فتح‌جنگ کے شاعر وحید اختر ثاقب اور اسلم نتھیالی

وحید ثاقب بنیادی طور پر ایک درویش منش اور صوفی صفت انسان ہیں۔ جو کہ اب مکمل گوشہ نشینی کی زندگی بسر کررہے ہیں اور اپنے شب و روز اللہ کی یاد میں گزارنے میں مصروف ہیں۔ تاہم اپنی جوانی انہوں نے نہایت بھرپور انداز میں گذاری۔
وحید اختر ثاقب کا تعلق ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ سے ہے لیکن ایک دورافتادہ مقام پر براجمان رہ کر بھی وہ شاعری کی شمع روشن کیے ہوےٗ ہیں۔
وحید اختر ثاقب نے اپنی شاعری کا آغاز 1976ء میں کیا۔ اس صنف میں وہ اپنے استاد شاکر بیگ بتاتے ہیں جوکہ وفاقی دارلحکومت کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ملازم تھے۔ فتح جنگ کے گردونواح میں ان کے چھبیس شاگرد رہ چکے ہیں۔ جنہیں وہ طرح مصرح دے کر ان پر طبع آزمائی کرنے کو کہتے اور پھر پندرہ دن بعد اپنے شاگردوں کے کلام کی اصلاح کرکے مشاعرہ کا انعقاد کرتے،
عبدالوحید ثاقب حلقہ ارباب سخن فتح جنگ کے جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے احمد فراز، شبنم شکیل، افتخار عارف، سردار انبالوی، لیفٹنٹ جنرل ر محمود الحسن، ناصر زیدی، ڈاکٹر صفدر ہاشمی، پروفیسر سعداللہ کلیم، حکیم شعلہ جالندھری اور بابائے تھل فاروق روکھڑی کے ساتھ مختلف مشاعروں میں کلام پڑھنے کا شرف حاصل کرچکے ہیں۔ اور اٹک میں دو کُل پاکستان محافل شاعری منعقد کروا چکے ہیں۔
شاعری کی جستجو میں وہ ہر ہفتے راولپنڈی آیا کرتے اور سردار انبالوی کی رہائش گاہ پر ہونے والے مشاعرے میں شریک ہوتے۔ مزاحیہ شاعری بھی کرتے رہے ہیں جوکہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک مزاحیہ ماہنامے میں باقاعدگی سے شائع ہوا کرتی اور اس وقت ایک نظم کا معاوضہ پانچ سو روپے وصول کرتے جوکہ اس وقت بہت بڑی رقم تصور کی جاتی تھی۔
وحید اختر ثاقب کے والد صوفی فضل سچے مومن انسان تھے۔ ساری زندگی انہوں نے بھی درویشی اور توکل میں گذاری۔ چھوٹا سا مکان دونوں باپ بیٹا کا اثاثہ تھا جہاں وہ یاد اللہ میں مصروف رہتے۔
وحید ثاقب میرا بچپن کا دوست ہے اور اُن کی والدہ کی وفات کے بعد ان کی تنہائی بٹانے کے لیے مسلسل ان کے گھر بھی جاتا رہتا تھا۔
انہوں نے بہت زبردست طبع ظرافت بھی پائی ہے کہ روتوں کو باتوں باتوں میں ہنسا دیتے ہیں۔ اپنے حلقہ احباب میں میں نے اُن سے زیادہ کسی کو موقع محل کے مطابق شعر کہتے نہیں سنا۔ بلاشبہ سینکڑوں اشعار انہیں ازبر ہیں۔
ان کا ایک مشہور شعر ہے۔
ہم تو ثاقب فقط تماشا ہیں۔۔ اور ساری دنیا تماشائی ہے
وحید اختر ثاقب شاعری میں غالب، احمد فراز اور منیر نیازی کو اردو ادب کا بڑا شاعر قرار دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ طرح مصرح سمجھنے کے لیے بیس سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔
ظفر احمد بھٹی کو ضلع اٹک کا بڑا شاعر قرار دیتے ہیں جنکے پاس پاکستان کے بڑے بڑے شاعر اصلاح لینے کے لیے آیا کرتے تھے۔میاں
جمعہ خادم کو بھی اچھا شاعر قرار دیتے ہیں۔ ملک عطاء محمد خان آف کوٹ فتح خان کو ادب دوست اور ادب نواز شخصیت قرار دیتے ہیں۔
ملک کے دیگر ترقی پذیر شعبہ جات کی طرح شاعری کے فن کے فروغ کے لیے وہ کہتے ہیں کہ حکومت کو اس شعبہ کی سرپرستی کرنی چاہیے اور ضلع اور تحصیل کی سطح پر بھی ہر پندرہ دن بعد مشاعرے منعقد کروانے چاہیں۔
پاکستان میں ہونے والی شاعری کو بھار ت کی اردو شاعر ی کے مقابلے میں وسیع اور جاندار قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پورا بھارت مل کر بھی عدم، احمد فراز، قتیل شفائی اور احسان دانش کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ البتہ بھارت میں ساحر لدھیانوی، شکیل بدایوالی، فراق گورکھپوری کے بعد شاعری میں کوئی بڑا نام پیدا نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ معروف بھارتی شاعر اجندر سنگھ بید ی نے اٹک کو ادبی لحاظ سے زرخیز قرار دیا تھا۔

وحید اختر ثاقب کے کلام میں منتخب چند اشعار قارئین کی نظر

دراز پلکوں کی نرم جنبش لگا کر ایسی لگن لگی ہے
نہ دل سے کانٹے نکل سکے نہ درد کی وہ چھبن گئی ہے
الجھ کر زہرہ جمال لوگوں کے پیچ در پیچ گیسووٗں میں
کسے خبر کہ اپنی قسمت بگڑ کے بن گئی ہے

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں