دشمن کی صفوں میں دشمن از اوریا مقبول جان

کسی دین میں داخل ہونے، کسی ملک کی شہریت اختیار کرنے، کسی عہدے پر فائز ہونے کے لیے ایک اعلان ضروری ہوتا ہے جو انسان صدق دل اور بقائمی ہوش و حواس کرتا ہے۔ جس طرح مسلمان ہونے کے لیے کلمۂ شہادت اس کے تمام تر مفاہیم و مطالب کو سمجھ کر ادا کرنا لازمی ہے۔ ویسے ہی کسی بھی ملک کی شہریت اختیار کرنے کے لیے اس کی وفاداری کا حلف بہت ضروری ہی نہیں بلکہ لازم ہے۔ یوں تو ہر وہ شخص جو کسی ریاست میں پیدا ہوتا ہے اسے یہ حلف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوتی مگر اس ملک کے قوانین یہ وضاحت کردیتے ہیں کہ تم ہر معاملے میں اس ریاست سے وفادار رہوگے۔
انسان جب مذہب بدلتا ہے تو یہ اس کی شعوری کوشش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ خوب سوچ سمجھ کر تبدیلی مذہب کا اعلان کرتا ہے۔ اسلام اختیار کرنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو الٰہ کہنے کا کیا مطلب ہے‘ یعنی باقی تمام خداؤں اور مذاہب کا انکار اور اللہ کو تمام معاملات میں واحد حاکم، فرماں روا اور معبود تسلیم کرنا۔ اسی طرح جب کوئی کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرتا ہے تو وہ بھی اس کی شعوری کوشش ہوتی ہے۔
اکثر ممالک شہریت دیتے ہوئے جو حلف پڑھنے کو دیتے ہیں وہ مختصر ہوتے ہیں یعنی بنیادی وفاداری کا اعلان ‘لیکن امریکی شہریت کا حلف اس قدر واضح اور مفصل ہے کہ اس نے ہر چیز کھول کھول کر بیان کردی ہے۔ اصل عبارت اس لیے تحریر کررہا ہوں کہ اس میں جو سختی پائی جاتی ہے اس کا ترجمہ کسی طرح کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں۔

I hereby declare on oath that I am absolutely and I entirely Renounce and Abjure or allegiance and fidelity to any foreign Prince, Potentate, State or sovereignty of whom or which I have therefore been a subject or citizen, that I will support and defend the Constitution and laws of United States of America against all enemies, foreign and domestic, that I will bear true faith and allegiance to the same, That I will bear arms on behalf of United states of America when required by law, That I will perform non combatant Service in the armed forces of United States of America when required by law. That i will perform work of the national importance under civil Direction when required by the law and that I take this Obligation freely without any mental reservation or purpose of evasion, So help me God.

میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں مکمل طور پر ہر ہستی، غیرملکی حاکم، ریاست اور ہر حاکم اعلیٰ اور حاکم مطلق کے ساتھ وفاداری کرنے سے مکمل انکار کرتا ہوں اور اس کو رد کرتا ہوں کہ جس کا میں اب تک وفادار رہا ہوں اور اب سے میں مکمل طور پر پوری امانت داری کے ساتھ امریکا کے آئین و قوانین کی حمایت کرتا ہوں اور اس کے ہر دشمن کے خلاف اس سے وفاداری کا وعدہ کرتا ہوں۔ یہ دشمن خواہ بیرونی ہو یا اندرونی۔ میں صداقت و وفاداری کے ساتھ یہ وعدہ کرتا ہوں کہ جب بھی طلب کیا گیا‘ میں امریکی ریاست کے لیے قانون کے مطابق ہتھیار اٹھا کر نکلوں گا، اس کے ساتھ ساتھ میں قانون کے تحت امریکی مسلح افواج کی طرف سے غیر عسکری سرگرمیوں میں بھی حصہ لوں گا اور میں اہم قومی امور کے لیے بھی قانون کے مطابق کام کروں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ان فرائض کو میں بغیر کسی معمولی ذہنی تحفظ، حیلہ، بہانہ، دھوکا کے بغیر اپنے لیے لازم سمجھتا ہوں۔ اے خدا تو میری مدد فرما۔
یہ وہ حلف ہے وہ تمام تارکین وطن اٹھاتے ہیں جو امریکی شہریت اختیار کرتے ہیں۔ اس میں کس قدر وضاحت کے ساتھ اس بات کا عہد لیا گیا کہ وہ اپنے سابقہ ملک، علاقے، ریاست، قبیلے یا کسی بھی ہستی جس کو وہ اب تک مقدم سمجھتے تھے اس کا انکار کرتے ہیں۔ اپنی گزشتہ محبتوں کو امریکی ساحلوں پر سمندر برد کرتے ہیں اور صرف اور صرف امریکا اور امریکی سرزمین و قانون کے وفادار رہیں گے۔ یہ عہد ایک ملک کی شہریت کا عہد کم اور قومیت امریکا کے مذہب کا عہد زیادہ لگتا ہے۔کیونکہ جب کبھی آپ کسی مذہب کو اختیار کرتے ہو تو اسی صورت ہی آپ اپنے گزشتہ مذہب کا انکار کرتے ہیں۔
امریکی شہریت کا حلف وہ واحد حلف ہے جس میں کھل کر اس بات کا اعلان کیا گیا ہے ورنہ باقی ملکوں نے ایک سادا سا رویہ اپنا رکھا ہے۔ مثلاً برطانیہ کی شہریت کا حلف یہ ہے ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر پوری سنجیدگی اور صداقت کے ساتھ یہ وعدہ کرتا ہوں کہ برطانوی شہری بننے پر ملکہ ایلزبتھ دوم، اس کے جانشینوں اور اس کے ولی عہدوں کے ساتھ پوری ایمانداری اور صداقت کے ساتھ سچی وفاداری‘ قانون کی روح کے مطابق کروں گا۔‘‘ اسی طرح کینیڈا کی شہریت کا حلف یہ ہے ’’قسم اٹھاتا ہوں کہ ملکہ ایلزبتھ دوم، ان کے جانشینوں اور ان کے ولی عہدوں کے ساتھ پوری دیانت اور خلوص کے ساتھ وفادار رہوں گا اور کینیڈا کے قوانین پر پوری وفاداری کے ساتھ عمل پیرا ہوں گا۔
آسٹریلیا نے بات ذرا واضح کی ہے۔ میں خدا کے زیر سایہ یہ اعلان کرتا ہوں کہ آج سے میں اپنی وفاداری آسٹریلیا اور اس کے لوگوں کو پیش کرتا ہوں جن کے جمہوری عقائد کا میں حصہ دار ہوں۔ جن کے حقوق و آزادی کا میں احترام کرتا ہوں اور جس کے قوانین کی میں پابندی اور حمایت کرتے ہوئے ان پر عمل کرتا رہوں گا۔
ان تمام حلف ناموں کے بعد کوئی بھی شخص جو ان کی پاسداری نہیں کرتا وہ دراصل اپنے اس عہد کی پاسداری نہیں کرتا جو اس نے سوچ سمجھ کر اٹھایا ہے۔ جمہوری سیکولر ریاستوں کے حلف اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اگر کبھی اللہ کے بنائے گئے قوانین اور ریاست کے بنائے گئے قوانین میں اختلاف آجائے تو ایک متقی و پرہیز گار شخص پر بھی لازم ہوگا کہ وہ اللہ کے قوانین کو ترک کرکے ریاست کے قوانین کا احترام کرے، دفاع کرے اور ان کی حمایت میں ہتھیار بھی اٹھائے۔ ان حلف ناموں کو تحریر کرنے کے بعد کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ صرف قرآن کی دو آیات درج کررہا ہوں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اے ایمان والو تم اپنا ولی اور دوست ایمان والوں کے سوا کسی اور کو نہ بناؤ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ دوسرے لوگ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے، وہ چاہتے ہیں کہ تم دکھ میں مبتلا ہوجاؤ، ان کی دشمنی و عداوت تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ اور زیادہ سنگین ہے‘‘ (آل عمران118) یہ تو وہ وارننگ ہے جو اللہ نے مسلمانوں کو ہر غیر مذہب، ملحد اور مشرک کے بارے میں دی ہے لیکن ایک اور جگہ تو اس قدر وضاحت ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ان حلف ناموں کا اصل مقصد اور مدعا سمجھ میں آ جاتا ہے۔
’’یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کی ملت نہ اپنا لو۔ پس کہہ دو کہ اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔‘‘ (البقرہ 120)۔ ایسا حلف اٹھانے یا اس کی آرزو کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جلوس نکالنے‘ مضمون لکھنے یا تقریریں کرنے کا فائدہ۔ پہلے دشمن کی صفوں سے باہر نکلو۔اس عہد کا طوق گردن سے اتارو‘پھر اسے للکارو۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں