ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس، ایک قانونی مطالعہ (1) – آصف محمود

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے، اسے اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا، جب تک اس سارے معاملے کا قانونی طور پر جائزہ نہ لے لیا جائے۔ اس کیس کا قانونی مطالعہ آدمی کو ششدر کر دیتا ہے کہ انصاف کے نام پر اتنا بڑا ظلم بھی ہو سکتا ہے، اور اس ظلم کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود حقوق انسانی کے نام پر متحرک تنظیمیں اور افراد کس طرح گونگے شیطان بن جاتے ہیں۔

بھول جائیے کہ عافیہ صدیقی سے ہمارا کوئی رشتہ ہے، بھول جائیے کہ وہ ہماری مسلمان بہن ہیں، بھول جائیے کہ وہ پاکستان کی بیٹی ہے۔ بس اتنا ذہن میں رکھیے کہ وہ ایک انسان ہے جس کا یہ آفاقی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے۔ اس کے بعد عافیہ صدیقی کے کیس کا مطالعہ کیجیے، اتنا ظلم اور ناانصافی دیکھ کر آپ کا دل لہو رو دے گا۔عافیہ صدیقی کے معاملے میں خاموش رہنے کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں:
اول: آدمی اس کیس کی جزئیات سے واقف ہی نہ ہو اور وہ یہی سمجھتا رہے کہ عافیہ ایک دہشت گرد تھیں جنہیں امریکہ نے قانون کے مطابق سزا سنائی۔
دوم:وہ اس کیس سے متعلق جملہ تفصیل سے تو واقف ہو لیکن بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گونگا شیطان بن جائے۔ لاعلمی اور بددیانتی نہ ہو تو کسی آدمی کے لیے اس ظلم پر خاموش رہنا ممکن ہی نہیں۔

کالم کی تنگنائے میں ہم چند سوالات تک محدود رہتے ہیں۔ عافیہ کی گرفتاری کی جو کہانی سرکاری طور پر بیان کی جاتی ہے، اس کے تنقیدی جائزے سے کیا چیزیں سامنے آتی ہیں؟یہ گرفتاری تھی یا پانچ سال قبل کیے گئے اغوا کو فراہم کی جانے والی ایک ’ کور سٹوری ‘ تھی؟ کیا امریکی عدالت کو اس معاملے میں حق سماعت حاصل تھا بھی یا نہیں؟ افغان پولیس کا مؤقف کیا رہا؟ عافیہ مطلوب کس جرم میں تھیں اور سزا کس جرم میں دی گئی؟ کیا ان پر عائد فرد جرم ہی ان کی بےگناہی کا ثبوت نہیں ہے؟ کیا ان پر دہشت گردی کا کوئی ایک الزام بھی ثابت ہو سکا؟ جس جرم میں انھیں سزا ہوئی، اس میں دستیاب شواہد کس حد تک قابل اعتبار تھے؟ کیا کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے؟۔ سوالات کا ایک دفتر کھلا ہے تاہم ان چند پہلوؤں پر فی الوقت ہم بات کریں گے۔

گرفتاری
گرفتاری کی جو کہانی بیان کی جاتی ہے، اسی سے آغاز کر لیتے ہیں۔ 3 فروری 2010ء کو امریکی اٹارنی آفس سے ایک پریس ریلیز جاری ہوئی، اس میں بتایا گیا کہ عافیہ صدیقی کو 17جولائی 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے بہت سے نوٹس برآمد ہوئے جن میں ڈرٹی بم بنانے کے طریقے اور بہت سے امریکی مقامات کے نقشے شامل تھے۔ بوسٹن گلوب نے19جنوری 2010ء کو گرفتاری کی تفصیل بیان کی جس کے مطابق: غزنی میں ایک دکاندار نے عجیب منظر دیکھا کہ ایک خاتون جس نے برقع پہنا ہوا تھا، وہ ایک نقشہ نکال کر بیٹھی تھی۔ دکاندار کو شک پڑا کہ اس علاقے میں تو عورتیں ان پڑھ ہیں، یہ کون عورت ہے جو نقشے لے کر بیٹھی ہے، شک اس وقت بڑھا جب دکاندار نے دیکھا کہ عورت مقامی زبان بھی نہیں بول سکتی، اور اس کے ساتھ کوئی مرد بھی نہیں ہے، صرف ایک بچہ ہے۔ یوں اس نے پولیس کو بتا دیا۔ یوں عافیہ پکڑی گئیں اور ان کے قبضے سے دو پونڈ مہلک زہر برآمد ہوا۔ اس کے علاوہ ہاتھ سے لکھے ہوئے سینکڑوں نوٹس بھی نکلے جن میں بم اور مہلک وائرس بنانے کے فارمولے درج تھے، اور ایسی مشینوں کو بنانے کے فارمولے بھی ان سے نکلے جو امریکی ڈرون گرا سکتے تھے۔ یہی انکشافات امریکی عدالت میں دوران سماعت بھی کیے گئے۔ عدالت میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ خود کش حملہ کرنے آئی تھیں۔ مسجد کے باہر ایک آدمی کو شک ہوا اور پکڑی گئیں۔

اب یہاں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
1۔دکاندار کو کیسے شک ہوا کہ یہ عورت مشکوک انداز سے گھوم رہی ہے؟ اگر عافیہ دہشت گرد تھیں اور خود کش حملے کے لیے خاص مقام تلاش کر رہی تھیں تو کیا وہ اس طرح ڈھونڈتیں کہ ایک دکاندار بھی مشکوک ہو جاتا؟ ایک اعلی تعلیم یافتہ عورت کو کیا اتنا بھی علم نہیں تھا کہ ریکی کیسے کی جاتی ہے؟

2۔ دکاندار کو یہ کیسے علم ہوا کہ وہ مقامی زبان نہیں جانتیں؟ اگر عافیہ دہشت گرد تھیں، اور ایک مشن پر تھیں تو کیا وہ اتنی ہی سادہ تھیں کہ ایک دکاندار کے ساتھ گفت و شنید شروع کر دیتیں اور خود کو مشکوک بنا لیتیں کہ مقامی زبان ہی نہیں آتی؟

3۔ وہ دہشت گرد تھیں اور القاعدہ کی ساتھی تھیں تو کیا اتنی ہی احمق تھیں کہ سینکڑوں نوٹس ساتھ لیے پھرتیں، جن میں بم اور وائرس بنانے کے فارمولے درج ہوتے۔ کیا امریکہ سے تعلیم حاصل کرنے والی عورت کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ ایسی چیزوں کو کیسے محفوظ کیا جاتا ہے؟

4۔ دو پونڈ زہر ساتھ لے کر پھرنا بھی ایک ایسا الزام ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔

5۔ وہ خود کش حملہ کرنے آئی تھیں تو اپنے بیٹے کو ساتھ کیوں لائی تھیں؟ماں ماں ہوتی ہے، وہ خود کش حملہ کرنے بھی جائے تو اپنے ساتھ بیٹے کی قربانی کیوں دے گی؟

6۔ وہ القاعدہ کی ساتھی ہوتیں تو کیا القاعدہ والے اتنے بے وقوف تھے کہ انہیں علم ہی نہ ہوتا کہ ایک انتہائی تعلیم یافتہ خاتون سے کیا کام لیا جا سکتا ہے۔ وہ اتنی اہم عورت کو خود کش حملے پر روانہ کرتے یا اس کو دو پونڈ زہر کسی جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام لیتے؟
(جاری ہے)

دلیل. پی کے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں