اپنے بچوں کے لاشے خود ہی اٹھاؤ!

ادلب میں کیمیائی فضائی حملوں کے ذریعے تڑپا تڑپا کر معصوم بچوں کی جان لینے والے ان ”انسانوں“ میں انسانیت کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، لیکن مجھے ان میں انسانیت کی ایک رتی بھی دکھائی نہیں دیتی، چہرے اگرچہ ان کے بالکل انسانوں کی طرح ہیں، ویسے ہی منہ، کان، ناک، ہاتھ اور دوسرے اعضاءبھی، لیکن انسانوں کی سی شکل و صورت ہونے کے باوجود یہ انسانیت سے بالکل محروم دکھائی دیتے ہیں۔ اگر کسی کو اس بات سے اختلاف ہو تو وہ ادلب میں جگہ جگہ پڑے معصوم بچوں کے لاشے دیکھ کر خود فیصلہ کرسکتا ہے۔ یہ شام کا صوبہ ادلب ہے، جہاں اسدی درندے کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے بلا تخصیص بچوں، خواتین اور بوڑھوں سمیت تمام افراد کو تڑپا تڑپا کر موت کے گھاٹ اتارتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کی گلیاں اور سڑکیں مظلوم شامی شہدا کی لاشوں اور زخمیوں سے بھری پڑی ہیں۔ مائیں جان بچانے کے لیے اپنے معصوم بچوں کو اپنے سینوں سے چمٹائے جلد از جلد یہاں سے نکل کر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر اسدی درندے جائے پناہ تلاشتے شامیوں پر بھی بمباری کر کے ان کو موت کی نیند سلا رہے ہیں۔ بمباری کے خوف سے کوئی شخص اسدی جارحیت کی بھینٹ چڑھنے والے شامیوں کی جگہ جگہ بکھری پڑی لاشوں کو اٹھانے کے لیے آگے بھی نہیں بڑھ رہا، کیونکہ یہاں حرکت کرتا دکھائی دینے والا ہر انسان حملوں کی زد میں ہے۔ تمام جنگی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے زخمیوں کو اٹھانے کے لیے جانے والی ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے، صرف یہی نہیں، بلکہ اسدی وحشی و خونخوار فوجی، زخمی شامیوں کا علاج کرنے والے ہسپتالوں اور فلاحی مراکز کو بھی نشانہ بنارہے ہیں اور یہ حملے عالمی قوانین کے مطابق ممنوع قرار دیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔

خونخوار اسد تاریخی بربریت کر کے اپنے مخالفین کو ختم کرنا چاہتا ہے، عالمی برادری کی جانب سے دکھاوے کے چند مذمتی بیانات کو وہ درندہ ہوا میں اڑا چکا ہے۔ عالمی طاقتوں سے تو خیر گلہ ہی کیا، کیونکہ وہ تو ہمیشہ سے مسلم ممالک کو منتشر کرنے کے درپے رہی ہیں اور اسلامی دنیا کے ہر دشمن کی پشتی بان رہی ہیں اور ہر محاذ پر مسلم شمنوں کو تھپکی دیتی آئی ہیں۔ افسوس تو دنیا کے نقشے پر دو درجن عرب اور تین درجن سے زاید غیر عرب مسلم ممالک پر ہے۔ اگر یہ مسلم ممالک بے شرم اور بے حس نہ ہوگئے ہوتے تو اپنے مفادات کی خاطر شام میں بھڑکتی آگ کو مزید بھڑکانے کی بجائے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے، لیکن ان کے ضمیر مرچکے ہیں، اسی لیے وہ صرف خالی خولی اور پھسپھسے بیانات دے کر اپنی ذمے داری سے سبکدوش ہو جانا چاہتے ہیں۔ مظلوم شامی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں عالم اسلام کی جانب دیکھ رہی ہیں کہ شاید وہ بیدار ہوکر ہم پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے درندوں کو روک دے، شاید عالم اسلام ہماری بستیوں کو ملیامیٹ کر کے ہمیں لاشوں کے تحفے دینے والے سفاک قاتلوں کا حساب چکتا کردے، مگر اس سب کچھ کے باوجود نہ تو ابھی تک ہمیں کہیں دور دور ہی سہی، عالم اسلام کے عملی اقدامات دکھائی دیے اور نہ ہی عالم اسلام کی بیداری کے آثار نظر آئے۔

شام میں جاری سفاکیت کو ختم کرانا اور وہاں امن کا قیام عالم اسلام اور اوآئی سی کی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ تمام مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے او آئی سی میں بعض طاقتور مسلم ممالک خود شام کو جلانے والوں اور وہاں بے گناہ معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کے قتل میں ملوث ہیں، جن کے نزدیک صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔ شیعہ سنی کے اختلاف میں ہم یہ بھی بھول چکے کہ شام میں مسلک و مذہب کی لڑائی نہیں، بلکہ ظالم اور مظلوم، قاتل و مقتول، درندوں اور انسانوں کی لڑائی ہے۔ایک جانب گولہ و بارود اور دوسری جانب تڑپتے لاشے ہیں۔مگر ہم اندھے ہوچکے ہیں۔ ہم یہ بھی بھول چکے کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں، بچے تو شیعہ سنی نہیں ہوتے، بچے تو دہشتگرد نہیں ہوتے، بچے تو خدا کے باغ کے پھول ہوتے ہیں اور ان پھولوں کو مسلنے والے درندے ہوتے ہیں چاہے کسی بھی مسلک کسی بھی مذہب سے ہوں، مگر مسالک اور مفادات کو دین پر ترجیح دینے والے مسلم ممال کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ شام میں کتنے بے گناہ بچے قتل ہورہے ہیں، لیکن ہم لوگ ان مسلمان ممالک کے خلاف بھی نہیں بول سکتے، کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کی تمام تر ہمدردیاں صرف اسی ملک کے ساتھ ہیں، جو ہمارے مسلک کے قریب تر ہے، چاہے وہ جتنا بھی ظلم و ستم کرلے، لیکن ہم میں سے کوئی اس کے خلاف بولنے کے لیے تیار نہیں ہے اور تمام بے ضمیر و بے حس مسلم دنیا اسد رجیم کی طرف سے مظلوم شامیوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر لبوں پر گوند لگائے یہ پیغام دے رہی ہے کہ شامیوں اپنے بچے ذبح کرواتے رہو اور خود ہی اپنے بچوں کے لاشے اٹھاتے رہو، کیوں کہ ہم اندھے، گونگے اور بہرے ہو چکے ہیں۔

بشکریہ
عابد محمود عزام
دلیل ڈاٹ پی کے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں