بڑی خوبیاں تھیں جانے والوں میں! از مولانامحمد جہان یعقوب

جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے استاد مولانا شاہد لطیف بتاتے ہیں کہ :شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب ایک مرتبہ فیصل آباد تشریف لائے ہوئے تھے،کھانے میں دوسرے لوگوں کے ساتھ میں خود بھی شریک تھا،انھوں نے فرمایاکہ ایک مرتبہ میں(مولاناسلیم اللہ خان )اورمولانا عبدالمجید لدھیانوی(مرحوم،امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ونائب صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان) ایک مجلس میں شریک تھے،مولانالدھیانوی نے مجھ سے پوچھا:حضرت! آپ کی عمر کتنی ہے؟تو میں نے ازراہ مذاق ان سے کہا : آپ کیوں پوچھ رہے ہیں،آپ کا خیال ہو گا یہ کب مرے گا ؟میں اتنی آسانی سے مرنے والا نہیں،میں جاتے جاتے کئیوں کو لے کرمروں گا۔

واقعی شیخ الحدیث کے جانے کے بعد تو گویا موتیوں کی مالاٹوٹ گئی ہے اور پاک وہندا وربنگلا دیش میں کئی ممتاز وجید علمائے کرام اب تک داغ مفارقت دے چکے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ نبوی پیشین گوئی کے پورا ہونے کا زمانہ ہے،کہ صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ علم کو علماء کے اٹھ جانے کے ذریعے اٹھائیں گے۔اہل پاکستان کے لیے شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کی اچانک رحلت بھی بہت بڑا صدمہ ہے اور مولاناپیر عبدالحفیظ مکی کااچانک انتقال بھی۔یہ دونوں ہستیاں ایک شجر سایہ دار کی حیثیت رکھتی تھیں ،ان کا دم غنیمت تھا،جواب اپنے نیک اعمال کا اجر وثواب پانے کے لیے رب غفور ومہربان کے دربار میں حاضر ہوچکی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان دونوں عظیم ہستیوں کو اپنی شان ِ عطاکے مطابق اجر جزیل ودرجات عالیہ عطا فرمائے۔آمین۔

بظاہر یہ دونوں ہستیاں ایک خاص مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی تھیں ،لیکن اس کے باوجود ان دونوں حضرات کی یہ ایک مشترکہ خصوصیت ہے کہ اپنے مکتب فکر کے علاوہ دوسرے مکاتب فکر کے ہاں بھی ادب واحترام سے دیکھی اور جانی جاتی تھیں،دوسرے مکاتب فکر بھی ان کے اخلاص وتقویٰ کے معترف تھے،ان کے سینے میں دھڑکنے والا دل صرف اپنے ہی مکتبہ فکر سے وابستہ افراد کے دکھ کو نہیں ،بلکہ دوسرے مکاتب فکر سے وابستہ افراد کے دکھ کو بھی محسوس کرتا تھا،اتحاد بین المسلمین کی علم برداری دونوں حضرات نے تادم واپسیں کی،مولاناسلیم اللہ خان صرف دیوبند مکتبہ ٔ فکر کے مرکزی تعلیمی وامتحانی بورڈ وفاق المدارس العربیہ ہی کے سربراہ نہیں تھے ،بل کہ پانچوں دینی تعلیمی بورڈوں کی نمایندہ تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کے بھی سربراہ تھے،یہ ان پر تمام مکاتب فکر کے اعتماد کی واضح دلیل ہے،کہ اس پیرانہ سالی اور ہجوم امراض وعوارض میں بھی ان سب نے اپنی ناخدائی کے لیے اس بوڑھے سپاہی کا انتخاب کیا،جوکم زور ونحیف بدن میں شیر جیسا دل رکھتا تھا اور ان تھک محنت کا قائل تھا۔اس انتخاب کی درستی کا بھی بارہا مشاہدہ ان کے قول وعمل اور جہد مسلسل سے ہوتا رہا،وہ ہر اس فورم پر نظر آئے جہاں مدارس دینیہ کو ان کی ضرورت تھی،وہ ہر اس حکم ران ،ساست دان اور بیوروکریٹ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر اپنے ضعف وعلالت کے باوجود بیٹھے ،جس کے ساتھ مذاکرات میں انھیں مدارس دینیہ کا کوئی مفاد نظر آیا،کسی بھی بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے مدارس دینیہ کو نکیل ڈالنے اور اس کی حریت فکر وآزادی سلب کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ بوڑھا سپاہی احتجاجی تحریک کی قیادت کے لیے بنفس نفیس آگے بڑھا،مدارس دینیہ ان کی خدمات کے بوجھ سے کبھی بھی سبک دوش نہیں ہوسکتے۔

وفاق المدارس العربیہ کو تو وہ اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتے ہی تھے،کہ وہ اسی کی دہائی سے وفاق المدارس کی پرورش وپرداخت کے لیے اپنے دن رات ایک کیے ہوئے تھے۔وفاق المدارس کو پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی وغیر متنازعہ امتحانی بورڈ بنانے،درس نظامی کے درجات کو اس نظام کے تحت امتحانات کا پابند کرنا،مدارس کی اسناد کو بالترتیب مڈل،میٹرک،انٹر اور بی اے وماسٹرز کے مساوی حیثیت دلوانا،وقت کے تقاضوں کے مطابق درس نظامی کے نصاب میں مختلف کتابوں کو شامل کرنا…غرض یہ کہ وفاق المدارس کو ایک ننھے اور نازک پودے سے بڑھاکر ایک تناور درخت کی حیثیت دینا،انھی کی مساعی جمیلہ کا مرہون منت ہے،جس میں ان کے رفقاء نے ان کی معاونت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی…شکراللہ مساعیھم الجمیلہ!

شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان ایک فرد نہیں ،اپنی ذات میں ایک ادارہ اور ایک انجمن تھے۔ان کی درسی خدمات کا سلسلہ بھی نصف صدی سے زاید پر پھیلا ہوا ہے۔دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مولانا سلیم اللہ خان نے مفتاح العلوم جلال آباد میں تدریس و تنظیم کے فرائض انجام دینا شروع کیے ،بعد ازاں شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کی قائم کردہ پاکستان کی مرکزی دینی درس گاہ دارالعلوم ٹنڈو الہیارمیں تدریسی خدمات انجام دینے پاکستان آئے اور تین سال یہاں کام کرنے کے بعد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی کے قائم کردہ معروف دینی ادارے دارالعلوم کراچی میں دس سال تک حدیث، تفسیر، فقہ، تاریخ، ریاضی، فلسفہ اور ادب عربی کی تدریس میں مشغول رہے ۔ اسی دوران ایک سال مولانا محمدیوسف بنوری کے اصرار پر جامعةالعلوم الاسلامیہ(علامہ بنوری ٹاؤن)میں پڑھاتے رہے ۔ 23 جنوری 1967 کو آپ نے شاہ فیصل کالونی میں جامعہ فاروقیہ کی انتہائی ناگفتہ بہ مالی حالات میں بنیاد رکھی ،جب کہ وسائل کا کوئی انتظام نہیں تھا اور قرض پر قرض چڑھتا جارہا تھا،لیکن اللہ کے اس ولی نے ہمت نہ ہاری اور حالات کا جوں مردی سے مقابلہ کیا۔آج فن تعمیر کے شاہ کار جامعہ فاروقیہ اور اس کے رہائشی اپارٹمنٹس کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ وہی جامعہ فاروقیہ ہے جہاں چند کچے کمرے ہوتے تھے اور طلبہ وعملہ فاقے کاٹتاتھا۔

علمِ حدیث میں سند بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور محدثین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ ہر محدث حضورسیدکونین صلی اللہ علیہ وسلم تک اپنی مستند سند بیان کرتا ہے اور پھر حدیث ذکر کرتا ہے۔ استاذ المحدثین حضرت مولانا سلیم اللہ خان نے حدیث کا علم شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی سے ،انھوںنے شیخ الہند مولانا محمود حسن سے، انہوں نے قاسم العلوم والخیرات مولانامحمدقاسم نانوتوی سے، انھوں نے فقیہ النفس مولانا رشید احمد گنگوہی سے، انھوں نے حضرت شاہ عبدالغنی اور شاہ محمد اسحاق سے، انھوںنے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے، انھوں نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے علم حدیث حاصل کیا،اس حوالے سے پاکستان میں وہ حضرت مدنی کے آخری شاگرد تھے۔ان کو بخاری شریف پڑھانے کا والہانہ حد تک شوق تھا، کم و بیش 55 سال تک بخاری شریف پڑھائی اور ضعیف العمری اور علالت کے باوجوددرس بخار ی سے اپنا رشتہ تادم واپسیں ترک نہ کیا۔خلاصہ یہ کہ بخاری پڑھانے والے شیوخ میں مولانا مرحوم کی سند عالی تھی ،یہی وجہ ہے کہ شیخ کے براہ راست شاگردوں کے علاوہ ان سے ان کی حدیث کی سند عالی کی وجہ سے استفادہ کرکے سند حاصل کرنے والوں کی تعداد بلا مبالغہ لاکھوں میں ہوگی،جن میں وقت کے جید علماء بھی شامل ہیں۔انھوں نے درسی افادات اور متعدد درسی شروحات آنے والی نسل کے لیے صدقہ ٔ جاریہ کے طور پر چھوڑی ہیں،جن میں بخاری شریف پر ان کی شہرہ آفاق شرح کشف الباری کی اب تک چوبیس جلدیں شایع ہوچکی ہیں۔اس کے علاوہ بھی انھوں نے درجنوں کتابیں اور درسی شروحات لکھی ہیں۔

مولاناسلیم اللہ خان کے بعد وفاق المدارس وتنظیمات مدارس کی قیادت کا بار گراں جس کسی کے بھی سپرد ہو،اس کے لیے مولاناسلیم اللہ خان کی کتاب صدائے وفاق اور عملی اصلاحات مشعل راہ کا کام دیتی رہیں گی۔مولاناسلیم اللہ خان نے ان تھک طبیعت پائی تھی،وہ درس بخاری کے دوران گھنٹوں بولتے تھے،حالاں کہ ڈاکٹروں نے انھیں زیادہ بات کرنے سے روک رکھا تھا،وہ وفاق کی نمایندگی کے لیے اسفار کی مشقت خندہ پیشانی سے برداشت کرتے تھے ،حالاں کہ ان کی عمر اور صحت اس کی اجازت نہیں دیتی تھی،ان کی خوبیوں اور کمالات پر اہل قلم لکھتے رہیں گے۔ہم یہا ں ان کی ایک خوبی کا بطور خاص ذکر کرنا چاہتے ہیں اوروہ ہے ان کی بیدار مغزی۔مولاناسلیم اللہ خان عمر کے اس آخری حصے میں بھی ہر طرف نظر رکھتے تھے،ان کے ادارے جامعہ فاروقیہ کا معاملہ ہویا وفاق المدارس العربیہ کا ،اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کا معاملہ ہو یا ان سے وابستہ کسی اور فرد یا ادارے کا،سب پر ان کی نظر رہتی تھی،وہ عضو معطل نہیں ایک متحرک اور چاق وچوبند منتظم تھے۔حال ہی میں وفاق المدارس العربیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ،جو شیخ کادایاں ہاتھ سمجھے جاتے تھے ،کے خلاف ایک این جی او کے ساتھ معاہدہ کرنے کے حوالے سے الزامات کی باز گشت جوں ہی حضرت صدر وفاق کے کانوں میں پڑی،انھوں نے فوراًتحقیقات کا حکم دیا،جید علما اور وفاق کے عہدے داروں پر مشتمل کمیٹی قائم کی،جس نے الزامات کے مطابق سوال نامہ تیار کیا اور مولاناحنیف جالندھری سے اس کا تفصیلی جواب لیا،اگرچہ تحقیقات کے بعد الزامات میں کوئی صداقت نظر نہ آئی،بایں ہمہ انھوں نے مولانا جالندھری کو اس این جی او سے مستعفی ہونے کاحکم دیا،تاکہ مزیدشکوک وشبہات پھیلانے کاکوئی امکان ہی نہ رہے۔اسی طرح کراچی میں بعض عناصر نے وفاق کے پلیٹ فارم کو مسلکی منافرت کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تو اس کی فوری حوصلہ شکنی کی اور وفاق کی پوزیشن واضح کرکے مسلکی منافرت کی سازش کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیا۔

مرحوم مولانا عبدالحفیظ مکی تبلیغی جماعت کی معروف شخصیت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے خلیفہ مجاز اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں انتہائی قابل احترام شخصیت تھے،ان کی تمام زندگی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، تحریر وتصنیف ،دعوت وتبلیغ، مدارس اور خانقاہوں کو قائم کرنے میں گزری ۔مولانا عبدالحفیظ مکی ،پاکستانی نژاد سعودی شہری تھے،لیکن ان کا دل پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتا تھا،راقم نے ان سے ایک بارانٹرویو لیا،یہ ان دنوں کی بات ہے ،جب نشتر پارک میں ایک دھماکے کے نتیجے میں بریلوی مکتبہ فکرسے تعلق رکھنے والی ایک جماعت کی مرکزی قیادت کونشانہ بنایا گیا تھا،جس میں درجنوں رہنما لقمہ اجل بن گئے تھے۔ان کا کہنا تھا اس سانحے کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیق ہونی چاہیے،ہمیں اس سانحے کا اتنا ہی دکھ ہے جتنا بریلوی مسلک سے وابستگان کو۔وہ درس وتدریس اور خانقاہی مزاج کے عالم تھے،بایں ہمہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہتے تھے۔پاکستان کی اکثر دینی سیاسی جماعتیں انھیں اپنا مربی وسرپرست قرار دیتی تھیں۔وہ جب بھی پاکستان آتے تھے یہاں کے دینی ایشوز پر سرگرم کردار ادا کرتے تھے اور ملکی حالات پر ان کی دور اندیشی کے سبھی معترف تھے۔ان کے خلاف بھی ایک لابی نے کافی دھول اڑانے کی کوشش کی اور ان کی مخالفت میں صفحات کے صفحات سیاہ کیے ،لیکن انھوں نے کبھی کسی کو جواب نہیں دیا،اپنی دھن میں مگن رہے اور ملک ودنیا بھر کے تبلیغی دورے کرکے مخلوق تک خالق کا پیغام پہنچایا،جب ان کا پیغام اجل پہنچا تو بھی وہ تبلیغی دورے کے سلسلے میں جنوبی افریقا میں تھے،ان کے صاحب زادے عبدالرؤف مکی کے مطابق جہاز ہی میں ان کی طبیعت بگڑنے لگی تو ان کے معالج کے مشورے پر ان کی انجیو گرافی کی گئی ،اسی دوران انھیں دل کا دوسرادورہ پڑا اور وہ دیار غیر میں رب کے بندوں کی رب کے ساتھ صلح کرانے کا عزم لے کر دار بقاء کی طرف کوچ کرگئے۔

اس دنیا میں جو بھی آیا ہے جانے کے لیے آیا ہے۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنی حیات مستعار کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھا اور آج جب وہ تہ خاک جا سوئے ہیں تو ان کی یادوں کے گلشن ہر طرف مہک رہے ہیں،ان کے تذکروں سے عشاق کی زبانیں تر اور متعلقین وفیض یافتگان کی مجلسیں آباد ہیں،ان کی خدمات ان کے لیے صدقہ جاریہ کے طور پر تاقیامت ان کی نیکیوں میں اضافہ کرتی رہیں گی۔ضرورت ہے ان ہستیوں کے نقش قدم پر چلنے کی،ان کی زندگی کے شب وروز کو اپنے لیے زاد راہ بنانے کی ،یہی عمل ہمارے لیے کلید فلاح ونجات بھی ہے اور دنیا میں نیک تذکروں کے جاری رہنے کا ذریعہ بھی۔اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کوکروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ ارفع مراتب نصیب فرمائے اورراقم سمیت تمام قارئین کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد!

دلیل.پی کے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں