ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس، ایک قانونی مطالعہ (3) – آصف محمود

اب آئیے اس اہم ترین سوال کی جانب کہ عافیہ صدیقی کا جرم کیا تھا؟ انہیں کس جرم میں سزا دی گئی؟

فرد جرم اور سزا سے پہلے معاملے کو سمجھنے کے لیے پس منظر سمجھنا بہت ضروری ہے۔امریکہ نے نزدیک عافیہ صدیقی کی حیثیت کیا تھی اس کو دیکھنا بہت ضروری ہے۔

1۔ایف بی آئی نے 2003میں عافیہ صدیقی کو سیکنگ انفارمیشن وار آن ٹیرر لسٹ میں ڈالا تھا۔(بحوالہ Order of US District Court Southern District of New York, 08CR. 826(RMB))

2۔صرف ایک سال بعد ایف بی آئی نے عافیہ صدیقی کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ نہ صرف دہشت گرد قرار دے دیا بلکہ سات خطرناک ترین دہشت گردوں کی جاری کردہ فہرست میں عافیہ صدیقی کا نام شامل کر دیا گیا۔ ( بحوالہ : Scroggins, Deborah (March 1, 2005), ” The Most Wanted Woman in the World”- “FBI Seeking Information Poster”, The FBI(reprinted by NEFA Foundation)

3۔جب عافیہ کی مبینہ گرفتاری عمل میں لائی گئی تو امریکہ کے نزدیک یہ گزشتہ پانچ سالوں کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔سی آی اے کے سابق ڈائرکٹر John Kirakauنے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم نے 2003 سے اب تک اتنا اہم آدمی نہیں پکڑا۔یہ سب سے اہم گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ‘‘

4۔ امریکی اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ یہ القاعدہ کی مطلوب ترین شخصیت کی گرفتاری عمل میں لائی گی ہے۔( بحوالہ : ‘ The Intelligence Factory133..” By Petra Bartosiewicz. Harper Magazine, 26 Nov. 2010 )

5۔عافیہ صدیقی کو امریکی سرکاری حلقے لیڈی القاعدہ اور دہشت گردوں کا ماں کہتے رہے۔ ( بحوالہ :- Rodriguez Alex, “IS She a Victim of the US or is She ‘Terror Mom, “The Los Angeles Times, February 3, 2010.)

6۔عافیہ صدیقی پر ایک ا نتہائی سنگین الزام یہ عائد کیا گیا کہ اس نے دو امریکی صدور جمی کارٹر اور جارجک ڈبلیو بش سینیر کو قتل کرنا چاہا تھا اور اسی وجہ سے امریکی اسسٹنٹ اٹارنی کرسٹوفر لائڈ نے عافیہ کو ہائی سیکیورٹی رسک قرار دیا۔( بحوالہ:Melissa Grace; Stepanie Gaskell, “Lady al-Qaeda’s threat real, pol syas; Layers want to see evidence” New York daily News. August 14, 2008. (

یہ تھا فرد جرم سے پہلے امریکہ کا عافیہ کے بارے میں موقف۔

اب عافیہ کی گرفتاری کا ایک ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور ان کا ٹرائل شروع ہوتا ہے۔
فرد جرم عائد ہوتی ہے۔
یہ فرد جرم قانون و تعزیز کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں فرد جرم میں عافیہ پر کیا الزام عائد کیا گیا اور کس جرم میں سزا دی گئی؟ فرد جرم یہ تھی کہ جب انہیں گرفتار کر کے غزنی پولیس سٹیشن میں رکھا گیا تو وہاں چھ رکنی امریکی ٹیم ان سے تفتیش کرنے گئی جہاں انہوں نے امریکی ٹیم پر انہی کی گن سے فائر کیے ۔اور یوں انہوں نے امریکی شہری کو قتل کرنے کی کوشش کی اور امریکی فوجی اہلکاروں پر حملہ کیا۔

گرفتاری کی طرح اس الزام کی بنیاد بھی جھوٹ پر کھڑی ہے اور اس پر ہم تفصیل سے آگے جا کر بات کریں گے۔فی الوقت ایک اور سوال پوچھنا ہے ۔ور سوال یہ ہے کہ امریکہ نے عافیہ کو اس جرم میں سزا کیوں سنائی جو گرفتاری کے بعد ہوا؟جس جرم میں عافیہ مطلوب تھی اس جرم کا فرد جرم میں ذکر کیوں نہیں ہے۔ وہ مطلوب دہشت گرد تھی،سات بڑے دہشت گردوں میں ان کا نام شامل کیا گیا تھا،وہ لیڈی القاعدہ تھیں،وہ دہشت گردی کی ماں تھیں،ان جیسا بڑا دہشت گرد آپ نے پانچ سالوں میں نہیں پکڑا، وہ آپ کے دو صدور پر حملہ کی خواہش رکھتی تھیں تو یہ سب کچھ فرد جرم میں شامل کر کے ان کا ٹرائل کر کے انہیں سزا کیوں نہیں دی گئی؟جس جرم میں آپ انہیں گرفتار کرتے ہیں اس میں سزا کیوں نہیں دیتے۔جو الزام آپ ان پر عائد کرتے رہے اور ان کی زندگی جہنم بنا دی فرد جرم میں وہ الزام شامل کیوں نہیں کیے؟

اگر عافیہ کو جرم گرفتاری کے بعد سرزد ہوتا ہے تو جناب یہ تو بتائیے کہ ان پر یہ سارے الزامات کیوں لگائے ؟کیا ثبوت تھے ؟انہیں گھوسٹ پرزنز کے طور پر کیوں رکھا گیا؟ان پر سارا ظلم و جبر کس جواز کے تحت ہوا؟جن الزامات کے تحت عافیہ کو لیڈی القاعدہ اور ٹیرر مام کہا گیا جب مقدمہ چلانے کا وقت آیا تو کسی ایک الزام کو بھی شامل نہیں کیا گیا؟کیا یہ اس بات کا اعتراف نہیں کہ سارے الزامات جھوٹے تھے؟

یاد رہے کہ جب عافیہ غائب ہوئیں تو یہ ان دنوں کی بات ہے جب امریکہ طاقت اور انتقام کی نفسیات میں جی رہا تھا۔جھوٹا سچا الزام لگا نہیں کسی پر اور امریکہ اپنے قہر سمیت اس پر ٹوٹ پڑا۔ڈرون حملوں میں کیا ہوا ؟جن دنوں میں اپنی کتاب Drone Attacks: International law brns in Hellfire پر کام کر رہا تھا یہ خوفناک حقیقت علم میں آئی کہ امریکہ نے مقامی لوگوں کو مائیکرو چپس دے رکھی ہیں جن کے گھروں یا حجروں کے پاس یہ ایجنٹ ان چپوں کو پھینک دیتے ہیں ڈرون وہاں حملہ کر دیتا ہے۔امریکی صحافی جین مائیر نے 26 اکتوبر 2009 کو دی نیو یارکر میں predators war کے نام سے شائع ہونے والی رپورٹ میں تفصیل سے لکھا کہ کس طرح قبائلی ایجنٹوں نے دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے مخالفین کے گھروں میں چپیں دالنا شروع کر دیں اور امریکہ ڈرون حملہ کر کے انہیں اڑاتا گیا۔گیرتھ پورٹر نے تو باقاعدہ ایسے ایجنٹوں کا انٹرویو شائع کر دیا جو تسلیم کر رہے تھے کہ انہیوں نے انتقام لینے کیے اور پیسوں کے لالچ میں ادھر ادھر چپیں پھینکنا شروع کر دیں اور امریکہ ڈرون حملے کرتا رہا۔

کسی جرم کا دفاع مقصود نہیں ۔عافیہ نے بھی کوئی جرم کیا ہو تو سزا دیں لیکن انساف کے نام پر اگر ظلم ہو رہا ہو تو اسے ظلم ہی کہا جائے گا۔

امکان یہی ہے کہ ناقص اطلاعات کی بنیاد پر عافیہ کو اٹھا کر گھوسٹ پرزنر بنا دیا گیا۔بات نکلی تو اول گرفتاری کا ڈرامہ رچایا گیا اور پھر ایک جھوٹی کہانی کی بنیاد پر سزا سنا دی گئی۔

جس جرم میں عافیہ صدیقی کو سزا سنائی گئی اب ذرا اس کا احوال بھی سن لیجیے۔یہ ڈرامہ عافیہ کی گرفتاری کے ڈرامے سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔
(جاری ہے)

بشکریہ دلیل.پی کے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں