شاعر، محقق و کالم نگار۔۔۔۔۔۔۔۔ فتح جنگ (جھنڈیال) کے محمد اظہار الحق

شاعر، محقق و کالم نگار۔۔۔۔۔۔۔۔ فتح جنگ (جھنڈیال) کے محمد اظہار الحق
تحصیل فتح جنگ کے گاوٗں جھنڈیال سے تعلق رکھنے والے نامور شاعر، محقق و کالم نگار محمد اظہار الحق کا تعلق اس خاندان سے ہے جوکہ رومی، جامی اور سعدی کی روایات کا امین ہے۔اور نسل در نسل اس روایت کو با احسن خوبی نبھا رہا ہے۔یہ وہ خاندان ہے جوکہ ہمارے عظیم ادبی ورثہ کا امین ہے۔

محمد اظہار الحق 14 فروری 1948ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی بنیادی تعلیم اپنے والدصاحب اور دادا سے حاصل کی۔ آپ کے والد حافظ محمد ظہور الحق ظہو ر اور داد ا مولانا غلام محمد اپنے وقت کے جید عالم او ر فارسی کے استاد تھے۔
بقول محمد اظہار الحق جھنڈیا ل گاوٗں میں ایک وقت میں تقریبا دو سو کے قریب فارسی و فقہ کے طالب علم موجود تھے۔ جو کے جھنڈیا ل گاوٗں میں ایک الگ قبرستان میں مدفن ہیں۔

ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کرنے کے بعدگورنمنٹ کالج راولپنڈی سے گریجویشن کی اور گولڈ میڈل کے ساتھ بی اے پاس کیا۔
اس شاندار کامیابی کے بعد آپ نے فیڈرل گورنمنٹ کی سکالر شپ پر ایم اے اکنامکس ڈھاکہ یونیورسٹی سے کیا اور بعد میں پنجاب ہونیورسٹی لاہور سے ایم اے عربی کی ڈگری بھی مکمل کیا۔
آپ نے اُزبک زبان بھی سیکھی۔ 1972ء میں آپ نے مقابلے کا امتحان(سی ایس ایس) پاس کیا اور ملٹری
اکاوٗنٹس کے شعبے میں اعلی ترین عہدوں تک ترقی بھی حاصل کی۔
آپ نے 2008ء میں ریٹائر منٹ حاصل کی اور آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کو 2008 ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا۔

قومی ترقی اردو کے ادارے کے ساتھ محمد اظہار الحق نے ارد و زبان کے نفاذ کے لیے بھی کام کیا۔اور اسی ادارے کے تحت چھپنے والی انگریزی اردو ڈکشنری میں بھی آپ کی معاونت شامل رہی۔

آپ کے والد حافظ محمد ظہور الحق ظہور نے سات سال کی عُمر میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ فارسی زبان و ادب اور فقہ حنفی کی کتابیں اپنے والد مولانا غلام محمد سے پڑھیں۔ صرف و نحو کی کتابیں اپنے بڑے بھائی محمد سیف الرحمان سے پڑھیں جبکہ تفسیر و احادیث پنڈی گھیب کے مولانا شمس الدین سے پڑھیں۔در س نظامی کی کتابیں بھی پڑھیں اور پنڈی گھیب کی دارے والی مسجد میں بطور خطیب کے فرائض سرانجام دیے۔ پنجاب یونیورسٹی سے امتحان پاس کرکے بعدازاں پنڈی گھیب میں بطور استاد کے بھی فرائض سرانجام دیے۔
ضلع اٹک میں رومی، جامی و سعدی کی روایات کو آپ کے خاندان نے اچھے طریقے سے نبھایا اور اب بھی نبھا رہے ہیں۔ اِس دور میں ان روایات کو زندہ رکھنا بھی ایک کارخیر ہے۔
محمد اظہار الحق کے کلام میں بھی اسی ادبی ورثہ کی چاشنی موجود ہے۔ پچیس سال پہلے آپ کی ایک نظم جو آپ نے غرناطہ میں لکھی کے چند اشعار بے مثل ہیں

سب زیتون کے باغ اسی سے سارے شہر میں چراغ اُسی سے
ہاتھ سمندر کی نبضوں پر رکاب میں الحمراٗ
رِستے زخم کی تصویر میں ایک دمک ، ایک میں کسک
سُرخ نہریں الحمراء اور سُرخ گلاب میں الحمراء
جس دن فلک میں تارا ٹوٹا، سامنے آئی گی تعمیر
صدیوں میں پھیلی ہوئی رات کے سچے خواب میں الحمراء

محمد اظہا رالحق کی تصانیف میں دیوارِآب، غدر، پیر آزاد اور پانی پہ بچھا تخت شامل ہیں۔ آپ نے اردو شاعری میں چار کتابیں لکھی ہیں۔
آپ کی تصانیف دیوار ِ آب کو آدم جی ایوارڈ اور جبکہ پانی پہ بچھا تخت کو 2003ء علامہ اقبال ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
یاسمین حمید نے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس0 201ء کے لیے، آپ کی نظموں کا انگریزی ترجمعہ بھی کررکھا ہے
آپ کا شعری مجموعہ جس میں آپ کی مکمل شاعری شامل ہے، کئی موسم مجھ پر گذر گئے، کے نام سے 2012ء میں شائع ہوئی۔ جس نے شاندار پذیرائی حاصل کی۔

آ پ کا کالم ایک مقامی اخبار میں خارزار قلم کے عنوان سے باقاعدہ شائع کیا جاتا ہے۔ آپ کے کالم زیادہ تر سیاسی، معاشرتی و مذہبی عنوانات کا احاطہ کیے ہوتے ہیں ۔ فارسی و اردو ادب پر ایک اچھی گرفت ہونے کی بناء پر آپ کا کالم کئی حلقوں میں خصوصی پسند کیا جاتا ہے۔
انگریزی اخبار دا نیوز، بنگلہ دیش ٹوڈے اور دا ایج (آسٹریلیا) میں بھی گاہے بگاہے آپ کے کالم شائع ہوتے رہتے ہیں image004

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں