ٹوٹے خوابوں کا شبستان (انڈیا کا سفر نامہ)

ٹوٹے خوابوں کا شبستان(انڈیا کا سفر نامہ)
مصنف: ڈاکٹر آصف جہانگیر خان
نور ہی نور ہے ہر سمت آج کی رات۔ (لال قلعہ دلی میں گذری شام اور ساوٗنڈ اینڈ لائٹ شو)
شاید یہ دلی میں میر ا آخری دن تھا۔ ہم صبح ہی صبح چاندنی چوک میں گھومتے رہے۔ پھر نئی دلی میں کناٹ پیلس مارکیٹ دیکھنے گئے۔ کناٹ پیلس دلی کا ایک خوبصورت علاقہ ہے۔ یہاں ایک انڈر گراوٗنڈ مارکیٹ ہے جسے پالکی بازار کہتے ہیں۔ وہ بھی دیکھی۔ پوری مارکیٹ ایئر کنڈیشنڈ تھی۔ لُوبان کی مہک نے احساس دلایا کہ جیسے ہم کسی مارکیٹ میں نہیں بلکہ مندر میں گھوم رہے ہیں۔اِس مارکیٹ میں مندروں کی مخصوص لوبانی فضا کا احساس ہوتا ہے۔دوکانداروں نے اظہار عقیدت کے طور پر چھوٹے چھو ٹے بتون کے مجسمے اور تصویریں دکانوں میں سجائی ہوئی تھیں۔جس طرح ہمارے یہاں دکانوں میں دکاندار حضرات مختلف تصاویر لگاتے ہیں۔
مارکیٹ میں چند دکانیں مسلمانوں کی بھی تھیں۔ کلمہ طیبہ کے طغرے اُن کے مسلمان ہونے کی شہادت دے رہے تھے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہم اُن سے ملنے گئے۔ مگر وہ کسی نامعلوم وجہ سے لیے دیے رہے۔
شام کو ہم لال قلعہ میں آگئے۔بلوچی دوست مارکیٹ میں خریداری کے لیے چلاگیا۔ہم لال قلعہ کے درودیوار کو حسرت و یاس سے تک رہے تھے۔شاید ہماری آج لال قلعہ سے آخری ملاقات ہو۔
لال قلعہ میں شام کو منعقدہ رنگ و صوت کا شو دیکھنے کے لیے ٹکٹ پہلے ہی خرید لیے تھے۔ شام کے سائے گہرے ہورہے تھے اور پھر اچانک لال قلعہ اندھیروں میں ڈوب گیا۔مستنصر حسین تارڑ اپنی کتاب اندلس میں اجنبی میں اک جگہ اندلس کے الحمرا ء محل میں گذری رات کے متعلق لکھا تھا۔ اُسی طرح میرے لیے لال قلعہ میں رات گذارنا مشکل تھا۔ ہاں اتنا ضرور تھا کہ مجھے لال قلعہ میں رات کا کُچھ حصہ گذارنے کا موقع مل رہا تھا۔
لال قلعہ کے کھلے صحن میں کُرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میرے سامنے خاص محل، رنگ محل، دیوان خاص اور بُرج سمن نظر آرہے تھے۔کُرسیوں کی رو میں، میں اکیلا بیٹھا تھا۔اچانک اک حوا کی بیٹی اپنے ملیح حُسن کے ساتھ میرے ساتھ والی کُرسی پر بیٹھ گئی۔ میں نے ازراہ مروت پوچھا کہ وہ کہاں سے آئی ہے؟ تو وہ کہنے لگیں کہ بنگال سے آئی ہوں۔ ساڑھی میں ملبوس اس بنگالن کا ملیح حُسن چھلک رہا تھا۔ شاید وہ کُچھ اور باتیں بھی میرے ساتھ کرتی لیکن اچانک اُس کا اپنا آگیا اور پھر دونوں اپنے آپ میں ڈوب گئے۔ اور میں اپنے آپ میں محو ہوگیا۔
میری تنہا سفری میرا مقدر تھی فراز ورنہ اِس دہشت سے دُنیا گُذری

دور اندھیروں میں ڈوبا لال قلعہ بہت ہی پُر ہیبت نظر آرہا تھا۔پھر وسیع و عریض دالان اچانک روشنیوں سے جگمگا اُٹھا۔تاروں بھری رات میں لال قلعہ کے صحن میں جلتی بجھتی روشنیوں میں ہم نے تاریخ کا سفر آواز اور روشنیوں کی مددسے دیکھنا شروع کیا۔تاریخ کا یہ
سفر مغلوں سے شروع ہوکر جواہر لال نہرو کی تقریر پر ختم ہوا۔
صوتی اور روشنی کے اثرات کی مدد سے تاریخ اپنی پوری سج دھج سے ہمارے سمانے حاضر ہوگئی۔دُور ہی سے ظلِ الہی کی آواز کانوں میں گونجنے لگی۔ہٹو بچو کی آوازیں اور چوبداروں کی آوازیں۔ پھر شہزادیوں کے قہقوں سے لال قلعہ کے درودیوار کھنکھنا اُٹھے۔ یہ سینکڑوں سال کی تاریخ کا سفر روشنیوں و آواز کی مدد سے دیکھا یا گیا۔
وہ دیکھو شاہ جہاں شہنشاہ ہند کی سواری دریائے جمنا کے کنارے اُتری۔ جگہ کا انتخاب ہوا اور اینٹ گارے سے لال قلعہ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔
16711946_389064361448466_766484080866506097_n

تاریخ کے اوراق میں لکھا ہے : شاہ جہان کو عمارتیں بنوانے کا بہت شوق تھا۔ بادشاہ انجینئر تھا۔ تعمیرات میں ایک مخصوص و خاص مزاج رکھتا تھا۔اُس نے دلی کو اپنا دارلحکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اُس نے جامع مسجد کا نقشہ بنوایا۔ اور ساتھ ہی لال قلعہ کی عمارت بنانے کا ڈول ڈالا۔ ماہرین تعمیرات کو بُلوا کر اُن سے نقشے بنوائے گئے،لال قلعہ کی چاردیواری سُرخ پتھر سے اور قلعہ کے اندر محلات بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔اِ ن میں دیوان عام، دیوان خاص کے خطوط وضع کیے گئے۔شہنشاہ نے ان نقشوں کو بنفس نفیس ملاحظہ کرکے اصلاح کے احکام بھی دیے۔
میر ِ عمارت نے ہر مکان اور ہر محل کی تعمیر کی لاگت کا تخمینہ تیار کیا۔ مُلکوں ملُلکوں سے سنگ مرمر، سنگ سُرخ، سنگ سیاہ، سنگ خارا اور سینکڑوں قسم کے مصالحے اور سامان آنے لگے۔جب لال قلعہ کی بنیاد ڈالی گئی تو بڑے بڑے لوہے کے کڑاہوں او ر تانبے کی نارزوں میں چربی کھولائی گئی۔اور پھلکیوں کی طرح کوری اینٹیں ڈالی جاتیں۔
اینٹیں جب خوب خوب چربی پی لیتیں تو نکال کر ٹھنڈی کی جاتیں اور چونا گچ کے ساتھ بنیادیں رکھی جاتیں۔گچ میں نار نول کے پتھر کی سفیدی، ماش کا آٹا، مردار سنگ،گڑ، السی کا تیل اور لہسن مقشر ڈال جاتا۔پانی بھی چھان کر لیا جاتا۔ سفید ی جو درودیوار پر لگا کر مہرہ کی جاتی وہ گجرات کے ایڈر نامی پہاڑ کی کانوں سے آتا۔اُس سفیدی کا یہ خاصہ تھا کہ جب اُس کی گھٹائی کی جاتی تو یہ بلامبالغہ چمک دمک میں اُجلا آ ئینہ بن جاتی۔اور اُس کے اندر آنکھوں کا سُرمہ دکھائی دیتا اور یہ دیوار دو سو برس تک آبدار رہتی۔
تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ دلی میں عمارتوں کی تعمیر کا کام کیا چِھڑا، گویا جنگل میں منگل ہوگیا۔ ہزاروں معمارر، مزدور اور کاریگر چھولداریوں اور چھونپڑیوں میں آباد ہوگئے۔سنگ تراشوں کی چھینیوں، کاری گرو ں کی دھڑا دھڑی سے کان پڑی آواز سُنائی نہ دیتی۔ ہر دو سو قدم کے فاصلے ایک خیمہ خزانے کا ہوتا۔ جہاں ایک خزانچی، تین محرر اور دس سپاہی روپے کی حفاظت کے لیے حاضر رہتے۔ شام کے چار بجے چھٹا بانٹا جاتا۔ اور کارکنوں کا واجب الادہ پیسہ پیسہ انہیں مل جاتا۔ لال قلعہ کے لاہوری دروازے تک بازار لگا ہو تا۔جہاں سے گندم، جو، باجرہ کے آٹے سے لیکر قسم قسم کی سبزی، مصالحے اور کشمیر و کابل کے میوے مل جاتے۔ بادشاہ کے حکم کے مطابق بازار کی ہر قسم کی اشیاء کی دکانوں میں اضافہ ہوتا رہتا۔
آہستہ آہستہ جامع مسجد، لال قلعہ اور اُس کے اندر کی عمارتیں پایہ تکمیل کو پہنچ گئیں۔ اور شہر نئے سرے سے آباد ہوگیا۔ تو اُس وقت
حضور والا نے دیوان خاص میں تخت طاوٗس پر جلوہ افروز ہوکر جشن ماہتابی منایا۔ او رفرمان جاری کیا کہ فخر البلاد، فر خندہ بنیاد شاہجہان آباد میں جو رعایا آباد ہے،اُس میں خوشحال کم اور اہل حاجت زیادہ ہیں۔ پھر ان میں کاریگر مزدور، بیمار اور پردہ نشین عورتیں ہیں۔ جو برقعہ اوڑھ کر بھی باہر نہیں نکلتیں۔ اس لیے ہر مابدولت حکم دیتے ہیں کہ ترکاری فروش، گوشت فروش، پھل فروش، حلوائی، بڑھئی اور ہر قسم کے اہل فن و ہنر مند سامان خوانچوں میں لگائیں اور کاندھوں پر لادیں یا ریڑھوں پر لاد کر گلی کوچوں میں جائیں اور اپنی جنس و پیشے کا نام لیکر صدا لگائیں تاکہ تما م اشیاء دروازے کی دہلیز پر مل سکیں۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں