منتشر اور بے خبر بھیڑیں از اوریا مقبول جان

ابھی امریکا میں کسی کے تصور میں بھی یہ بات نہ تھی کہ 20جنوری 2017 کو اس عالمی طاقت کا سربراہ ایک ایسا متعصب اور جنونی شخص ہو گا جو دو سو سال کے بعد سفید فام عیسائیوں کے ذریعے ایک بار پھر سیاہ فاموں‘ گندم گوں ہسپانوئیوں اور کلمہ گو مسلمانوں پر فتح حاصل کرے گا اور جمہوریت کے اس مکروہ رخ ’’اکثریت کی آمریت‘‘ “Tyrny of majority کو دنیا بھر کے سامنے روز روشن کی طرح واضح کر دے گا‘ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کے انتخاب جیتنے کا کسی کے ذہن میں تصور بھی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ طاقتور ترین امریکی بلکہ عالمی میڈیا کو بھی اس کا یقین نہ تھا‘ تمام سروے کرنے والے بھی یوں لگتا ہے سماعت و بصارت سے محروم ہو چکے تھے۔

لیکن ان کے برعکس کٹر مذہبی عیسائی اور کٹر مذہبی یہودی اپنی تحریروں‘ تقریروں اور انتہائی محنت سے بنائی گئی ڈاکو مینٹریوں میں 2017 کے سال کو اہم ترین سال قرار دے رہے تھے۔ ایک ایسا سال جس میں یروشلم کے مقدس شہر اور اس کے آس پاس کے علاقے میں انسانی تاریخ کی تیسری اور سب سے بڑی عالمگیر جنگ برپا ہو گی۔ عیسائی پادریوں اور یہودی ربئیوں کی تمام گفتگو حالات حاضرہ اور معروضی صورت حال کے پس منظر میں نہیں تھی بلکہ وہ اپنی آسمانی کتابوں میں درج پیش گوئیوں کی بنیاد پر جدید حالات کا جائزہ لیتے تھے اور ان کی تطبیق کرتے تھے۔

یہودی تو گزشتہ نوے سال سے اپنی آسمانی کتابوں تالمود اور تورات میں درج عالمی حکومت کے قیام کے لیے‘ پیرس‘ لندن‘ برلن‘ میلان‘ نیو یارک اور ایسے جدید شہروں میں اپنے وسیع محلات‘ بڑے کاروبار اور پرسکون و پرامن زندگی کو چھوڑ کر 1920 سے حیفہ اور تل ابیب کے ریگستانوں میں آباد ہونا شروع ہوگئے تھے‘ جہاں نہ پانی تھا اور نہ سبزہ‘ بجلی تھی اور نہ ہی شہری سہولیات۔ یہ سب کے سب صرف اس یقین پر ایسی جگہ جا کر آباد ہوئے جہاں عرب ان کی جان کے دشمن تھے کہ ایک دن ہمارا مسیحا آئے گا اور یروشلم سے پوری دنیا پر حکومت کرے گا۔ جدید دور کے تبصروں‘ تجزیوں‘ پرامن شہروں اور جدید ترقی یافتہ تہذیب پر انھوں نے لعنت بھیجی اور ایک ایسی جنگ کے لیے وہاں اکٹھے ہو گئے جو انھوں نے مسلمانوں سے لڑنا ہے۔

دوسری جانب کٹر عیسائی گزشتہ تین دہائیوں سے بائیبل کے حوالوں سے اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس طرف اشارہ دے رہے ہیں کہ خداوند ایک دفعہ پھر یہودیوں کو یروشلم میں جمع کرے گا جہاں وہ اپنا ہیکل سلیمانی تعمیر کریں گے۔ اس دوران وہ حضرت موسیٰ کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کریں گے اور اللہ ان پر اپنا بدترین قہر مسلط کرے گا اور حضرت عیسیٰ اس دنیا میں واپس آ کر اس ہیکل کو توڑیں گے اور یہودیوں کو نیست و نابود کر کے عالمی حکومت قائم کریں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہودیوں پر آخری بڑی جنگ میں تباہی کے بارے میں ٹھیک وہی الفاظ ہیں جو قرآن پاک میں ہیں، بائیبل کے باب (Leviticus 26:16,17) میں یہودیوں کے دوبارہ یروشلم میں آباد ہونے کا ذکر ہے اور پھر جب وہ اللہ کے ساتھ کئے گئے عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان پر عذاب کا تذکرہ ہے۔ یہی مضمون سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر8میں ہے ’’اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ یعنی جیسے پہلے تم پر عذاب مسلط کیا ایسے اب بھی کریں گے۔

جس طرح یہودی ربائی چار خونی چاندوں کے حوالے سے اپنی خرابی اور پھر فتح کا ذکر کرتے ہیں ویسے ہی عیسائی پادری بھی اعدادوشمار کے ذریعے ہونے والی بڑی جنگ کی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ یہودیوں کے نزدیک ان کی تمام مصیبتیں اور پھر کامیابیاں اس وقت آئیں جب آسمان پر چار مکمل چاند گرہن مسلسل لگے‘ یہ 1493-94‘1949-50‘1967-68 کو لگے اور یہ سال ان کی تاریخ کے اہم موڑ ثابت ہوئے اور ابھی یہ 2014-15 کو لگے ہیں اور اس وقت سے اسرائیل کے ارد گرد بسنے والے مسلمان ملک تباہی کی جانب گامزن ہیں۔ اسی طرح عیسائی پادریوں کا سرخیل باب میچل Bob Micheel اپنی بے شمار کتابوں‘ تقریروں اور وڈیو ڈاکومنٹریوں میں ایک اعداد کا چکر بتاتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ پچاس اور بیس کے اعداد کا گورکھ دھندا ہے۔ 1897 میں سوئزرلینڈ کے شہر باسل میں یہودیوں کی کانفرنس ہوئی اور وہاں دنیا پر قابض ہونے کے لیے پروٹوکول لکھے گئے۔ اس کے ٹھیک پچاس سال بعد 1947 میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں یہودیوں کا فلسطینی پر حق تسلیم کیا گیا اور ٹھیک 50سال بعد 1997 میں عرب دنیا اکٹھی ہوئی کہ یہودیوں سے مقبوضہ علاقے واپس کیسے لیے جا سکتے ہیں۔ اب دوسرا رخ ملاحظہ ہوا۔ 1897 کی پہلی کانفرنس کے بیس سال بعد 1917 میں یورپی افواج نے یروشلم فتح کر لیا۔ جنرل ایلن بائی بیت المقدس میں داخلے کے وقت گھوڑے سے نیچے اتر گیا کیونکہ اس کے نزدیک گھوڑے پر بیت المقدس میں صرف حضرت عیسیٰ ہی داخل ہوں گے۔ 1947 کی اقوام متحدہ کی کانفرنس کے بیس سال بعد 1967 میں اسرائیل نے عربوں کو بدترین شکست دے کر بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔

اب تیسری عربوں کی کانفرنس 1997 کے بعد بیس سال 2017 کو پورے ہو رہے ہیں۔ اسرائیل نے یہودیوں کے لیے جو وطن حاصل کیا تھا اس میں شریعت موسوی نافذ کرنا تھی لیکن آج تل ابیب دنیا کے ہم جنس پرستوں کا مرکز ہے۔ نائٹ کلب‘ جوئے خانے اور ایسی تمام خرابیاں وہاں موجود ہیں جو ان پر عذاب کے مسلط ہونے کا اشارہ دے رہی ہیں اور یہ ٹھیک بیس سال بعد 2017 میں مسلط ہو جائے گا اور یہ عیسائی پادری اس کے لیے ستمبر 2017 کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ یہ ہیں وہ تصورات جس کے لیے عیسائیوں نے بحیثیت مجموعی ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیئے تاکہ وہ اسرائیل میں جلد از جلد یہودیوں کو مستحکم کرے اور وہ وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کریں اور جب ہیکل تعمیر ہو گا تو پھر حضرت عیسیٰ اس کو گرانے کے لیے تشریف لائیں گے۔ دوسری جانب امریکا کے یہودی اسرائیل سے ناراض ہیں کہ انھوں نے وہاں شریعت موسوی نافذ نہیں کی۔
امریکا کے یہودی آپ کو بروکلین‘ نیویارک جیسے علاقوں میں اپنی بیویوں‘ بیٹیوں اور بہنوں کو شٹل کاک برقعے پہناتے نظر آئیں گے۔ ان کے نزدیک اسرائیل تب ہی طاقتور عالمی طاقت بنے گا جب دنیا کا معاشی ہیڈ کوارٹر وال اسٹریٹ سے یروشلم منتقل ہو جائے گا۔ یہ اسقدر آسان ہے کہ صرف بیس بینکوں کے ہیڈ کوارٹر منتقل ہوتے ہی دنیا کا معاشی قبلہ بدل جائے گا۔ جو دنیا اب کریڈٹ کارڈ کی وجہ سے کرنسی کے استعمال کو ہی بھول چکی ہو اس کا معاشی ہیڈ کوارٹر تو وہیں ہو گا جہاں ان کریڈٹ جاری کرنے والے بینکوں کے ہیڈ کوارٹر موجود ہوں گے۔ ان یہودی ربائیوں سے گفتگو کریں تو وہ ایک ہی بات کہیں گے‘ روس کے بعد امریکا کی ٹوٹ پھوٹ اسرائیل کی عالمی حکومت کے قیام کی راہ ہے۔

ان خواہشات، تصورات، نظریات اور پیش گوئیوں کے درمیان 20جنوری 2017 کو ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارت پر براجمان ہو رہے ہیں لیکن اس نے اس دفتر میں آنے سے پہلے اپنے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائز کے طور پر ایک ایسے ریٹائرڈ جنرل کو نامزد کیا ہے جو اسلام کو ایک کینسر سمجھتا ہے۔ جنرل مائیکل فلین ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کا ڈائریکٹر رہا ہے۔ مسلمانوں سے اپنے تعصب اور دنیا بھر میں امریکا کو مزید جنگ میں الجھانے کے لیے اس کے سخت گیر رویے پر اسے ریٹائرمنٹ سے ایک سال قبل ریٹائر کر دیا گیا۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ عمومی طور پر گالی گلوچ دیتا ہے اور اس پر الزام یہ تھا کہ وہ اوباما کی پالیسیوں کے خلاف عمل کرتا تھا۔ قانون کے مطابق امریکی جنرل ریٹائرمنٹ کے بعد سات سال تک کوئی عہدہ نہیں لے سکتا۔ لیکن چونکہ نیشنل سیکیورٹی ایڈوائز کی پوزیشن کو امریکی سینیٹ میں زیربحث نہیں لایا جا سکتا، اسی لیے ٹرمپ نے اسے مقرر کر دیا۔ مائیکل فلیں ٹرمپ کی الیکشن مہم کا حصہ رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اس کی مشہور کتاب The Field of Fight ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ تمام ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمان سب کے سب دہشت گردی کا سبب ہیں، یہ دنیا کے 80فیصد لوگوں کو غلام بنانا چاہتے ہیں اور ان کے خلاف ہر طرح کی طاقت خواہ نیو کلیئر کیوں نہ ہو استعمال کر کے انھیں ختم کر دینا چاہیے۔ پاکستان سے اس کی نفرت شدید ترین ہے۔ اس کا اندازہ اس ٹیلی ویژن پروگرام سے ہو جاتا ہے جس میں وہ اور جنرل اسد درانی روبرو تھے۔ فغانستان کو وہ صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔ اسرائیل کی حاکمیت کا قائل ہے۔ یہ ہیں وہ خطرات جو ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ پورے امریکا کے مسلمان جس طرح خوفزدہ ہیں اس کا اظہار ان کے میڈیا پر نظر آتا ہے۔ لیکن وہ جنھیں بیس جنوری کے بعد امریکا، اسرائیل، بھارت گٹھ جوڑ کے حملوں کا خطرہ ہے، ان کا اطمینان و سکون دیدنی ہے۔ کاش یہ مسلمان سید الانبیاء کی پیش گوئیوں پر یہودیوں اور عیسائیوں کی نسبت آدھا بھی ایمان رکھتے تو آج امت یوں منتشر نہ ہوتی۔ ہماری حالت ان منتشر بھیڑوں کی ہے جن پر بھیڑیے حملہ آور ہونے والے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں