امت کے شامی حصے کا کرب

برا ہو سائنس اور ٹیکنالوجی کا، اس امت پر ہورہے ہر معمولی سے معمولی ظلم سے بھی عام مسلمان باخبر ہوتے جارہے ہیں۔ شام کے علاقے خان شیخون ادلب میں معصوم بچوں کی لاشوں کو اٹھائے ہوئے، ان کے روتے تڑپتے والدین کی تصاویر امت کے علاوہ ساری دنیا نے دیکھ لیں۔ اب ہر کوئی قائدین ملت کو بلا وجہ کوس رہا ہے! اس وقت امت کو اور بھی مسائل درپیش ہیں, جن کی طرف توجہ اس وقت ان کی اصل ترجیح ہے۔ عرب و عجم کے مسلمان مطلق العنان حکمرانوں کی ڈانو ڈول ہو رہی کرسیوں کو ہی لے لیجیے، کتنے خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔

بیزار عوام، بھوکی رعیت، بے روز گار جوانیاں، اور نہتی انسانیت کے سیل رواں کے سامنے بندھ نہ باندھے جائیں تو اپنی اوقات ساری دنیا کے سامنے خراب نہیں ہوجائے گی کیا؟ اس سے بڑھ کر اور کیا پریشانی ہوسکتی ہے کہ دنیا کا واحد چودھری ہماری ملّی محبت کی وجہ سے، ہم سے ناراض اور برہم ہوجائے۔ قائدین ملتِ مرحوم، خدا کی ناراضگی کو انگیز تو کر سکتے ہیں، مگر صاحب بہادر کی ناراضگی مول نہیں لے سکتے۔ آپ بھلا اس کو کسی بھی نام سے پکاریں، بے غیرتی کا طعنہ دیں، امت کے تئیں بے حسی کا طنز اچھالیں، اسلاف کی جرات اور بہادری کا حوالہ دے کر غیرت بھی دلا دیں، یہ سب باتیں ہمیں امت کے اصلی مفاد سے دور نہیں کرسکتی ہیں۔ ہم ملت کے ذمہ دار افراد ہیں اور امت کے مفاد کا تقاضہ یہ ہے کہ اس امت کے سب سے بڑے دشمن کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دوست قرار دیا جائے۔ اس کو بڑے انعام و اکرام سے نوازا جائے، اس کی جی حضوری کی جائے، اس کے غلط کو غلط اور اس کے صحیح کو صحیح کہا جائے۔ یہی اس ملت کے درد کا درماں ہے۔ اس کے سامنے دامن اور ہاتھ پھیلائیں جائیں، اسی میں ملت کی ترقی کا راز ہے۔ اس سے فکر اور خیال میں رہنمائی طلب کی جائے، اسی سے امت کی بقاء کو استحکام میسر آئے گا۔ اس کی جنگ کو امن کہا جائے، اس کی دشمنی کو دوستی کا نام دیا جائے، اس کے ظلم کو کرم اور الفت کے ناموں سے پکارا جائے۔ لبوں پہ تالے چڑھائے جائیں، زبانیں کاٹ دی جائیں، ہاتھ باندھ دیے جائیں۔ یہ سب ناکافی ہو تو دیوانوں، سر پھروں، اور شوریدہ سروں کو تختہ دار پہ لٹکایا جائے، کہ یہ شوریدہ سر ہی تو اس گمراہی کے ذمہ دار ہیں جس پہ ساری امت گامزن ہے۔ بھلا کہیں ظلِ الٰہی کو چیلینج کیا جاتا ہے! اس کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر باتیں کی جاسکتی ہیں! اس کی آواز سے زیادہ آواز کو بلند کیا جاسکتا ہے! یہ تو گستاخی ہے۔ ایسی گستاخیاں قابل گردن زدنی قرار پاتی ہیں۔

مسلمانوں پر بھلا ایسا کون سا طوفان آگیا ہے؟ جو سربراہان ملت سے ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے، کون سا آسمان ٹوٹ گرا ہے؟ تیونس میں ایک مجبور اور مظلوم نے خود سوزی کی، غربت، افلاس، اور بے عزتی کا ایسا ردعمل تو نہیں ہوتا ہے۔ اور پھر اس کے حق میں سارے عرب اٹھ کھڑے ہوئے۔ انقلابات کی زد پر خطہ عربی کو رکھ دیا۔ تختوں کے تخت الٹ دیے، تاجوں کے تاج اچھالے۔ زین العابدین بن علی کی مضبوط حکومت کو گرایا، حسنی مبارک کے دہائیوں پہ محیط ظلم و استبداد کے قلعے کو منہدم کیا۔ یمنی علی عبداللہ صالح کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ اور کرنل قذافی کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ سلسلہ تو بہت دور چلنے کو تھا۔ بھلا ہو جرنل سیسی کا جس نے بڑی کامیابی اور چابکدستی کے ساتھ صدیوں پہ محیط مصری فرعونوں کی روایات کے عین مطابق عوامی خواہشات کا گلا دبایا۔ غزہ اور فلسطین کے معصوموں کی گردنوں پر اسرائیلی چھری رکھ کر قربانی کی نیت پڑھی۔ ہزاروں مصریوں کو قتل و قید کی سزا سنائی۔ اور اس اتحاد کا بھی ہمیں مشکور ہونا چاہیے جس نے یمن کی سر زمین کو لالہ زار کیا، بحرین میں قتل کو جائز ٹھہرایا اور تیونس میں عوامی رائے کا کوئی پاس و لحاظ نہ کیا۔ یہ ظالم و جابر حکمران ہی اصل میں اس امت کے غم خوار ہیں۔ اور اس غمخواری میں سب سے بڑا حصہ شام کے بشار الاسد کا ہے۔ جس کی پشت پر انقلاب اسلامی اور جس کا ہراول سرخوں کا مرہون منت ہے۔ اس ملت کے خیر خواہ نے تو اپنے ظالم و جابر باپ حافظ الاسد کو بھی پیچھے چھوڈ دیا۔ اس نے شام کے حماء شہر میں صرف 40 ہزار لوگوں کا ایک ساتھ قتل عام کیا۔ بشار نے 5 لاکھ لوگوں کا قتل عام صرف پچھلے 6 سالوں میں انجام دیا۔ ہزاروں کو قید و بند کی صعوبتوں سے گذارا۔ لاکھوں کو بے گھر کیا۔ لاکھوں بچوں سے صرف ان کے مستقبل ہی نہیں، بلکہ ان کے والدین کوبھی چھین لیا۔ ملت کی پردہ دار ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو چادر سے محروم کر کے یورپ کے بے حیا بازاروں کی زینت بننے پر مجبور کردیا۔ سردیوں اور برف باریوں میں بے آسرا خاندانوں کو موت کی وادیوں اور صحراؤں میں کھلے آسمان تلے دھکیل دیا۔ ایک بار نہیں، بلکہ بار بار کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے بے گناہ عورتوں اور بوڑھوں کو تڑپا تڑپا کے موت کی نیند سلادیا۔ پھو ل جیسے معصوم بچوں کے جسم زہریلی گیس سے اکڑ گئے لیکن اس بے غیرت اور ظالم حکمران کی اکڑ نہ گئی۔

عرب لیگ اور او آئی سی نے نشست و برخاست کی مشق سینکڑوں بار پہلے بھی کی ہے، اب کے بھی کرے گی۔ بلکہ عرب لیگ نے تو عمان میں 30 مارچ کے اجلاس میں ثابت ہی کردیا کہ امت کے نام نہاد بہی خواہوں کو ملی مفادات سے زیادہ اپنی نیند پیاری ہے۔ شام کے روتے بلکتے بچوں کی چیخیں بھی ان مدہوشوں کی بیداری کے لیے ناکافی ہے۔ امن کے ٹھکیداروں اور اقوام متحدہ کی خصوصی طاقتوں سے کیا گلہ کہ درون خانہ بیٹھے چنگیزیوں نے ہی جب امت کا دامن تار تار کیا ہے، غیر کی پھر کیا شکایت۔ انہوں نے افغانستان و عراق، فلسطین و کشمیر اور شرق و غرب میں کون سی کسر باقی چھوڑ رکھی ہے جو اب کوئی خیر کا معجزہ دکھانے نکلیں گے۔ اندرون و بیرون امن و سلامتی کی کونسلوں کے لبادے میں چھپے ہوئے ان سانپوں نے صرف انسانیت کو ڈسا ہی تو ہے۔ حجاج ظالم تھا کہ مردان کار کے سامنے پامردی کے ساتھ آیا، مگر بیٹیوں کی چیخ تو برداشت نہیں کرسکا نا، لغت فقہیہ شہر کے نزدیک برا ٹھہرا۔ عمر نے ایک اونٹ اور ایک غلام کی ہمراہی میں یثرب سے فلسطین کا سفر صرف امت اور انسانیت کے درد میں کیا، ہمارے حکمران ہفتے بھر کا سفر ہزاروں خادموں اور ٹنوں سامان کے جلو میں کرتے ہیں۔ البتہ تقوی، زہد، اور خدمت امت کا سارا بار گراں بھی نہتے اور ضعیف لوگوں کے دکھ و درد سے پرے رکھے ہوئے ہے۔ امت کے ہر کرب سے بے پرواہ ان ظالموں کا حساب تو ہوگا ہی۔ جلد یا بدیر، اللہ منصف اپنی انصاف کی لاٹھی سے سب کو ہانکے گا۔ آئے ہم امت کے درد کو محسوس کریں، اس کرب سے امت کو نکالنے کی سعی کریں، اپنی سی کوشش کریں۔ ممکنات کی آخری حدوں تک جا کر اپنی صلاحیتوں کی پونجی گنوادیں۔ یہ سودا گھاٹے کا نہیں فائدے کا سودا ہے۔ رب سے سودا کریں، رب کی طلب میں خیر امت کا فریضہ انجام دیں۔

بشکریہ
واحد بشیر
دلیل ڈاٹ پی کے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں