کو اُس کی جگہ مقرر کیا گیا۔ جس کے بعد دیوان راج روپ نے مالیاتی تشخیص کی۔
انگریز مصنف برانڈ رُتھ نے سکھ دور کا تذکرہ کرتے ہوےٗ لکھا ہے کہ
اس دور میں بیگھہ ریٹ مقرر تھا۔ سکھ کاردار زمین کی اچھی فصل کا انتخاب کرتے۔انداز فصل کا تخمینہ لگاتے اور فصل کے دسویں حصہ کو کاشتکاروں کو دینے کے بعد دیگر مالیہ کی مد میں وصول کرلی جاتی۔ زمین کی پیمائش قدم یعنی کرم جسے ہم کُرم کہتے ہیں، سے
کی جاتی۔جسے انگریزی میں man,s pace کہاجاتا ہے۔

یہ مختصر سا سکھ دور کا جائزہ تھا۔ فتح جنگ شہر و ضلع اٹک میں اُس دور کی کوئی قابل ذکر یادگار تو موجود نہیں سواےٗ گنج شہیداں کے جوکہ سکھوں کے خلاف جہاد کے دوران ایک لڑاییٗ میں شہید ہوےٗ تھے۔ انہی کی یاد میں علاقہ میں جابجا چُورے بھی بنے ہوےٗ ہیں۔

یاد رکھتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوےٗ طوفانوں کو

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں