انسان اور پروڈکٹ، مگر کیسے؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت دنیا میں سب سے ارزاں خون مسلم ہے لیکن اگر تھوڑی سی وسیع النظری سے دیکھا جائے تو افریقہ کے کافی سارے عیسائی ممالک بھی بد ترین غذائی قلت کی دہشت گردی کا شکار ہیں، اور ان دونوں قسم کے انسانی المیوں کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ نظام اور مختلف شکلوں میں دعوی ربوبیت کا حامل اشتراکی نظام ہے.

عام لوگ شاید انھیں محض معاشی نظام سمجھتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ محض معاشی نظام نہیں ہیں بلکہ عالم انسانیت کے لیے ایک ایسا عذاب ہیں جو بتدریج انسانی فکر و نظر کو اس قدر تبدیل کر دیتا ہے کہ انسان کی حیثیت انسان کی نظر میں اپنے منافع اور مفاد کے مقابلے میں محض ایک پروڈکٹ کی سی ہو جاتی ہے…

انسان اور پروڈکٹ، مگر کیسے؟

اپنے اپنے مفادات کی جنگ کے دوران کسی ایک مطلوب دہشت گرد کو یا کسی انسانی آبادی کے بیچوں بیچ کسی دہشت گردی کے ٹھکانے کو ختم کرنے کے لیے ایسے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے ایک ہی وقت میں مطلوبہ اہداف کے ساتھ ساتھ ہزاروں معصوم انسانی جانیں بھی لقمہ اجل بن جاتی ہیں اور اسی طرح دوسری طرف اپنی اپنی غذائی مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھنے والی وائٹ کالر دہشت گردی کے ذریعے سے ہزاروں انسان بلاتمیز کسی مذہب و رنگ و نسل کے غذائی قلت کا شکار ہو کر طبعی موت سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، اور ان دونوں اقسام کی دہشت گردی کے ذمہ دار یہ دونوں انسان کش معاشی نظام ہیں.

بھاری اور خطرناک قسم کے ہتھیاروں کے استعمال اور غذائی قلت کے ہتھیار سے جتنی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، اگر ان نظاموں میں ان معصوم جانوں کو پروڈکٹ کے بجائے انسانی جان کا مقام حاصل ہوتا تو ضرور کسی مؤثر عالمی فورم پر یہ آواز اٹھائی جاتی کہ..

’’اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے جنگ انسانی جبلت کا حصہ ہے جسے تو شاید نہ بدلا جا سکے لیکن معصوم انسانی جانوں کے زیاں کو روکنے کی خاطر جنگوں کو روایتی ہتھیاروں تک محدود کر دیا جائے اور غذائی اجناس کو قحط زدہ ممالک کے لیے خصوصی سبسڈی دی جائے تاکہ خیراتی این جی اوز کے ڈرامے نہ کرنے پڑیں.‘‘

کسی عالمی فورم پر آپ میں سے کسی نے ایسا مطالبہ یا ایسی تجویز سنی؟ نہیں سنی نا، کیونکہ مرنے والے معصوم انسان ان کی نظروں میں انسان نہیں بلکہ پروڈکٹ تھے.

اسلام ان دونوں نظاموں کے مقابلے میں ایک انسان دوست متبادل معاشی نظام رکھتا ہے، اس لیے امت مسلمہ ہر جگہ کھلی اور جارحانہ دہشتگردی کا شکار ہے اور جو غیر مسلم غریب قومیں اپنے پاس کوئی نظام نہیں رکھتیں، وہ غذائی قلت جیسی وائٹ کالر دہشتگردی کا شکار ہیں.

جب تک یہ استحصالی اور انسان کش نظام موجود ہیں اس وقت تک صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت یونہی سسک سسک کر اور تڑپ تڑپ کر مرتی رہے گی اور حقیقت سے نا آشنا انسانوں کو یہ چورن صبح، دوپہر اور شام دیا جائے گا کہ یہ سب تباہی و بربادی قدیم بیانیوں کی وجہ سے ہے، لہذا ہم نے قیام امن کے لیے شرطیہ نئے پرنٹ کے ساتھ بمع سائیڈ پروگرام کے گرماگرم اور ایک دم تازہ اور جدید متبادل بیانیہ الحاج بلا نائی سے دیگی شکل میں تیار کروایا ہے.

آخری بات!
پیارے پروڈکٹو! اپنی باری آنے سے پہلے اتنا ضرور سوچنا کہ ’’ظلم رہے اور امن بھی ہو! کیا ممکن ہے تم ہی کہو‘‘

بشکریہ
صفدر چیمہ
دلیل.پی کے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں