خالو بشیر کے کویت سے فتح جنگ تک کار سفرکی روداد

تحریر: آصف جہانگیر خان
خالو بشیر ماشاء اللہ 75 سال کی عمر کے پیٹے میں ہیں۔ من موجی قسم کے انسان ہیں۔ اب بھی بھرپور طریقے سے زندگی کو بسر کررہے ہیں۔خالو بشیر ساٹھ کی دہائی میں کویت گئے تھے۔ اُس وقت فیلڈ مارشل ایوب خان کا دورِ حکومت تھا اور پاکستان ایک بھرپور صنعتی و معاشی کامیابی کے سفر پر گامزن ہوچکا تھا۔پوری دنیا سے وفود ہمارا اقتصادی ماڈل دیکھنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ اور اپنے ممالک میں ان ہی منصوبوں کے جیسے ترقیاتی منصوبوں کے معائدے کرکے جایا کرتے تھے۔
تب مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے نام سے دو انتظامی ماڈل تھے اور ملک میں امن شانتی کا دور دورہ تھا۔ انہی ادوار میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے سیاست دانوں کی ایک گول میز کانفرنس کسی مسئلہ کے بارے میں طلب کی تھی۔
مشرقی پاکستان کے تمام سیاسی لیڈران مین پشاور روڈ راولپنڈی پر اب واقع اسلامک انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی عمارت میں قیام پذیر ہوئے تھے اور لال کڑتی پنڈی کی ایک عمارت کے چھوٹے سے ہال میں یہ گول میز کانفرنس منعقد کی گئی تھی۔
پھر نانجانے کس کی نظر اُس شاندار پاکستان کی ترقی کے سفر کو کھا گئی کہ معیشت اُس کے بعد اپنے قدموں پر کھڑی نہیں ہوسکی اور ہر بجٹ میں آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت ہوتا جارہا ہے اور غیر ملکی قرضوں کا ٹیکہ بجٹ کے فرق کو بھرنے کے لیے لگا نا پڑتا ہے۔
خالو بشیر انہی گول میز کانفرنس کے دنوں میں کویت بسلسلہ روزگار چلے گئے تھے۔ کویت خلیج فارس میں اک چھوٹا سا معدنی تیل سے مالا مال اسلامی ملک ہے۔
خالو بشیر نے کویت میں ایک چھوٹی سے ڈاٹسن کار کچھ بچت کرکے خرید لی اور ملازمت سے ملنے والی چھٹیوں کے دوران بچوں کے ساتھ بذریعہ کار پاکستان کے سفر کی ٹھان لی۔
کویت سے بذریعہ کار سفر کرنے کے آغاز کے بعد اُن کا پہلا پڑاو ٗ کویت کے پڑوسی ملک عراق کے شہر میں بصرہ میں ہوا۔ یہاں انہوں نے شط العرب کو کراس کیا۔جوکہ مشہور زمانہ دریاوٗں دجلہ اور فرات کے سنگم پر واقع ہے۔
اس کے بعد ان کا گذر حافظ سعدی اور فردوسی کے ملک ایران سے ہوا۔ ایران کا سفر دوہزار کلومیٹر سے زائد کے فاصلے پر مشتمل تھا۔
ایران میں خالو بشیر کا قیام برلب سڑک واقع موٹلز میں ہی ہوتا رہا۔
مشہور ایرانی شہر خراسان کی بھی سیر کی۔ اور یہاں واقع حضرت امام رضا کے روضے کی بھی زیارت کی۔
ایران کے بعد خالو بشیر افغانستان میں داخل ہوئے۔ ہرات اور قندھار سے ہوتے ہوئے ایک طویل سفر طے کرتے ہوئے کابل تک کا سفر طے کیا۔ افغانستان ان دنوں یورپی و دیگر ملک کے لیے اپنے اندر کشش رکھتا تھا اور بہت سے ممالک کے سیاح پاکستان سے ہوتے ہوئے افغانستان کا سفر کیا کرتے تھے۔
کابل میں ایک رات کے قیام کے بعد بذریعہ جلال آبا د پاکستان میں داخل ہوئے اور پشاور آکر قیام کے بعد پھر اپنی منزل مقصود فتح جنگ ہی آکر رکے۔
خالو بشیر کی اس یادگار سفر کی رفیق ڈاٹسن کار بعد میں بھی ایک طویل عرصہ تک ان کے زیر استعمال رہی۔
خالو بشیر اب بھی اس سفر کی روداد نوخیز نسل کے اصرار پر بہت انہماک سے سناتے ہیں

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں