فتح جنگ کے ہونہا ر سپوت۔ ملک غلام صابر

تحریر: آصف جہانگیر خان
فتح جنگ کے ہونہا ر سپوت۔ ملک غلام صابر
ملک غلام صابر صاحب کو بچپن میں دیکھا اور آئیڈیالائز کیا۔ ماشاء اللہ خوبصورت پرسنیلٹی کے مالک تھے اور ہیں اب بھی۔ سیاست کا رومانوی دور بھی دیکھ رکھا ہے اور انتظامی عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔
ان کی پیدائش 1943ء فتح جنگ کی ہے جبکہ میٹرک میٹرک گورنمنٹ بوائز ہائی سکول نمبر ۱ یک فتح جنگ سے 1958ء میں کیا۔بی اے گورنمنٹ اصغر مال کالج راولپنڈی سے جبکہ ایل ایل بی یونیورسٹی لاء کالج سے 1965 میں کیا۔

اٹک سے وکالت کے آغاز کے ساتھ عملی زندگی کا سفر شروع کیا۔ نامور وکیل احمد رضا قصوری صاحب کے کلاس فیلو بھی رہے۔اٹک میں سردار ممتاز علی خان (سابق وفاقی وزیر) کے ہم عصر احمد وحید اختر کے ساتھ پیپلز پارٹی سے نظریاتی وابستگی کا اظہار کیا۔1974ء میں بطور ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر شمولیت اختیار کی۔

پہلی تغیناتی راولپنڈی شہر میں بطور مجسٹریٹ ہوئی۔ڈی سی ابو شمیم محمد عارف اور کمشنر مسعود مفتی تھے۔پھر دوسری تغیناتی کہوٹہ میں بطور ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کے طور پر ہوئی۔بعد میں ترقی کرکے دفعہ تیس کے جوڈیشنل مجسٹریٹ آگئے۔جو اُس زمانے میں براہ راست ہائی کورٹ کے ماتحت ہوتا تھا۔
اس کے بعد اے ڈی سی سرگودھا تغیناتی ہوئی۔سرگودھا ضلع کی پر تحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر رہے۔وہی ترقی بھی ہوتی رہی اور بعد ازاں ڈپٹی کمشنر کے عہدہ تک بھی فائز رہے۔

مشرف کی ڈکٹیٹر شپ میں جب 2000ء میں ناظم سسٹم آیا تو ڈی سی او بننے سے معذرت کرلی۔چند سال کے بعد باعزت طریقے سے ریٹائرمنٹ لے لی۔گورنر پنجاب کی خصوصی ہدایت پر سرگودھا یونیورسٹی میں اعلی عہدے پر فائز ہوئے۔آج کل لاہور میں ہاوٗسنگ سوسائٹی کے ایم ڈی ہیں۔

ملک غلام صابر نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔نظریاتی لوگوں سے جو پیپلز پارٹی کی بنیاد بنے،سے خصوصی محبت رکھتے تھے۔مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کو بہت قریب سے دیکھا۔اُن کے بعد کے حکمرانوں سے بھی واسطہ پڑا۔اور ہر دور کے بارے میں بڑی مستند رائے رکھتے ہیں۔اور اِ س کے بارے میں تفصیلاٌ گفتگو کے لیے ایک طویل نشست کی ضرورت ہے۔

اگلی نشست میں اِن کی پرویز مشرف سے ملاقات جس میں غلام صابر صاحب نے اُن سے متعارف کرائے گئے بلدیاتی سسٹم کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، کے بارے میں بھی شائع کیا جائے گا
fatehjang
IMG-20170423-WA0016

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں