چھینک روکنا نقصان دہ کیسے؟

کسی الرجی یا کوئی چیز ناک میں چلے جانے پر جسم اس سے فوری نجات کے لیے چھینک کا سہارا لیتا ہے۔ ایسا ہونے پر پسلیوں کے درمیان مسلز کی حرکت اور پردہ شکم حرکت میں آکر ناک میں سے ہر چیز کو خارج کردیتے ہیں۔

بنیادی طور پر یہ ایک خودکار اور انسان کے کنٹرول سے باہر ردعمل ہے جو کہ سانس کی نالی کو کھلی رکھنے کے لیے ہے۔

ایک چھینک بہت طاقتور ہوتی ہے جس کی رفتار سو سے پانچ سو میل فی گھنٹہ ہوسکتی ہے مگر اس کے آنے سے پہلے ناک کو دبانا یا منہ کو بند کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہوا نکل نہ سکے جو پھر باہر کی بجائے جسم کے اندر جاتی ہے جو کہ غیر متوقع نقصان پہنچا سکتی ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ای این ٹی انسٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق جب پھیپھڑوں سے آنے والی تیز رفتار ہوا کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے و اس کے نتیجے میں کان کے درمیانی حصے کو نقصان پہنچ سکتا ہے جہاں سننے والی ہڈی ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اس ہوا کی طاقت کو دبانے کے نتیجے میں کان کا پردہ اور ان چھوٹی ہڈیوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو آواز کو سننے میں مدد دیتی ہیں۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ چھینک روکنے سے سنگین زخموں کا امکان نہیں ہوتا اور یہ محض شبہات ہیں۔

تاہم ان کا مشورہ تھا کہ چھینک کو دبانے یا روکنے کی کوشش نہ کریں بلکہ رومال یا ہاتھ میں منہ چھپا لیں جس کے بعد ہاتھوں کو دھو کر جراثیموں سے نجات پالیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں