چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر از رضوان اسد خان

2 خبریں نہایت افسوسناک بھی ہیں اور شخصی آزادی، جمہوریت، سیکولرازم وغیرہ جیسے چورن اور چٹنیاں بیچنے والوں کے لیے سوالیہ نشان بھی.

پہلی خبر کے مطابق مراکش کی مسلم حکومت نے سکیورٹی کے نام پر عورتوں کے نقاب والے برقعوں/عبائیوں پر پابندی عائد کر دی ہے.

فنگر پرنٹس، ریٹینل سکین، قدم قدم پر سی سی ٹی وی کیمراز، موبائل فون ٹریکنگ، حتی کہ شناختی کارڈز پر بھی سم انسٹالیشن کے اس دور میں اس قسم کی پابندیوں کی یہ توجیہ محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہے.

یہاں یہ بات بھی مد نظر رہے کہ فرانس کے ساتھ مراکش کے تاریخی ”دوستانہ“ تعلقات ہیں اور آج بھی ان کی معیشت کا بڑا انحصار فرانس پر ہے. مجھے تو یہ محض اپنے آقا کو خوش کرنے کی بھونڈی کوشش لگتی ہے. یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ”سکیورٹی خدشات“ فرانس کے ہی ہوں جن سے اپنے طریقے سے نبٹنے کے لیے اس نے اپنی ”کالونی“ میں یہ قانون نافذ کروایا ہو.

ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ چہرے کا پردہ مراکش کے شمالی سلفی علاقے میں زیادہ کیا جاتا ہے اور یہاں سے ہزاروں لوگ شام کی طرف ہجرت کر چکے ہیں، وہاں کے عوام کی نصرت کے لیے.
………..
دوسری خبر کے ڈانڈے بھی فرانسیسی نحوست سے ملتے ہیں. سوٹزرلینڈ کے شہر بزیل (Basel) کے سکولوں میں پیراکی کی کلاسز لینا ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے اور یہ کہنے کی حاجت نہیں کہ یہ کلاسز مخلوط ہوتی ہیں. 2012ء میں ایک مسلمان جوڑے نے اپنی 2 بیٹیوں کو ان کلاسز میں شامل ہونے سے روک دیا، جس پر سکول نے ان پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا. انہوں نے اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا جو وہ ہار گئے. سوئٹزرلینڈ کی اعلی ترین عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ پابندی کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں.

جوڑے نے ہمت نہ ہاری اور فرانس کے شہر سٹریس برگ میں یورپی عدالت میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کر دی جس کا فیصلہ اب سنایا گیا ہے. اس مضحکہ خیز ترین فیصلے میں ”فاضل“ جج صاحب فرماتے ہیں کہ ہم مانتے ہیں کہ یہ پابندی کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت ہے (پوائنٹ ٹو بی نوٹڈ) پر ہم ”سوشل ایونٹس“ سے کسی بچے کو دور رکھنے کی کسی کوشش کی حمایت نہیں کر سکتے؛ اور اس لحاظ سے سکول انتظامیہ کا فیصلہ بالکل درست ہے.

گویا جسم کی نمائش پر مبنی ”سوشل گیدرنگ“ کے علاوہ اور کوئی گیدرنگ ہوتی ہی نہیں دنیا میں. اور اگر کسی بچی نے دوسروں کو اپنے جسم کے خدوخال اور نشیب و فراز سے متعارف نہ کروایا تو وہ ”تربیت“ کے ایک نہایت اہم پہلو سے محروم رہ جائے گی…..!!!
………….
اور ہم پھر یہی کہتے ہیں کہ لبرل ازم عورت کی آزادی کا نہیں، عورت تک پہنچنے کی آزادی کا نام ہے..

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں