یوم محبت یا یوم زنا از احسان کوہاٹی

سیلانی یہ نہیں کہتا کہ دنیا بھر میں محبت کا استعارہ اور ستارہ قرار دیا جانے والا کون تھا؟
آ پ اسے ہوس پرست انسان کہیں تو سیلانی کی بلا سے اور اگر شہید محبت کہیں تو بھی کہتے رہیں۔
سیلانی ماضی کے اس کردار پر عدالت لگانے جا رہا ہے نہ وہ ویلنٹائن کو کٹہرے میں کھڑا کر کے وکیل صفائی اور استغاثہ کے دلائل سننے کے موڈ میں ہے. سیلانی کی دلچسپی کچی عمر کے ان لڑکے لڑکیوں سے ہے جو آپ کو بھائی جان، لالہ، بھیا، بڑا بھائی یا باجی، آپی، آپا، بہنا کہتے ہیں یا پھر اسکول کالج یونیورسٹی جاتے ہوئے آپ کے سامنے سر جھکا کر ڈھیروں دعائیں اور آپ کا اعتماد اعتبار لے کر گھر سے نکلتے ہیں، جو لاڈ سے آپ کو ڈیڈی، بابا، پاپا کہہ کر اپنا جیب خرچ بڑھوا لیتے ہیں یا پھر جو آپ کو امی، مما، اماں اور ماں کہہ کر چھوٹی بڑی فرمائشیں کرتے ہیں، اپنے دکھ سکھ بتاتے ہیں، اپنا ہمراز بناتے ہیں. سیلانی ان پر جھپٹے والے ویلنٹائینی عفریتوں کے شکنجے میں جکڑے ’’گوروں‘‘ کی کچھ سچی کہانیاں سناتا ہے.
پہلی کہانی ایک اسکول ٹیچر کی ہے، سیاہ زلفوں اور کالی آنکھوں والی الیگزینڈرا ویرا کے چہرے پر چھائی معصومیت سے کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا کہ اس صورت کے پیچھے کتنا بھیانک خوفناک چہرہ موجود ہے. امریکی ریاست ہیوسٹن میں انگریزی پڑھانے والی الیگزینڈرا آج کل امریکی اخبارات کی ہیڈ لائنز میں ہے، یہ ہاٹ اسٹوری نیوز چینلز میں بھی مل جائے گی اور انٹرنیٹ پر بھی. اس کہانی کا مرکزی کردار اس کا نوعمر ویلنٹائن ہے، اس کی عمر محض تیرہ برس ہے، جی ہاں! اس نے ایک تیرہ برس کے طالب علم سے دوستی کی اور دوستی کے بعد وہ سب کچھ کیا جو ماضی کی ’’شہید محبت‘‘ کا خواب تھا، اس خواب کی یہ تعبیر اسے دس برس کے لیے جیل بھجوا رہی ہے.
ہیوسٹن میں آٹھویں گریڈ کی ٹیچر الیگزینڈرا نے پولیس کو بتایا کہ اس کی تیرہ برس کے طالب علم سے 2015ء میں ایک سمر اسکول میں ملاقات ہوئی تھی. پھر یہ ملاقات ملاقاتوں میں بدل گئی. بچے نے اسے انسٹاگرام پر اپنی تصویر بھیجی اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا اور ایسا چلا کہ وہ بچہ اس کے گھر آنے جانے لگا، اور اس آنے جانے میں وہ سب کچھ ہوتا گیا جو اس بکھرے ہوئے معاشرے میں عام سی بات ہے. الیگزینڈرا نے اپنے پڑوسیوں کو بتا رکھا تھا کہ وہ اس کے بوائے فرینڈ کا چھوٹا بھائی ہے، اس لیے کسی نے زیادہ ٹوہ لینے کی کوشش بھی نہیں کی، ویسے بھی اس معاشرے میں یہ پرسنل لائف کہلاتی ہے. اس روز روز کے ملنے اور رنگ رلیوں کا نتیجہ الیگزینڈرا کے حاملہ ہونے کی صورت میں آیا۔ اس نے یہ خوشخبری بچے کے تیرہ سالہ والد کی مما پاپا کو بھی سنا دی اور بقول ٹیچر انہوں نے اسے ویلکم کیا. الیگزینڈرا کے اعترافی بیان کے مطابق ان کے ناجائز تعلقات کا بچے کے گھر والوں کو بھی علم تھا، یہاں تک کہ اس کے حاملہ ہونے پر انہیں کوئی اعتراض بھی نہیں تھا، لیکن چائلڈ پروٹیکٹو سروسز والوں کی پوچھ گچھ کے ڈر کے خوف سے اس نے اسقاط حمل کرادیا. اس کہانی کی افسوس ناک بات یہ ہے کہ الیگزینڈرا کی ایک چھ برس کی بیٹی بھی ہے جو اس سارے معاملے سے باخبر تھی. وہ تیرہ برس کے ویلنٹائن کو ڈیڈی کہہ کر پکارا کرتی تھی۔ عدالت نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ وہ اسے کچھ عرصے کے لیے جیل بھیج کر سوسائٹی کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارے ٹیچر ہمارے بچوں کو پڑھائیں، نہ کہ ویلنٹائن بنیں‘‘۔
ایک اور کہانی سنیے. یہ بھی امریکی ریاست کی ہے. اوہائیو کے شہر ہوبرڈ کے سابق میئر رچرڈ کینن پینسٹھ برس کے ہیں، اس پیرانہ سالی میں وہ آج کل ایک مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں. ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک چار برس کی بچی سے جنسی زیادتی کی ہے. پینسٹھ برس کی عمر کے بابے کاچار برس کی بچی کے ساتھ ایسا فعل، بات سمجھ میں آتی ہے نہ یقین کرنے کو جی چاہتا ہے، لیکن آپ یقین کر لیجیے کہ ایسا ہی ہوا اور یہ سیلانی کے کہے پر نہیں، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹر کرسٹائن گوریراکی رپورٹ پر کیجیے جو 14 ستمبر 2016ء کو شائع ہوئی. اس کے مطابق میئر نے اس تعلق کا اعتراف کیا، اور یہ کہہ کر سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ یہ سب کرنے کے لیے اس بچی نے اسے دعوت دی تھی۔
اب نیلی آنکھوں اور گوری چمڑے والوں کے ایک اور اعزاز کا ذکر بھی سن لیجیے. آکلینڈ نیوزی لینڈ کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ دنیا کے کم عمر ترین ڈیڈی کا شہر ہے. یہاں گیارہ برس کے بچے نے چھتیس برس کی خاتوں کے ساتھ بدکاری کر کے یہ منفرد اعزاز حاصل کیا. ینگ ڈیڈیز کے نام سے نیٹ پر سرچ کرکے سینٹ ویلنٹائن کے روحانی سپوتوں کے نام دیکھے جا سکتے ہیں۔
اب سیلانی آپ سے کچھ اعداد و شمار کی زبان میں بات کرتا ہے. دنیا کی سپر پاور دنیا کے ناجائز بچوں کا سب سے بڑا ملک ہے، 2015ء کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق اس برس انتالیس لاکھ ستتر ہزار سات سو پینتالیس بچے پیدا ہوئے جن میں سے سولہ لاکھ دو سو آٹھ بچے وہ تھے جو رنگ رلیوں اور خرمستیوں کے نتیجے میں دنیا میں آئے، ان کی مائیں غیر شادی شدہ تھیں، یہ اس برس شرح تولید کا 42 فیصد بنتا ہے۔
ٹھہر جائیے کہاں جا رہے ہیں! جانس ہیپکنز یو نیورسٹی کی ریسرچ تو دیکھ لیں، 2012ء میں کی گئی ریسرچ کے مطابق چونسٹھ فیصد خواتین شادی کی زحمت کیے بنا ہی ماں بنیں۔ ویلنٹائنی سوسائٹی کی ایک اور خوبی بھی سن لیجیے، 72.3 فیصد سیاہ فام شادی کے بکھیڑوں میں پڑے بنا ہی بچے پیدا کر ڈالتے ہیں، امریکی انڈینز میں یہ تناسب 66.2 فیصد، الاسکا کے مخصوص نقوش والوں میں یہ شرح 53 فیصداور ہسپانوی نژاد امریکیوں میں 29 فیصد ہے۔
گھوم گیا ناں آپ کا دماغ! سیلانی بھی ایسے ہی چکرا کر سوچ رہا تھا کہ کیا پاکستان میں ویلنٹائن ڈے کی خباثت متعارف کرانے والوں نے اپنے مڈویک میگزین میں ’’یوم محبت‘‘ کا شمارہ نکال کر کتنا کمایا ہوگا؟ دس پندرہ کروڑ یا زیادہ سے زیادہ سو کروڑ روپے۔ ان کرنسی نوٹوں کے بدلے اس خاندان نے ساری زندگی کے لیے اس گناہ کی کالک اپنی پیشانی پر مل لی اور قوم کو بھی یہ راہ دکھا دی. سیلانی کو آج بھی مڈویک میگزین کا وہ شمارہ یاد ہے جس میں اوباش لڑکے بدقماش مرد خواتین کا نام لکھ لکھ کر اظہار محبت کر رہے تھے. اس بڑے اشاعتی گروپ کے بڑے نیوز چینل نے بھی اپنے مارننگ شوز کے سرخ سیٹ پر سرخ لباس میں میزبانوں کو بٹھا کر یوم زنا کا خوب رنگ جمایا اور اسے یوم محبت کا نام دے کر خوب ریٹنگ کمائی اور اشتہار سمیٹے. اب یہ لعنت ایک آدھ نیوز چینل کو چھوڑ کر ہر چینل میں دکھائی دے رہی ہے. نیوز چینلز پر ویلنٹائن ڈے کے حق میں پروگرام ہو رہے ہیں، دلیلوں اور تاریخی حوالوں سے ثابت کیا جا رہا ہے کہ یہ تو یوم محبت ہے جس کا پیغام صرف محبت کے سوا کچھ نہیں۔
ویلنٹائن کی ایسی ہی دلالی پر مبنی ایک پروگرام پر سیلانی کی منہ بولی ماں نے فون کر کے توجہ دلائی. سیلانی نے نیوز چینل لگایا، اسکرین پر ایک طرف فرید پراچہ صاحب، مولاناحمداللہ صاحب تشریف فرما دکھائی دیے، اور دوسری طرف دو لبرل خواتین نظر آئیں جو ان سے الجھ رہی تھیں، دلائل دے رہی تھیں. ان کی بحث کا لب لباب یہ تھا کہ آپ شکر نہیں کرتے کہ بچوں نے سرخ قمیضیں ہی پہن رکھی ہیں بارودی جیکٹس نہیں، ان کے ہاتھ میں گلاب ہی تو ہیں کلاشن کوف نہیں۔ اگر یہ کسی لڑکی کو پسند کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے ۔ سیلانی یہ بکواس سن کر بس سر پیٹ کر ہی رہ گیا، بےشک نوجوانوں کا حق ہے کہ وہ اپنے لیے بہترین من پسند شریک حیات منتخب کریں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے سرکار دوعالم کو پسند کیا تھا اور نکاح کا پیغام پہنچایا تھا۔ صحابہ کرام نے بھی پسند کی خواتین کو نکاح میں لیا. ہمیں بھی یہ حق ہے کہ مسلمان لڑکی اور مسلمان لڑکا ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں، پسند بھی کر سکتے ہیں، سیلانی بھی یہی کہتا ہے کہ پسند کرو، نکاح کرو اور پھر ہاتھ پکڑ کر پارک جاؤ یا نیو یارک، پھول چھوڑ کر گملہ دو، خوب محبت کرو، احترام کرو، ایک دوسرے کا خیال کرو، مزے سے رہو، اس پر شکایت کس کو، اعتراض کس کو؟ مسئلہ تو ان ویلنٹائینوں کا ہے جو اسے امریکہ بنانا چاہتے ہیں، ہمارے سوسائٹی کا شیرازہ بکھیرنا چاہتے ہیں، کیا ہم اسے بکھرنے دیں؟ سرخ قمیض والے اوباشوں کو اپنی بہن بیٹیوں سے کھلواڑ کرنے دیں؟ سیلانی یہ سوال اس معاشرے میں ابا، بابا، ڈیڈی، پاپا اور امی، مما، موم اور اماں کہلانے والی ہر ہستی کے ذمے چھوڑ کر چشم تصور میں پھولوں کی آڑ میں پھول روندنے والے ویلنٹائینیوں کو مکروہ مسکراہٹ کے ساتھ شکار کی تلاش میں کالجوں، یونی ورسٹیوں اور پارکوں میں گھومتا دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں